پرویز مشرف کو سزا: جنگ ابھی جاری ہے

سابق آرمی چیف  جنرل(ر) پرویز مشرف کے  خلاف آنے والے فیصلے پر فوج کے ترجمان کا ردعمل  سنگین اور افسوسناک  ہونے کے علاوہ تصادم کے ایک نئے راستے کی طرف نشاندہی کررہا ہے۔ 

خصوصی عدالت  کا فیصلہ حتمی نہیں ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی اور کوئی نہیں جانتا کہ وہاں یہ معاملہ کتنے برس تک ’التوا‘ کا شکار رہے یا اسے تبدیل کردیاجائے۔ اس کے باوجود میجر جنرل آصف غفور کے بیان میں  جس غم و غصہ کا اظہار  موجودہے، اس سے   قومی تصویر کے بہت سے پوشیدہ خد و خال نمایاں ہوگئے ہیں۔ جو لڑائی  پس پردہ لڑی  اور ہاری یا  جیتی جاتی تھی،  اب  وہ محاذ آرائی  منظر نامہ پر  آرہی ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ پاک فوج کی  قیادت نے ا پنے ترجمان کو یہ  اقدام کرنے کی اجازت دی ہے۔  یہ بیان فوج میں موجود غم و غصہ  کا پتہ ہی نہیں دیتا بلکہ   اس سے فوجی قیادت میں پائی جانے والی سراسیمگی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر ایک ٹھوس ڈسپلن کے تحت کام کرنے والے ادارے کی طرف سے   آئین توڑنے کا قصور وار قرار دیے گئے ایک سابق جنرل کے بارے میں،  اس مرحلے پر اتنے دوٹوک  اور  واضح انداز میں پرویز مشرف کی حمایت کرنے ،  ان کے احسانات گنوانے ، عدالت کا فیصلہ مسترد کرنے، ججوں کو مورد الزام ٹھہرانے اور   عدالتی حکم کو شخصی بنیاد پر کیا جانے والا  فیصلہ قرار دینے کی  عجلت قابل فہم نہیں ہوسکتی۔

فوج  بھی بخوبی   جانتی ہے کہ  خصوصی عدالت کا فیصلہ حتمی نہیں  ہے۔  سپریم کورٹ بھی اگر اس حکم کو برقرار رکھتی ہے تو  صدر مملکت کے پاس پرویز مشرف کی سزا معاف کرنے کا اختیار موجود ہے۔  تحریک انصاف کی حکومت نے اب تک فوج کی خدمت گزاری  کے جس رویہ کا مظاہرہ  کیا ہے، اس کی روشنی  میں  یہ   امر بعید از قیاس نہیں ہے  کہ موجودہ صدر  موقع آنے پر   بخوشی پرویز مشرف کو دی  گئی سزا معاف کردیں گے۔ یوں بھی کسی عدالتی فیصلہ پر تبصرہ کرنا فوج جیسے ادارے کی روایت میں شامل نہیں رہا اور نہ ہی اسے زیب دیتا ہے کہ    فوجی قیادت،   مجرم قرار دیے گئے ایک شخص کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑا ہونے کا اعلان کرے۔

