روزنامہ ڈان اسلام آباد کا ایک بار پھر گھیراؤ، اخبار کی کاپیاں نذر آتش

  • جمعہ 06 / دسمبر / 2019
  • 1090

مظاہرین نے جمعہ کو پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روزنامہ ڈان اخبار کے اسلام آباد بیورو کا گھیراؤ کرکے ڈان میڈیا گروپ کے خلاف نعرے بازی کی۔ رواں ہفتے میں دوسری بار کیے گئے اس محاصرے کے دوران ڈان اخبار کی کاپیاں بھی نذر آتش کی گئیں۔

ڈان اخبار کے اسلام آباد دفتر کے باہر گاڑیوں میں آنے والے تقریباً 100 افراد نے دفتر کا محاصرہ کیا۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی تھی البتہ 40 منٹ بعد مظاہرین خود ہی منتشر ہو گئے۔ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس نے ٹوئٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام آباد میں ڈان کے دفتر کے باہر ایک مرتبہ پھر منظم منصوبہ بندی کے تحت مظاہرہ کیا گیا۔ وہی لوگ، وہی یکساں لہجہ، تعداد میں زیادہ اور داخلی راستے کو بند کردیا۔ ہم نے پولیس کو مطلع کیا اور انہیں بتایا کہ ہمارے اسٹاف اور املاک کی حفاظت آپ کی ذمے داری ہے۔ امید ہے کہ حکومت میں سے کوئی مداخلت کرے گا۔

ڈان کے ایڈیٹر نے ایک دوسری ٹوئٹ میں تحریر کیا کہ ڈان کی چند کاپیاں نذر آتش کرنے کے بعد یہ لوگ منتشر ہو گئے ہیں۔ ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے یہاں تک کہ وہ اشتعال نہ پھیلائیں۔ انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے اپنے بیان میں دھمکی آمیز مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈان آزادی صحافت کا عملبردار ہے اور پاکستان کو اپنے صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔

رواں ہفتے کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ نامعلوم افراد نے ڈان کے اسلام آباد دفتر کا گھیراؤ کیا ہے۔ یہ مظاہرہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب محض چند گھنٹے قبل ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ پیر کو کیے گئے ڈان کے اسلام آباد دفتر کے محاصرے کی تحقیقات کرے۔

لندن برج پر 2 افراد کو چاقو مار کر قتل کرنے والے شخص کے پس منظر کے حوالے سے خبر شائع کرنے پر مظاہرین نے پیر کو ڈان اخبار کے اسلام آباد آفس کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے اخبار کے خلاف بینرز اٹھائے ہوئے تھے اور تین گھنٹے تک دفتر کا گھیراؤ کرکے ڈان اخبار کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

ایک دن بعد کراچی پریس کلب میں چند درجن لوگوں نے ڈان کے خلاف مظاہرہ کیا اور ملازمین کو دھمکیاں دیں اور یہ دھمکی بھی دی کہ اگر فوری طور پر مینجمنٹ اور آرگنائزیشن کے آؤٹ لیٹ کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ اخبار کے تمام دفاتر کا گھیراؤ کریں گے۔

میڈیا کی تنظیموں، نامور صحافیوں، قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مظاہروں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے محاصرے کا سامنا کرنے والے ڈان اخبار کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک دن بعد دفتر کا دورہ بھی کیا تھا۔

اس واقعے کے دو دن بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے بھی ایک سوال کے جواب میں ڈان کے دفتر کے محاصر کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

عالمی میڈیا کے نگراں ادارے کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹ اور رپورٹر وِد آؤٹ بارڈرز نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈان کے دفاتر کے محاصروں کی مذمت کریں اور اخبار کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کو پرتشدد ہونے سے روکیں۔ آر ایس ایف ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل باسٹرڈ نے کہا کہ پاکستان کے صف اول کے روزنامہ کے خلاف طاقت کے استعمال کا یہ دھمکی آمیز اقدام ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دستیاب معلومات کے مطابق وفاقی حکومت اگر اس معاملے میں اشتعال انگیزی نہیں پھیلا رہی تو کم از کم وہ غیرفعال اتحادی ضرور ہے جو جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔ ہم وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان اقدامات کی مذمت کریں جہاں آزادی صحافت کی خلاف ورزی پر وہ براہ راست ذمے دار ٹھہرائے جائیں گے۔

loading...