…جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں

کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

یہ دردناک سوالات ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ نے شاعرانہ پیرائے میں پوچھے تھے۔ اپنی بے بسی، بے ثباتی اور بے وقعتی کے بارے میں بہادر شاہ ظفر نے جو شاہکارغزل تخلیق کی یہ اس کے دو اشعار ہیں۔

میں گزشتہ روز صبح صبح فیس بک پر رنگون میں بہادر شاہ ظفر کے مزار پر سجے شاندار میلے کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ میلے کی بھیڑ اور رونق دیکھ کر سوچتا رہا کہ اپنے آپ کو بیکسی کا مزار قرار دینے والے اس عظیم شاعر کا کلام کیسا ہوتا اگر کوئی اسے بتاتا کہ اس کی موت کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی لوگ جوک در جوک اس کی قبر پر حاضر ہوں گے۔ وہ فاتحہ بھی پڑھیں گے، پھول بھی چڑھائیں گے اور اس کی قبر پر میلے کا سماں ہو گا۔ قوالی ہو گی، شاعری ہو گی، اور لوگ دور دراز سے آ کر اس مغل شہنشاہ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ یہ جان کر وہ اپنے آپ کو مشت غبار اور اجڑا ہوا دیار قرار دینے کے بجائے ایسی شاعری کرتا جس میں یاسیت و قنوطیت کے بجائے امید ہوتی۔

جن حالات میں بہادر شاہ ظفر تخت نشین ہوا تھا، وہ کسی اعتبار سے بھی قابل رشک نہیں تھے۔ مغلیہ سلطنت برسہا برس سے زوال کا شکار تھی۔ ہندوستان پر عملاً ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج تھا۔ مغلوں کی حکمرانی لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ ایسے میں بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی گویا عظیم مغلیہ سلطنت کی لاش پر فاتح خوانی کی رسم ادا کرنے کے لیے تھی۔ پھر بھی اگر بہادر شاہ ظفر کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ماضی کے اس عظیم سلطنت کے تخت کا وارث بن کر شاید کچھ فخر محسوس کرتا یا اس سلطنت کی عظمت رفتہ کی بحالی کی کوئی سبیل کرتا، مگر بہادر شاہ ظفر کو نہ تو تخت نشینی کی کوئی خوشی تھی، اور نہ ہی اس سلطنت اور اس پر حکمرانی سے کوئی دلچسپی تھی۔

وہ بنیادی طور پر ایک صوفی اور شاعر آدمی تھا، جس کو اس کے بقول اس کی خرابیٔ قسمت نے تخت پر بٹھا دیا تھا۔ اس کے والد گرامی بادشاہ اکبر دوم کا پسندیدہ شہزادہ مرزا جہانگیر تھا، جس نے بادشاہ کے بعد تخت نشین ہونا تھا مگر شومئی قسمت کہ جہانگیر کا انگریز ریذیڈنٹ کے ساتھ تصادم ہو گیا، جس کے بعد اسے جلا وطن کر دیا گیا، جہاں کثرت شراب نوشی کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی؛ چنانچہ مغلیہ سلطنت کے واحد وارث کی حیثیت سے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہن کر تخت پر بیٹھنا پڑا۔ مگر تخت نشینی کے باوجود اس کی سوچ، فلسفے، اور شب و روز کے معاملات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کا صوفیانہ مزاج برقرار رہا۔ سلطنت کے معاملات پر غور و فکر کے بجائے وہ فلسفے کی گتھیاں سلجھاتا رہا۔ اس کی شاعری میں سوز و گداز میں اضافہ ہو گیا۔ ذات کی نفی اور بے ثباتی کا اظہار پہلے سے زیادہ بڑھتا گیا۔

کچھ لوگ اسے بد قسمتی قرار دیتے ہیں، مگر ایک لحاظ سے یہ بہادر شاہ ظفر کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے دور میں اٹھارہ سو ستاون کے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ ہمارے تاریخ دانوں نے ان واقعات کو تاریخ کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے اپنے نقطہ نظر کے طور پر لکھا ہے؛ چنانچہ حقائق پس پردہ چلے گئے اور نظریات اور خیالات کو تاریخ بنا کر بچوں کو پڑھایا جانے لگا۔ کسی نے اٹھارہ سو ستاون کے واقعات کو غدر لکھا۔ کسی نے اسے بغاوت قرار دیا۔ کچھ لوگ اسے جنگ آزادی کہنے پر بضد رہے۔ جسے انگریز پسند تھے، اس نے ان واقعات کو ایک بے معنی بغاوت قرار دینے کے کافی شواہد جمع کر لیے۔ جو دل سے قوم پرست ہندوستانی تھا اسے ان واقعات میں بغاوت اور آزادی کی لڑائی کی بے شمار شہادتیں نظر آئی۔ جو مغلوں کے دشمن تھے، انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی ہر غلطی کا ذمہ دار مغلیہ سلطنت کو قرار دیا۔