اس کے باوجود فوج کے ادارہ تعلقات عامہ  کے غصہ سے لبریز بیان اور بزعم خویش  خصوصی عدالت کے مختصر حکم  کے ’پرخچے ‘ اڑانے کی کوشش،  صرف پرویز مشرف کی سزا  پر رد عمل سے زیادہ،  اس تشویش کا اظہار ہے کہ  ملکی سیاست میں فوج کے اختیار و دسترس کو کاری ضرب لگائی گئی ہے۔  اس سے پہلے کوئی سیاست دان، منتخب پارلیمنٹ یا کوئی عدالت  سیاست میں فوجی اختیار کو یہ چوٹ پہنچانے کا حوصلہ نہیں کرسکی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوج کا رد عمل دراصل یہ بتا رہا ہے کہ  سیاسی جوڑ توڑ کے بارے میں سامنے آنے والی  چہ میگوئیاں اور ہر حکومت  کو عسکری حلقوں کا آلہ کار بنا کررکھنے کی حکمت عملی  دراصل  فوج کی سوچی سمجھی اور طے شدہ پالیسی ہے۔ جنرل آصف غفور کا بیان  پرویز مشرف کی تائد میں نہیں  بلکہ سیاست  میں  فوج کے کردار کو محدود کرنے کی کسی بھی  کوشش  کو مسترد کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے۔  اس بیان میں یہ  بتایا گیا ہے کہ فوج اپنے کسی بھی سابقہ سربراہ کی کی کسی بھی غلطی کو تسلیم کرنے کے لئے  تیا رنہیں ہے۔  آئی ایس پی آر کے سربراہ کا بیان واضح کرتا ہے کہ   ملک میں پہلا مارشل لانافذ کرنے  والے ایوب خان، ملک توڑنے والے یحیٰ خان اور منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر چڑھانے والے  ضیا الحق  دراصل  فوج کے اسی طرح ہیرو  ہیں جس طرح دوبئی کے ہسپتال میں زیرعلاج پرویز مشرف کو اس وقت محسن قوم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عسکری قوت کو اگر ملکی معاملات  پر مکمل اختیار اور ہر منتخب حکومت کو زیر دست رکھنے کی فکر لاحق نہ ہوتی تو پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلہ کے اس مرحلہ پر کسی رد عمل کا کوئی عقلی جواز موجود نہیں ہے۔  ابھی تو خصوصی عدالت نے صرف مختصر حکم جاری کیا ہے۔ ابھی تو کوئی وکیل بھی اس فیصلہ کے  میرٹ پر بات کرنے کی کوشش نہیں کرے گا البتہ اس کے  سیاسی اثرات پر ضرور آرا  سامنے آرہی ہیں۔  پھر فوج جیسے ٹھوس اور چین آف کمانڈ میں بندھے ادارے کو کیوں  اسی مرحلہ پر ایک عدالتی فیصلہ پر تند و تیز رائے دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟  خصوصی عدالت کی طرف سے اشارہ دے دیا گیا ہے کہ اس کیس کا تفصیلی فیصلہ   48 گھنٹے کے اندر جاری کردیا جائے گا۔  فوج کے ترجمان اپنی رائے کا اظہار دو روز کے لئے مؤخر بھی کرسکتے تھے۔   البتہ ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ قانونی پیچدگی، کسی بے گناہ کو غلط طور سے سزا ملنے یا فوج کی کارکردگی کے حوالے سے  اہم نہیں  ہے  بلکہ اس سے اس  مفروضے ( ‏myth)  کو ضعف پہنچنے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ  ملکی معاملات پر  فوج کی گرفت ڈھیلی پڑ سکتی ہے۔ اب  کہیں نہ   کہیں سے کوئی نہ کوئی فرد یا ادارہ،  اختیار پر اس ناجائز تصرف کے بارے میں ضرور  بات کرے گا۔ اگر ایک عدالتی فیصلہ کو خاموشی سے قبول کرلیا گیا تو اسے فوج کی کمزوری سمجھا جائے گا۔ آج دو ججوں نے   آنکھیں دکھائی ہیں ، آنے والے دنوں  میں کوئی سیاست دان بھی طے شدہ  گیم پلان سے  ’بغاوت‘  پر آمادہ ہوسکتا ہے۔  آئین سے بغاوت کے مقابلے میں یہ سرکشی  زیادہ پریشان کن سمجھی جارہی ہے۔

خصوصی عدالت کے فیصلے اور اس پر فوج کے  شدید رد عمل کو گزشتہ روز  آرمی چیف کے عہدہ میں توسیع کے بارے میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کی روشنی میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے پارلیمان کو اس معاملہ پر قانون سازی کرنے اور ابہام دور کرنے کا مشورہ نہ دیا ہوتا تو شاید فوج کو آج کے فیصلہ پر اتنی عجلت میں ایک ناپسندیدہ اور کمزور مؤقف دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ فوجی قیادت سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جان سکتا کہ غصہ  میں کیا گیا وار کبھی کارآمد نہیں ہوتا۔  بہتر حکمت عملی اور  سوچ سمجھ کر  منصوبہ بندی کے ذریعے  دشمن کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم خصوصی عدالت کے فیصلہ نے  یہ خوف پیدا کردیا ہے کہ اگر آج ایک جج ، ایک سابقہ فوجی سربراہ کو  سزا دے سکتا ہے تو کل کلاں  سیاست دان مل کر یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ  جنرل باجوہ کی توسیع غیر ضروری ہے۔  باجوہ ڈاکٹرائن  کی اس سے بڑی ناکامی کوئی نہیں ہوسکتی۔

