استنبول کی تقریب میں امجد اسلام امجد کی انگریزی تقریر پر پاکستانیوں کی پریشانی

21  دسمبرکو استنبول کے   شاندار ہالچ کانگرس سنٹر میں  ممتاز ترک شاعر ، مفکر اور نثر نگار نجیب فاضل کی یاد میں تقسیم کئے جانے والے  سالانہ ایوارڈ کی  تقریب منعقد ہوئی۔  اس سال  چھٹی بار یہ ایوارڈ دیے گئے تھے ۔ ایوارڈ لینے والوں میں پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب ، ڈرامہ نگار اور استاد امجد اسلام امجد بھی شامل تھے۔

اس  پر وقار تقریب میں ترکی کے صدر  رجب طیب اردوان  مہمان خصوصی کے طور پر شریک تھے۔ پاکستان میں یہ خبر پہنچنے اور سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر عام ہونے کے بعد بعض پاکستانیوں نے اس پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ امجد اسلام امجد  اردو کے شاعر و ادیب ہیں تو انہوں نے اس تقریب میں اردو میں خطاب کرکے   پاکستان کی قومی زبان کی شان و مرتبہ میں اضافہ کیوں نہیں کیا۔ امجد اسلام امجد نے اپنے طور پر اس اعتراض کی مناسب وضاحت کی ہے لیکن راقم الحروف چونکہ خاص طور سے اس تقریب میں شرکت کے لئے ناروے سے استنبول گیاتھا اور اس پورے وقوعہ کا عینی شاہد ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریب اور امجد اسلام امجد کی انگریزی تقریر کا کچھ احوال بیان کردیا جائے تاکہ صورت حال واضح ہوسکے۔

اول  تو  کسی دوسرے ملک میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اردو میں خطاب  کا مطالبہ  پاکستان کے معروضی حالات اور اردو سے ہماری سطحی  محبت کے  تناظر میں بے بنیاد اور مضحکہ خیز  لگتا ہے۔   شاید اردو سے ہماری محبت کی انتہا یہی ہے کہ   دوسروں سے اردو بولنے اور ہر موقع پر اسے استعمال کرنے کا مطالبہ کرلیں۔ اس کے بعد ہم  خود کو اپنی زبان شناسی، اس کی ترویج اور اس کے واجب احترام کے فرض سے  بری الذمہ سمجھیں۔ اسی قسم کے مطالبے سیاسی لیڈروں سے بھی کئے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیر اعظم کی انگریزی اور بھارتی وزیر اعظم کی ہندی میں تقریر ہمارے قومی ضمیر پر تازیانہ ثابت ہوتی ہے لیکن عام زندگی میں اردو  کو  وقار دینے اور اپنی بول چال  کا حصہ بنانے  کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حتی کہ ہم انگریزی کتابیں پڑھنے، انگریزی فلمیں دیکھنے،  اپنے پہنواوے کو مغربی انداز میں ڈیزائن کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔

 اردو زبان و ادب سے ہماری شیفتگی کا کچھ اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اردو سے زیادہ انگریزی زبان  کی کتابیں فروخت ہونے لگی ہیں۔ کوئی ’پڑھا لکھا‘ شخص اردو کتاب کو خریدنا ضروری نہیں سمجھتا۔   بلکہ   توقع  کی جاتی ہے کہ  کوئی بھی اردو مصنف خود ہی اپنی تصنیف    مفت  پیش کردے تاکہ ہم اس کی ورق گردانی کرکے مصنف اور اردو پر احسان کرسکیں۔ پاکستان میں منعقد ہونے والے کتاب میلوں میں  انگریزی کتابوں کی  موجودگی اور  پسندیدگی اس  افسوسناک حقیقت کا محض ایک پہلو ہی پیش کرتی ہے۔  یہاں یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ  انگریزی سمیت دوسری زبانوں  میں ادب یا دیگر علوم کا مطالعہ قابل اعتراض فعل ہے لیکن اردو سے فراریت  اور انگریزی کی طرف رجحان  ہمارے جس قومی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے، اس بحث میں اسے سمجھنا بے حد ضروری اور اہم ہے۔

