پیپلز پارٹی کی 52 ویں سالگرہ پر

باہر نکلیں اگر ہم سے اتفاق کرتے ہیں تو ہمیں ووٹ ڈالیں۔‘

باہر نکلیں اگر ہم سے متفق نہیں تو ہمارے خلاف ووٹ ڈالیں‘

یہ پیپلزپارٹی کے منشور کی آخری دو لائنیں ہیں۔ پاکستان میں قومی سطح کی واحد سیاسی  جماعت جس میں یہ بات کہنے کا ظرف، حوصلہ اور سمجھ ہے۔ پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت برطرف کیے جانے کے بعد فروری 1997 میں ہونے والے عام انتخابات کی بات ہے ۔ ووٹنگ والے دن پولنگ سٹیشن گیا تو یاد آیا کہ میرا شناختی کارڈ تو ٹریفک چالان کی وجہ سے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے پاس جمع تھا جو میں واپس لینا بھول گیا تھا ۔ پولنگ کے عملے کو پاسپورٹ اور ڈومیسائل پر ووٹ ڈالنے کی درخواست کی لیکن وہ نہ مانے۔

ناچار ایک دوست کی وساطت سے اسلام آباد کچہری کے متعلقہ عملے تک رسائی حاصل کی ، آفس الیکشن کی وجہ سے کھلا تھا بیشتر عملہ بھی مختلف ڈیوٹیوں کی وجہ سے آ جا رہا تھا۔ بڑی تگ و دو کے بعد رجسٹر کھنگال کر شناختی کارڈ کا سراغ نکالا تو پتا چلا کہ میرا کارڈ جس الماری میں ہے اس کی چابی جس اہلکار کے پاس ہے وہ گجر خان کا ہے اور اس کی وہیں ڈیوٹی لگی ہے۔

اس وقت تک دن کےساڑھے بارہ  بج چکے تھے۔  رمضان کا مہینہ تھا، والد صاحب محلے کی مسجد میں معتکف تھے اور میں نے کئی دن لگا کر انہیں قائل کیا تھا کہ اعتکاف سے رخصت لے کر ووٹ ضرور ڈالیں۔ حالانکہ انہوں نے اعلانیہ پی پی کے خلاف ووٹ ڈالنا تھا مگر میرا اصرار تھا کہ اس کے باوجود میرے نزدیک اہمیت ووٹ ڈالنے کی ہے وہ چاہے جسے مرضی دیں۔

خیر ، کچہری والے کام کو بیچ میں چھوڑ کر والد صاحب کو مسجد سے لے کر ووٹ ڈلوانے لے کر گیا اور ہھر مسجد چھوڑ کر واپس اپنے شناختی کارڈ کے پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا۔ کچہری کے عملے میں سے ایک بندے کو کہہ کہلا کر ساتھ لے کر ہم گوجر خان گئے۔ متعلقہ بندے کو ڈھونڈا۔  اس سے الماری کی چابی لی، واپس کچہری آئے، الماری کھولی، اس میں پڑے ڈیڑھ دو ہزار کارڈوں میں سے اپنا کارڈ ڈھونڈا ۔ چالان کے برابر رقم اور چائے پانی اور شکریہ ادا کرکے جب میں پولنگ سٹیشن پہنچا تو قریبا چار بجے کا عمل ہوگا ۔ ٹرن آؤٹ ملک بھر ہی کم تھا، اور اسلام آباد میں سردیوں کی شام کو رش نہ ہونے کے برابر تھا ۔ پولنگ کا عملہ اور پولنگ ایجنٹس ساتھ بیٹھے چائے سموسے اڑا رہے تھے۔

یہ میرا ان کے پاس صبح سے تیسرا چکر تھا۔ میں نے اپنا شناختی کارڈ پیش کیا ، تو انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ اب کہاں سے مل گیا۔ میں نے جواباً کارڈ کے حصول کی تگ و دو سنا دی تو ایک پولنگ ایجنٹ کہنے لگا کہ یار ووٹ ڈالنے کے لیے اتنا کشٹ ؟ آپ کا ووٹ بہت قیمتی ہے ، مجھے بتائیں کہ آپ کسے ووٹ دیں گے ؟

میں نے بتانے میں تامل کیا تو ، ایک پولنگ ایجنٹ غالباً جماعت اسلامی کا تھا،  کہنے لگا میں بتا دیتا ہوں:  ’یہ پی پی کو ووٹ دیں گے ، پاکستان میں ایسا ووٹر صرف پی پی کا ہو سکتا ہے جو اپنے مخالف کا ووٹ بھی ڈلوائے اور اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے  اتنی تگ و دو کرے‘۔

اسی الیکشن کی رات کی بات ہے ، ٹی وی پر تبصرے ہو رہے تھے ، مجیب الرحمان شامی ایک پروگرام میں  بیٹھے بڑے طمطراق سے کہہ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی اب ہمیشہ کے لیے ایک علاقائی بلکہ ضلعی جماعت بن گئی ہے۔

آج بھی جغادریوں اور چوزوں کو جب مختلف سیاسی جماعتوں کے متعلق یہ کہتے سنتا ہوں کہ ’غیر متعلق ہو گئے اور سیاست ختم ہو گئی وغیرہ ‘  تو تجزیے  کے نام پر خواہشات کے اظہار  کا گمان ہوتا ہے۔

loading...