ان واقعات کو جس نظر سے بھی دیکھا جائے، جس زاویے سے بھی پرکھا جائے، بہادر شاہ ظفر زوال پذیر مغلیہ سلطنت کے درجنوں گم نام تخت نشینوں کے ہجوم سے باہر نکل کر ایک الگ مقام حاصل کر گئے تھے۔ ظفرنے اپنی شاعری میں تو یہ اعلان کر دیا تھا کہ ‘جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ مشت غبار ہوں‘ تاہم باغیوں نے میرٹھ پر قبضے کے بعد اس مشت غبار کو ہی پکارا اور بغاوت کی قیادت پر مجبور کیا۔ مگر جس طرح بہادر شاہ ظفر کو تخت نشینی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اسی طرح اسے اس بغاوت کی قیادت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بغاوت کچل دی جائے گی۔ تاریخ دانوں کا اس بات پر اصرار ہے کہ بہادر شاہ ظفر کو اس بغاوت سے ہمدردی تو ضرور تھی، مگر یہ بغاوت کروانے میں بادشاہ کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔

بغاوت پھیلنے کے بعد باغی سپاہی خود ہی دلی میں مغلیہ دربار میں جمع ہونا شروع ہوئے۔ کئی برسوں کے وقفے کے بعد بہادر شاہ ظفر نے بارہ مئی اٹھارہ سو ستاون کو ایک بار پھر دربار سجایا۔ اس نے باغی سپاہیوں سے پوچھا کہ جب وہ جانتے ہیں کہ وہ بے بس اور بے وسیلہ شخص ہے تو وہ اس کے پاس کیوں آئے ہیں۔ سپاہیوں نے اسے بتایا کہ وہ اسے عزت دینے آئے ہیں وگرنہ وہ اس سے کسی قسم کی مدد یا وسائل کے بغیر بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کو شکست دے دیں گے۔ انہوں نے بادشاہ کو اس بغاوت کی قیادت پر مجبور کیا۔ بادشاہ نے رضا مندی کا اظہار تو کر دیا مگر اس کے بعد شہر میں جو خون خرابہ اور قتل غارت گری ہوئی بہادر شاہ ظفر جیسے امن پسند صوفی کے لیے یہ برداشت کرنا بڑا مشکل کام تھا، اس کے باوجود اس نے بغاوت کو کھلے عام مسترد نہیں کیا۔ اس کا بیٹا مرزا مغل باغیوں کا کمانڈر انچیف نامزد ہوا۔ جیسا کہ بادشاہ کا خیال تھا بغاوت بالآخر ناکام ہوئی۔ بغاوت کی ناکامی پر بہادر شاہ ظفر کو میجر ہڈسن نے ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کر لیا۔ اس نے بادشاہ کے دو بیٹوں اور پوتے کو دلی گیٹ کے قریب خونیں دروازے پر گولی مار کر شہد کر دیا۔

کچھ تاریخ دان بہادر شاہ ظفر کا بغاوت میں کسی قسم کا کوئی ہاتھ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، مگر انگریزوں کا خیال مختلف تھا۔ گرفتاری کے بعد انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر پر چار الزامات لگا کر مقدمہ چلایا۔ یہ الزامات تھے: باغیوں کی مدد کرنا، لوگوں کو انگریز سرکار کے خلاف جنگ کی ترغیب دینا، ہندوستان کی خود مختاری کی کوشش کرنا، اور عیسائیوں کے قتل میں اہانت و امداد کرنا شامل تھی۔

یہ مقدمہ مسلسل اکتالیس دن چلتا رہا، اس مقدمے میں انگریزوں نے الزامات ثابت کرنے کے لیے اردو اور فارسی کی سینکڑوں دستاویزات پیش کیں۔ اکیس گواہ پیش کیے، جن میں بادشاہ کا اپنا وزیر اعظم اور ذاتی معالج حکیم احسن اللہ خان بھی تھے، جنہوں نے اپنی جان بخشی کی شرط پر بادشاہ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر گواہی دی اور دستاویزی ثبوت دیے۔ مقدمے میں بنیادی اور مرکزی کردار بہادرشاہ ظفر ہی تھا۔ بادشاہ کو رنگوں جلا وطن کر دیا گیا‘ جہاں بادشاہ کے اپنے شاعرانہ تصورات کے برعکس آج اس کا مزار سجتا ہے۔ بطور بادشاہ نہ سہی مگر بطور شاعر اور صوفی وہ آج کئی نامور مغل حکمرانوں سے زیادہ نامور اور زندہ ہے، اور اس کے مزار پر بہت رونق ہے۔ اس کے مزار پر اس کا یہ دردناک کلام پُر سوزآواز میں گایا جاتا ہے:

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

نہ دوائے دردِ جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں

نہ ادھر ہوں میں نہ اُدھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں

مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا

جو خزاں سے باغ اُجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں

کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں

جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا

میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

loading...