سیاسی  وعمرانی تبصروں اور واقعاتی معلومات کے لئے  ہم انگریزی اخبار اور مطبوعات سے رجوع کرتے ہیں کیوں کہ اردو نشریات  ’بھونڈی اور ناقابل اعتبار‘ سمجھی جاتی ہیں۔   ہم یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اگر اردو مطبوعات  و نشریات ناقابل اعتبار یا غیر معیاری ہوچکی ہیں تو اس میں کس کا قصور ہے اور اس تبدیلی کے لئے کیا ان سے قطع تعلق ہی اس اہم قومی مسئلہ کا حل ہے۔ اس کے باوجود  جب ایک ایسا شخص جس نے ساری زندگی اردو تدریس اور اس کی ترویج میں صرف کی  ۔  جو اردو زبان کا  اعلیٰ پائے کا شاعر و ادیب ہے اور جس کی اردو ادب کے لئے خدمات کے اعتراف میں ہی ترکی کی چھ رکنی جیوری نے  سال رواں کا   نجیب فاضل ایوارڈ برائے بین الاقوامی  کلچر و آرٹ، امجد اسلام امجد کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔   اس کے  باجود ہم  ایسے شخص کو اردو نہ بولنے پر ’کٹہرے ‘ میں کھڑا کرنے میں لمحہ بھر توقف نہیں کرتے۔

امجد اسلام امجد  نے  فیس بک پر اپنی وضاحت میں یہ بتایا تھا کہ خود ان کی خواہش بھی یہی تھی کہ اردو میں شکریہ کے  الفاظ کہتے لیکن تقریب کے منتظمین کی طرف سے  انگریزی زبان  میں تقریر کی پابندی عائد کی گئی تھی کیوں کہ ان کے لئے اردو مترجم کا انتظام کرنا ممکن نہیں تھا۔  اس کا احترام کرتے ہوئے امجد صاحب کو انگریزی میں اپنا مافی الضمیر پیش کرنا پڑا۔      اس کے باوجود  اردو کے بعض پرجوش وکیلوں کا اصرار ہے کہ اگر وہ اردو میں تقریر کرتے تو اردو کے پروفیسر اور پاکستان دوست خلیل طوقار اس کا اعلیٰ ترکی زبان  میں ترجمہ کرکے رنگ جما سکتے تھے۔ اس قسم کے تبصرے صرف اس صورت میں ہی کئے جاسکتے ہیں جب  ان تقاریب کے انتظام ، پروٹوکول اور  رکھ رکھاؤ کے بارے میں بنیادی معلومات سے بھی شناسائی نہ ہو۔ نجیب فاضل ایوارڈ کی  تقریب  اعلیٰ طریقے سے  منظم کیا گیا ایک ایونٹ تھا جس میں   ہر کام نہایت سلیقے، ایک خاص اہتمام اور انتظام کے تحت طے  پایا۔ ایسی تقریب میں  کوئی بھی شخص اچانک جا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ’صاحب میں  نے مترجم کا انتظام کرلیا ہے۔ اب مجھے اردو میں بات کرنے دیں‘۔

راقم الحروف کی  امجد اسلام امجد  سے یاد اللہ کو چند دہائیاں   گزر  چکی ہیں۔ اسی طرح خلیل طوقار صاحب سے شناسائی کو بھی ایک دہائی بیتنے  والی ہے۔ مجھے جب ترکی میں امجد اسلام امجد کو ملنے والے اعزاز کا پتہ چلا تو میں  نے خلیل طوقار سے ہی رابطہ کیا جنہوں نے کمال محبت سے   میرے لئے دعوت نامہ کا انتظام کیا۔ نجیب فاضل ایوارڈ  ترکی  کا صف اول کا اخبار سٹار  ، وزارت ثقافت کے تعاون سے تقسیم کرتا ہے۔  اس موقع پر کسی بھی پاکستانی ادیب کو اعزاز ملنے  کی بات اردو سے محبت کرنے والے ایک طالب علم کے طور پر میرے لئے بھی خوشی اور فخر کا موجب تھی ۔ اسی لئے میں نے ناروے سے بطور خاص اس موقع  پر  حاضر ہونے کے  لئے   استنبول کا سفر کیا تھا۔  اس تقریب کے پروٹوکول کا اندازہ  صرف اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جب میں اور میری اہلیہ تقریب میں شرکت کے لئے  استقبالیہ میں  پہنچے تو  لوگوں کے ہجوم اور کارکنوں پر  دباؤ کے باوجود ایک شخص نے مجھ سے دعوت نامہ لے کر انتظار کرنے کے لئے کہا اور  پڑتال اور انٹری پاس کی تیار کے  دوران وہ متعدد بار آکر ہم سے معذرت بھی کرتا رہا۔ اس کے بعد  وہ شخص ہمیں لے کر طویل راہداری سے ہوتا ہؤا ہال کے اندر گیا اور اپنی ایک ساتھی کے حوالے کرکے ہم سے رخصت ہؤا۔ اس خاتون نے ہمیں  ہال میں مقررہ جگہ پر  بٹھایا۔

