آئی ایس آئی کے سربراہ نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے: نئی کتاب میں انکشاف

  • سوموار 30 / دسمبر / 2019
  • 1980

پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر رچرڈ اولسن نے انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈائریکٹرجنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیرالاسلام ستمبر 2014ء میں بغاوت کے لئے پر تول رہے تھے لیکن اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) راحیل شریف نے اسے ناکام بنادیا۔

شجاع نواز نے اپنی نئی کتاب میں اس حوالے سے تفصیلات دینے کے علاوہ پاک امریکا تعلقات اور اندرونی سازشوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کتاب ’’بیٹل فار پاکستان، بیٹریو ایس فرینڈ شپ اینڈ ٹف نیبرہڈ‘‘ میں رچرڈ اولسن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنرل (ر) ظہیرالاسلام کور کمانڈرز اور ہم خیال فوجی افسران سے گفتگو کررہے تھے لیکن انہیں آرمی چیف کی حمایت حاصل نہیں ہوئی لہٰذا بغاوت کامیاب نہ ہوسکی۔

رچرڈ اولسن نے یہ تبصرہ 2014 میں عمران خان کے احتجاجی دھرنے کے تناظر میں کیا۔ 373 صفحات پر مشتمل کتاب کے مصنف شجاع نواز سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز مرحوم کے بھائی ہیں ۔ اپنی تازہ کتاب میں شجاع نواز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکیوں کے لئے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا سیدھا نشانہ باز، انتہائی قوم پرست جنرل ہے جو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے اصرار پر انٹیلی جنس کی دنیا میں آیا۔  وہ ایک فعالیت پسند اور ملک کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تھے جس نے اس کے آپریشنز کو حقیقتاً اپنی مرضی سے وسعت دی۔

جنرل پاشا نے پاکستان میں امریکی کارروائیوں اور ان کے کارندوں کے بارے میں معلومات اور اطلاعات تک زیادہ دسترس طلب کی۔ شجاع نواز کے مطابق جنرل شجاع پاشا امریکی نگرانی کا بڑاہدف رہے۔ بیرون ملک دوران سفر انہیں تلاش کیا جاتا رہا۔ کتاب میں اس حوالے سے تفصیلی ذکر موجود ہے۔ جنرل شجاع پاشا کے دور میں تین پاک امریکا فیوژن سیل بند کئے گئے۔

ایک نامعلوم امریکی افسرکاحوالہ دیتے ہوئے مصنف نے پاکستان کے اندر امریکی انٹیلی جنس نگرانی کے موضوع کو بھی چھیڑا اور کہا کہ امریکا کی پاکستان کے کئی اداروں تک رسائی تھی۔  

جنرل شجاع پاشا کے بعد آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کو ملک کے مقامی ایشوز کا سامنا کرنا پڑا۔  ان کا زیادہ تر وقت 2013 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی بحران میں گزرا۔  شجاع پاشا اور ظہیرالاسلام دونوں کے نام اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف گلی کوچوں میں ہو نے والی مخالفت سے جوڑے جاتے ہیں۔ گو کہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ظہیرالاسلام آئی ایس آئی کے ونگز یا ڈائریکٹوریٹس کے بھی سربراہ رہے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے کراچی کی ہنگامہ خیز سیاست میں بھی رہے۔ واضح رہےکہ ظہیرالاسلام اور احمد شجاع پاشا نے سروس میں اپنے کردار کے حوالےسے کوئی موقف نہیں دیا۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ شجاع پاشا کے بعد ظہیرالاسلام کی بھی امریکا کی طرف سے نگرانی جاری رہی۔ آئی ایس آئی کے ایک سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) رضوان اختر امریکی تربیت یافتہ افسر تھے جن کے اپنے امریکی ہم منصبوں سے خوشگوار تعلقات تھے تاہم بات کرنے والوں پر اپنا تاثر چھوڑنے کے حوالے سے انہیں جدوجہد کرنا پڑتی تھی۔ خصوصاً ایسے موقع پرجب افغان جنگ گفتگو کا موضوع ہو۔

ایک امریکی افسر کے مطابق افغان مفاہمت کے موضوع پر گفتگو میں رضوان اختر افغان طالبان کمانڈرز کے نام بھول گئے۔ امریکیوں کی جانب سے انہیں تنقید کا بھی سامنا رہا۔ وہ ایک دستیاب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے۔ کراچی میں اکثر دکھائی دیتے جہاں وہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز بھی تعینات رہے تھے۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو آگاہ کئے بغیرکراچی آپریشن کا چارج سنبھال لیا تھا۔  اپنی عام دستیابی کی حکمت عملی کے باعث وہ آئی ایس آئی اور حتی کہ فوج میں غیر مقبول ہوگئے۔

رضوان اختر کی آئی ایس آئی اور بعد ازاں فوج سے اخراج کی تفصیلات بتاتے ہوئے شجاع نواز کے مطابق رضوان اختر آرمی چیف جنرل باجوہ کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں استعفی دے کر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔ ان کی جگہ امریکی تربیت یافتہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے لی۔ وہ کراچی کے بڑے متحرک کور کمانڈر رہے اور امریکی وار کالج کارلائل سے گریجویٹ ہیں۔ 

(رہورٹ:اعزاز سید ۔ روزنامہ جنگ)

loading...