ریاض ملک سے وصول شدہ 19کروڑ پاؤنڈ سماجی بہبود کیلئے استعمال ہوں گے: شہزاد اکبر

  • جمعہ 06 / دسمبر / 2019
  • 720

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ملک ریاض اور برطانوی حکومت کے درمیان ہونے والے تصفیے سے ملنے والے 19 کروڑ پاؤنڈ رقم کو وفاقی حکومت سماجی بہبود کے لیے استعمال کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تصفیے کے معاہدے میں ون ہائیڈ پارک کی فروخت اور اس سے حاصل رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کرنا بھی شامل ہے۔ یہ رقم سپریم کورٹ آف پاکستان کے نیشنل بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سماجی بہبود اور غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے۔ واضح رہے کہ منگل کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی  پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے اہل خانہ کے ساتھ ایک سول تصفیہ پر راضی ہوئی تھی۔

این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کی تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی، جس میں تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی ایک برطانیہ کی جائیداد اور منجمد کیے گئے 9 اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل تھا۔ ایک باضابطہ بیان میں ایجنسی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فنڈز پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے۔

اس تمام معاملے کے بعد یہ سوالات سامنے آرہے تھے کہ آیا تصفیے سے حاصل رقم ملک ریاض کے اس جرمانے کے لیے استعمال کی جائے گی جو سپریم کورٹ نے ان پر عائد کیا ہے۔ ان سوالات کے اٹھنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے وضاحت سے گریز کیا  ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر کیے گئے معاہدے اور اس کی پیچیدگیوں پر کوئی تبصرہ نہ کرنے کی بات کو دوہراتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ حکومت پاکستان نے اس معاملے پر اس سے مزید آگے نہ جانے کے لیے ایک رازداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس وقت ایسے مزید معاملات میں دیگر حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور لاکھوں ڈالرز مالیت کی مزید وصولی کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت سول کیسز میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کی خواہش نہیں کہ لوگوں کو جیل میں رکھے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ 'یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تصفیہ سول کیس میں ہوا کسی کرمنل کیس میں نہیں'۔

دریں اثنا ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں انہوں نے کہا تھا کہ ' رقم سپریم کورٹ کو منتقل کردی گئی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے عدالت میں درخواست بھی دائر کردی ہے اور یہ رقم ہمیں (ریاست پاکستان) کو دینی چاہیے'۔

loading...