پوچھنا چاہئے کہ  فوج کو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ پر کیا پریشانی ہے؟ کیا فوج یہ کہنا چاہ رہی ہے کہ فوج  کا جنرل بننے کے بعد   اسے ہر قسم کا گناہ کرنے اور قانون شکنی  کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔ پرویز مشرف کو آئین شکنی کا قصور وار سمجھا گیا ہے۔  دستور کسی بھی ملک کا سپریم لا ہوتا ہے۔  اگر ایک عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ  سابقہ آرمی چیف نے آئین سے رو گردانی کی تھی اور اسی آئین کی ایک شق کے تحت انہیں موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے تو اس پر ناراض ہونے کی بجائے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملٹری اکیڈمی اور کالجوں  کے نصاب میں   ایسی  کون سی کمی ہے کہ وہاں سے تربیت اور تعلیم پانے والے اسی آئین کی خلاف ورزی پر تل جاتے ہیں جس کی حفاظت کرنے کا انہوں نے حلف لیا ہوتا ہے۔  معاشرے سے لاقانونیت اور تشدد کا خاتمہ صرف مدرسوں اور درسگاہوں کے نصاب کی چھان پھٹک سے ہی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے فوجی  تربیت اور مزاج سازی کے عمل پر بھی نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے۔

جسٹس وقار سیٹھ اور ان کے ساتھی ایک تاریخ ساز فیصلہ دینے پر تحسین کے مستحق ہیں۔ اس سے  قطع نظر کہ یہ فیصلہ قائم رہتا ہے یا اسے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کو سزا ملتی ہے یا  انہیں معافی دے دی جاتی ہے، خصوصی عدالت ملک کی تاریخ میں پہلی بار یہ اصول سامنے لانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ   آئین شکنی ایک قابل سزا جرم ہے اور ملک کی عدالتیں ہر قانون شکن کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ  بہت تابناک  نہیں ہے۔ زور ذبردستی میں دیے گئے کئی فیصلوں کے داغ اب بھی اس کے دامن پر موجود ہیں لیکن جسٹس وقار سیٹھ نے بلا شبہ  عدلیہ کا وقار بحال کرنے  کے علاوہ اور ججوں کی غیر جانبداری اور بے خوفی کی لازوال مثال قائم کی ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ پر  پوری قوم نے خوشی و مسرت کا اظہار کیاہے۔ ایسے میں فوج کی طرف سے  اس درخشاں فیصلے پر مایوسی کا اظہار فوج کے وقار  کو گہنانے کے مترادف ہے۔ حکومت کے نمائیندوں  کی مایوسی کسی قانونی  پیش رفت میں سقم پر پریشانی نہیں  ہے بلکہ  اس  الزام کی تصدیق کرتی ہے کہ موجودہ حکومت محض انتخاب سے  ملک کی تقدیر کی مالک نہیں بنی بلکہ  تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس  انتظام کے تحت اقتدار سنبھالنے والے،  عدالتی  خود مختاری  سے  خوش نہیں ہوسکتے۔

اس کے باوجود  یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے۔ خصوصی عدالت کے فیصلے پر خوشی کے شادیانے بجانے کی بجائے جمہوری  استحکام  اور قانون کی بالا دستی کے لئے ایک طویل جد و جہد کی ضرورت ہے۔ پرویز مشرف کو  دی گئی سزا  البتہ جمہوریت اور انصاف کی سربلندی کے لئے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔   یہ آخری معرکہ نہیں  ہے بلکہ   جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔

loading...