تقریب کا وقت 7 بجے شام تھا۔  سات  بجتے ہی ہال  میں اسٹیج سے ہونے والے اعلان کے ساتھ سکوت طاری ہوگیا اور ترک صدر اردوان عین وقت پر ہال میں داخل ہوئے۔ انہوں نے پہلی قطار میں بیٹھے  سب لوگوں سے فرداً فرداً ہاتھ ملایا ۔ اس کے بعد اپنی مقررہ نشست پر کھڑے ہوکر  ہال میں موجود سب لوگوں کو سلام کیا اور بہت دیر تک لوگوں  کے استقبالیہ اشاروں کا جواب دیتے رہے۔ تقریب کا آغاز  وزارت اور اخبار کے  معتمدین کی استقبالیہ تقریروں سے ہؤا لیکن کوئی تقریر دو تین منٹ سے زیادہ نہیں  تھی۔ اس کے بعد موسیقی کا مختصر پروگرام پیش کیا گیا۔

صدر رجب اردوان اس دوران ہال کی پہلی قطار میں عام نشست پر بیٹھے رہے۔ انہیں اسٹیج پر خاص کرسی پر بٹھا کر ’اعزاز‘ دینے کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ ابتدائی کلمات اور موسیقی  آئٹم  کے بعد  اسٹیج سے کسی ممتاز شخصیت اور  انعام وصول کرنے والے ایک ادیب کوبلایا جاتا۔   انعام ملنے کے بعد متعلقہ  ادیب دو منٹ کی مختصر تقریر میں     شکریہ ادا کرتا اور نیک خواہشات کے ساتھ رخصت ہوجاتا۔ امجد اسلام امجد یہ انعام وصول کرنے والے واحد غیر ملکی تھے، اس لئے انہوں نے اتنے ہی وقت میں انگریزی میں  اس ا عزاز پر ترک عوام اور جیوری کا شکریہ ادا کیا اور پاک ترک دوستی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ترک صدر کی موجودگی پر اظہار مسرت کیا۔  انگریزی کی پابندی کے باوجود امجد نے اپنی ایک مختصر نظم  ’محبت‘ کی آخری دو سطریں اردو میں پیش کیں : محبت ایسا دریا ہے /کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا۔  اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس کا اردو میں ترجمہ پیش کرکے ایک  طرف اردو کی  اہمیت کو اجاگر کیا تو دوسری طرف  ترک عوام تک اہل پاکستان کا پیغام محبت بھی پہنچایا۔

اس موقع پر ترک صدر کی تقریر اور ان کا رویہ کسی بھی جمہوری لیڈر کے لئے  باعث تقلید ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایوارڈ لینے والے ہر ادیب  یا محقق کے بارے میں چند جملے کہے ۔ امجد اسلام امجد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور سے اردو شاعری، امجد کی بطور شاعر خدمات اور  ترکی کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ذکر بھی تفصیل سے کیا۔  تقریر کے بعد ایوارڈ لینے والے سب ادیبوں کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ صدر اردوان نے ان سب سے  ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ بات کی۔  فوٹو سیشن کے بعد ترک صدر نے  منتظمین اور اسٹیج پر  معاونت کرنے والے کارکنوں کے ساتھ ہاتھ ملاکر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

تاہم اس وقت ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب تقریب سے فارغ ہو کر صدر طیب اردوان  روانہ ہونے کی بجائے اسٹیج سے اتر کر ہال کی ایک دیوار کے ساتھ جاکر کھڑے ہوگئے اور ہال میں موجود لوگ اور طالب علم بھاگ بھاگ کر ان سے ملنے لگے۔ صدر ہر کسی سے ہاتھ ملاتے کچھ بات کرتے اور تصویر بنواتے۔ اس سے ترک صدر کی مقبولیت اور عوام دوستی کا ایک نیا پہلو  مشاہدے میں آیا۔   اس طرح  یہ پروقار تقریب اختتام کو پہنچی۔ ایک پاکستانی  اردو ادیب کو ملنے والا یہ انعام پوری قوم اور اردو زبان کے لئے اعزاز ہے۔ اس موقع پر انگریزی میں کہے گئے چند الفاظ اردو کے لئے امجد کی خدمات اور اس زبان سے ان کی محبت کو کم نہیں کرسکتے۔

loading...