نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں نقطے اور صحافی کا نامعلوم فریق ثانی

نظیر اکبر آبادی 1746 کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور 1830 میں وفات پائی۔ مہ و سال کے تناظر میں یوں جانیے کہ میر تقی میر سے کوئی 25 برس بعد پیدا ہوئے اور ربع صدی بعد انتقال ہوا۔

گویا زمانی طور پر ہم عصر تھے۔ افتاد طبع کا فرق یوں سمجھا جائے کہ میر تقی کو چاند میں ایک صورت نظر آتی تھی اور نظیر اکبر آبادی چاند میں روٹیاں دیکھتے تھے۔ دونوں نے فورٹ ولیم کالج قائم ہوتے دیکھا لیکن منشی نول کشور کا مطبع ان کے بعد کی بات ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کی تاج پوشی کے ساتھ آنکھ کھولنے والے نول کشور 1857 کے بعد اشاعتی دنیا میں داخل ہوئے۔ ملکہ وکٹوریہ نری ملکہ تھوڑی تھی، اسے اخلاقی تطہیر سے بھی شغف تھا۔ لندن میں دربار تک رسائی تو الفریڈ ٹینی سن کو ملتی تھی لیکن ہم عصر ریا کاری کے پردے رابرٹ براؤننگ کھولتا تھا۔ سرکاری اخلاقیات نے ڈکنز اور آرنلڈ کی قبا اوڑھ رکھی تھی لیکن تکیوں کے نیچے فینی ہل کے نسخے رکھے تھے۔ شبینہ محفلوں میں آسکر وائلڈ کا طوطی بولتا تھا۔

خسروان وقت کے اطوار اہل کاروں میں بھی رنگ دکھاتے ہیں۔ ہندوستان میں فرنگی صاحب بہادر اور ان کے مقامی نام لیوا بھی ملکہ عالیہ کے اتباع میں طہارت کے دعوے دار ہو گئے۔ مطبع نول کشور نے نظیر اکبر آبادی کا کلام شائع کیا تو ہر دوسری سطر میں کوئی بولتا ہوا لفظ ایسا نگینے جیسا جڑا تھا جو پورے انسان کو بیان کرتا تھا لیکن چھپرکھٹ کی منافقانہ چادر سے پاؤں باہر نکالتا تھا۔ منشی نول کشور نے ایسے تمام لفظوں کی جگہ چار نقطے رکھ دیے۔ حرف، سانس اور آنکھ سے ڈرنے والوں کا زمانے میں یہی طور چلا آتا ہے۔

ہماری صحافت پر ان دنوں ایسی ہی آزمائش ہے۔ اب ہم چار نقطوں کے بھی روادار نہیں رہے۔ ہم نے اردو کی گرامر ہی بدل ڈالی۔ معتوب حقیقی کا نام کھل کے لکھتے ہیں، ستم گر کا ذکر آتا ہے تو جملے سے فاعل ہی غائب کر دیتے ہیں۔ اس مفعول بیان سے صحافی مجہول ہوتا ہے، فریق ثانی نامعلوم قرار پاتا ہے اور معنی منفعل۔ زیر نظر کالم میں اگر کہیں بر بنائے کثافت چار نقطے نظر آئیں تو اس کا ثواب نظیر اکبر آبادی کو پہنچے۔ ایک کاٹ دار کالم سے توسن طبع مہمیز ہوا ہے۔ روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ۔ یوں بھی صحافیوں کا ایک دوسرے سے ربط ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کالی شلوار کی سلطانہ کا بندوں والی ہمسائی مختار سے تھا۔ سب کا اپنا اپنا شنکر ہے۔

