طلبہ یکجہتی مارچ میں سوشلسٹ انقلاب کی کھوج

29 نومبر 2019 کو پاکستان کے پچاس سے زیادہ چھوٹے بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ نے اپنے مطالبات کی حمایت میں سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا۔

طلبہ یکجہتی مارچ میں طالبات کی ایک بڑی تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1968 کی مزاحمتی طلبہ تحریک کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی پسند طلبہ نے ایک بار پھر طلبہ حقوق کے پرچم کو سر بلند کیا ہے۔ ترقی پسند طلبہ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں طلبہ یکجہتی مارچ کے چارٹرآف ڈیمانڈ میں تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی بحالی، معیاری اور یکساں نظام تعلیم، سستی تعلیم اور فیسوں میں کمی، قومی تعلیمی بجٹ میں اضافہ، بعداز تعلیم روز گار کی فراہمی تک بے روزگاری الاؤنس کی گارنٹی وغیرہ شامل ہیں۔ ایک اہم مطالبہ طالبات کو جنسی ہراسانی سے قانونی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔     

18 سال کا طالب علم ووٹ کے ذریعے ملک کی حکومت بنانے اور گرانے کا شعور اور آئینی حق تو رکھتا ہے مگر تعلیمی مسائل پر بات کرنے کے جمہوری حق سے محروم ہے۔ اسے کسی فرد کو ایوان اقتدار تک پہنچانے، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو منتخب ایوانوں کی زینت بنانے کا نام نہاد اعزاز تو حاصل ہے، مگر اسے منتخب سٹوڈنٹس یونین کے ذریعے اپنی تعلیمی زندگی اور مسائل پر رائے زنی کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔

پاکستانی آئین کے مطابق تنظیم سازی اور اظہار رائے ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں، منتخب طلبہ یونین، محنت کشوں، سرکاری اور پرایئویٹ اداروں کے ملازمین کی ٹریڈ یونین، وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، تاجروں وغیرہ کی تنظیمیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، معاشی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے موثر پلیٹ فارم ہوتی ہیں۔ جمہوری ریاست میں عوامی طبقات کی پیشہ ورانہ منتخب تنظیمیں جمہوری سیاسی نظام اور ریاست کو مستحکم جمہوری بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں حکمران طبقات اور طاقتور ریاستی ادارے بالادست جمہوری اداروں اور مستحکم جمہوریت کو اپنے مفادات کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس لئے قومی سلامتی اور امن و امان کے بہانے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو زیردست اور کمزور رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی، طلبہ یونین اور ٹریڈیونین سرگرمیوں کو قومی مفادات کے منافی سمجھا ہے۔

تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق، تعلیمی اخراجات میں ناقابل برداشت اضافے، غیر یقنی مستقبل، معاشی اور طبقاتی ناہمواری کی وجہ سے غریب اور درمیانہ طبقے کے طلبہ میں بے چینی، اضطراب اور احتجاج پایا جاتا ہے۔ 29 نومبر کا طلبہ یکجہتی مارچ طبقاتی اور معاشی ناانصافی کا شکار طلبہ، نوجوانوں اور عوامی طبقات کی امنگوں کا ترجمان تھا۔ ان  مظاہروں میں ترقی پسند فکر اور سوشلسٹ نظریاتی رجحان غالب نظر آیا۔ ملک کے نوجوانوں میں یہ فکری رجحان عوامی جمہوری جدوجہد اور محنت کشوں کی تحریکوں کے لئے  روشنی کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔  

یہ اہم نہیں ہے کہ طلبہ تحریک تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین بحال کرانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ ہرنظریاتی لہرسیاسی اور سماجی شعور کے نئے درکھولتی ہے اور تاریخ پر اپنے نقش ثبت کرتی ہے۔ نوجوانوں میں ابھرتی سوشلسٹ لہر کو محض ایک حادثہ یا وقتی اور جذباتی ابھار نہیں کہا جا سکتا۔ یہ لہر پاکستان کی عوامی جمہوری سیاست اور پسے ہوئے طبقوں کی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت بن سکتی ہے۔ درحقیقت طلبہ میں ابھرتی ہوئی سوشلسٹ تحریک نے ملک میں  نئے مباحثہ کا آغاز کردیا ہے۔

یہاں یہ ذکر کرنا برمحل ہو گا کہ کچھ نیم مولوی مارکسسٹ، ناپختہ سوشلسٹ اور سیاسی شعبدہ باز طلبہ یکجہتی مارچ میں بالشویک انقلاب ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ان کی تاریخی، علمی اور سیاسی ناپختگی قابل رحم ہے کہ وہ طلبہ کے معاشی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد میں سوشلسٹ انقلاب کی خوشبو سونگھ رہے ہیں۔ اسی قسم کی ناقص فکر کے حامل نیم حکیم مارکسی  1968۔69 میں ایوب آمریت کے خلاف جمہوری تحریک کو رگڑ رگڑ کر سوشلسٹ انقلاب برآمد کرنے کی سعی لاحاصل کرتے رہے۔ مجھے یہ کہنے میں دریغ نہیں کہ ان عناصر کا کمزور تاریخی شعور، ناتجربہ کاری اور نظریاتی مہم جوئی طلبہ تحریک کے لئے زہرقاتل ثابت ہو گی۔ طلبہ کی تعلیمی، معاشی اور جمہوری مطالبات کی تحریک کو انقلابی مہم جوئی اور جذباتی نعروں کی بھینٹ چڑھایا گیا تو یہ تحریک اختلافات کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مرجائے گی۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا چارٹرآف ڈیمانڈز طلبہ کے تعلیمی، معاشی اور جمہوری مطالبات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس چاٹرآف ڈیمانڈز کو ملک بھر کے طلبہ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اگر طلبہ تنظیمیں اپنی آئیندہ کی حکمت عملی متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈز کی روشنی میں بنائیں گی تو طلبہ تحریک کامیابیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔     

(ارشد بٹ ایڈووکیٹ، سٹوڈنٹس یونین اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے سابق صدر، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کے سابق راہنما اور پاکستان قومی محاذ آزادی اوورسیئز کے انچارج ہیں)                            

loading...