محترم صحافی لکھتے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ ’بارہ تیرہ سال…. کے ساتھ ان کے تعلقات خراب رہے۔ اِس لئے انہیں اِس خلیج کو پر کرنے پر توجہ دینا چاہئے‘۔ کیسی معقول بات کہی۔ یہ نہیں کہا کہ ایسی کوشش تو اس فریق کو کرنی چاہیے جس نے طاقت کے بل پر ایک منتخب وزیر اعظم کو معزول کیا، قید کیا، ایسے مقدمے میں سزا سنائی جس کا کوئی اور چھور ہی نہیں تھا اور پھر ایک مبینہ تاہم یقینی طور پر غیر قانونی معاہدے کی مدد سے جلاوطن کیا۔ پاکستان کی سرزمیں پر نو برس تک ایسا اقتدار مسلط کیا جو عدالت عظمیٰ کی توثیق کے باوجود آئینی طور پر محل نظر تھا۔ احتساب کو سیاسی جماعتیں بنانے اور بگاڑنے کا آلہ بنایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے اس بے ڈھب طریقے سے ڈھال بنایا کہ ستر ہزار جانیں ضائع ہوئیں، لاکھوں شہری معذور اور بے گھر ہوئے، اربوں کی جائیداد تباہ ہوئی۔ ملکی وسائل برباد ہوئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غیر شفاف ریاستی موقف کے باعث پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ دو کوڑی کی ہو گئی۔

ہمارا محترم صحافی مگر ایک منتخب وزیر اعظم کو مشورہ دیتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے صریح احکامات کے باوجود نواز شریف کے لئے سرافگندہ ہونا ہی واجب تھا۔ (حوالے کے لئے 31 جولائی 2009 کے فیصلے سے متعلقہ توفیق آصف اور مولوی اقبال حیدر کی آئینی درخواستیں اور ان پر عدالت عظمیٰ کے احکامات دیکھیے۔)

محترم صحافی نواز شریف کے اس اقدام کے لئے ’چند نام نہاد انقلابیوں اور خوشامدیوں‘ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ نام نہاد انقلابیوں کے ساتھ ساتھ کچھ حقیقی انقلابیوں اور خوشامد سے نفور کرنے والوں کے اسمائے گرامی بھی درج کئے جاتے۔ (ستمبر 2013 کے کالموں کی فائل ابھی پرانی نہیں ہوئی۔) کچھ معلوم تو ہوتا کہ حقیقی انقلابیوں اور حق گوئی کے پتلوں کے پاس وہ کون سی گیڈر سنگھی تھی جو میمو گیٹ کے ہدف آصف زرداری اور ڈان لیکس کے گولے کی زد میں آنے والے نواز شریف کو معلوم نہیں تھی۔

اسی سانس میں محترم صحافی فرماتے ہیں کہ ’میرا موقف تھا کہ اگر مقدمہ قائم کرنا ہے تو پھر صرف…. کیوں اور وہ جج اور سیاستدان کیوں نہیں جو سہولت کار بنے‘۔ اللہ اللہ! ایک طرف تو فراد واحد کے خلاف آئینی کارروائی سے گریز کا مشورہ اور دوسری طرف نوح کی کشتی میں سوراخ کرنے کی تجویز۔ اور اس میں فریق ثانی کے دست راست افراد کا ذکر غائب۔ تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح۔

بت تراشی کے قصے بھی عجیب ہیں۔ ابھی طیب اردوان کی قصیدہ گوئی کا غلغلہ جاری ہے۔ شاید خبر نہیں پہنچی کہ ترک رئیس نے حال ہی میں پاکستان کے بارے میں گہر افشانی فرمائی ہے۔ محترم صحافی لکھتے ہیں کہ ’ان کی حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے گئے…. ان کی معافی قبول نہ ہوئی…. میڈیا کو ان کے خلاف لگا دیا گیا…. انہیں مودی کا یار باور کرایا گیا۔ لاک ڈاﺅن سے ان کو مزید کمزور کردیا گیا…. پانامہ کو ان کے خلاف اِس طرح استعمال کیا گیا کہ ان کو وزارتِ عظمیٰ سے بھی محروم ہونا پڑا۔‘ آپ نے اردو صرف و نحو میں تصرف ملاحظہ کیا۔ ہمیں تو سوال کا یارا نہیں لیکن مؤرخ محترم صحافی سے فریق ثانی کا نام پتہ ضرور پوچھے گا اور سوال کرے گا، کس نے؟ صاحب کس نے؟

آنے والا محترم صحافی سے یہ بھی پوچھے گا کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ دفن کیا گیا تو آپ کے قلم میں زلزلہ برپا ہو گیا۔ جب اس بیانیے کا علم بلند کیا گیا تو آپ لکیر کے کس طرف کھڑے تھے۔ آپ نے ’ووٹ کے لئے عزت‘ کا مطالبہ کیا؟ اور اگر جوب نفی میں آیا تو آپ کے نام کی جگہ بھی چار نقطے رکھ دیے جائیں گے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...