گالی سے گولی تک

نفرت ایک زہر ہے جس کے اظہار کے کئی ظاہری اور باطنی قرینے ہیں ۔ کسی کو دل ہی دل میں بُرا کہنا ، بھویں تان لینا ، ماتھے پر بل ڈال لینا ، آنکھوں سے شعلے برسانا ، تُو تُو میں میں کرنا ،گالی دینا اور گولی مارنا سب نفرت کے پیرائے ہیں جو اب پاکستانی معاشرت کے عمومی خدو خال بن کر رائج ہیں ۔

پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک دوسرے کی ماں بہن کے بارے میں رقیق کلمات معمول کی بات ہے ۔ بلکہ ایک بزرگ ایسے بھی دیکھے جو اپنے پوتے کو پیار سے اوئے کنجرا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور اس طرح اپنی تیسری نسل کو  بد تمیزی سکھاتے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا تکیہ کلام ماں بہن کی گالی ہوتی ہے ۔ ایسے مکالمے کسی معاشرے میں نفرت  تشدد کی چیختی چلاتی علامت ہوتے ہیں جو عادت بن جائے تو فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ لیکن کسی معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ اُس کے دانشور ، سیاست دان ، صحافی اور علماء تک اس علت میں گرفتار ہو جاتے ہیں  اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ لفظ چاقو سے زیادہ کاری ضرب لگاتا ہے ۔ ایک عربی شعر ہے :

جراحتُ السنانِ لہُ التیام

وما یلتام ما جرح اللسانُ

نیزے کا لگایا ہوا زخم  تو بھرجاتا ہے مگر زبان کا لگایا ہوا زخم کبھی نہیں بھرتا ۔

تقریباً اسی مفہوم کی ایک پنجابی کہاوت ہے کہ شریکاں دی کندھ تھلے آجاؤ پر شریکاں دی گل تھلے نہیں اونڑاں ۔ یعنی حریفوں کے دیوار کے ملبے تلے آجاؤ مگر اُن کی بات کے نیچے نہیں آنا  کیونکہ وہ ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔اور اب یہ حال ہوگیا کہ ہر شخص دوسرے کا حریف ہے اور سب ایک دوسرے کے لتّے لیتے ہیں ۔ سیاسی مکالمہ تو اس حد تک غلیط ہو چکا ہے کہ اُس سے بیت الخلا کی بو آنے لگی ہے ۔ لگتا ہے کہ تمام  سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی سیاسی جماعتیں اخلاق و آداب کو خیر باد کہ چکی ہیں اور ایک دوسرے کو الف ننگی ہو کر دکھاتی رہتی ہیں ۔ معاشرے میں رائج ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کا سیاسی کلچر قوم کا اخلاق بگاڑ رہا ہے ۔ بچوں کی غلط تربیت ہو رہی ہے مگر اپنی تیسری نسل کو اوئے کنجرا کہ کر مخاطب کرنے والے بوڑھوں کو بالکل بھی شرم نہیں آتی ۔اور جب وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کرتےہیں تو فرط ِحیرت سے آسمان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں ۔  اورجب وہ اُس گالی گلوچ  والے مونہہ سے درود شریف پڑھنے کی اداکاری کرتے ہیں تو پاکیزہ روحیں اُن سے اپنا ناطہ توڑ لیتی ہیں ۔

 پھر یہ توفیق کی بات ہے کہ کوئی گالی دیتا ہے ، کوئی چاقو چلاتا ہے اور کوئی گولی مارتا ہے ۔ تشدد کے سارے پیرائے اب پاکستان کے سماجی رویے بن چکے ہیں جس کی ایک صورت سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں  پھیلانا ، مضحکہ اُڑانا ، پھبتی کسنا ، فوٹو شاپ کے ذریعے لوگوں کی شکلیں بدلنا اور اُن کی بے عزتی کرنا اس قدر عام ہےکہ لگتا ہے کسی کی عزت محفوظ نہیں ۔ پاکستان جس کا مطلب لا الہ الاللہ بتایا جاتا ہے ، بد گوئی اور بد اخلاقی کے کینسر میں  مبتلا ہے اور چارہ گر کوئی نہیں ۔ اسلامی معاشرے میں مسجد وہ ادارہ ہے جو نفس کی تربیت کرتا ہے ۔ صلوٰۃ  برائی اور بے حیائی کا سدِ باب کرتی ہے مگر آٹھ لاکھ سے زیادہ مسجدوں کے معلم وہ صلوٰۃ نہیں سکھا سکے جو فرد کو برائی اور بے حیائی سے روک سکے ۔ پچھلے چند برس میں کم سن بچیوں کو جس طرح جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ، سرِ راہ ڈکیتی کی روز افزوں وارداتیں ہوئیں  وہ اس ملک کی اسلامی جمہوری روایات کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اور سوال اٹھانے پر  مذہبی ادارے یہ کہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ ملک میں قانون نہیں، حالانکہ قانون تو موجود ہے لیکن قانون کی پاسداری کرنے والے نا پید ہیں ۔ کسی مسلمان معاشرے میں قرآن سے بڑی قانون کی کتاب کون سی ہو سکتی ہے لیکن قرآن کے احکامات پر چلتا کون ہے ؟ اُسے سمجھ کر پڑھتا کون ہے ؟ ناظرہ خوانی تو محض تکلف ہے جسے ثواب کے لیے پڑھاجاتا ہے ۔ ثواب کیا ہے ؟ کیا اُس کی کوئی ٹھوس مادی شکل ہوتی ہے ؟ تلاوت زبان اور حلق سے نکلنے والی آواز ہے جو ایسی مادی شے نہیں جسے چھو کر دیکھا جا سکے جبکہ ادارہ ء رسالت ؐ سے جاری ہونے والے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ؛

خیارکم من تعلم القرآن و علمہ

بہتر ہیں وہ لوگ جنہوں نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور تعلیم دی ۔ تعلیم دینا  زندگی کا ہُنر سکھانا ہے جو اعلیٰ ترین عمل فنون میں سے ایک ہے۔ تعلیم کا دائرہ درست تلفظ کی ادائیگی سے بہت آگے ہے ۔ حضرت نور والےؒ فرمایا کرتے تھے کہ تلاوت کی مثلث کے تین ضلعے کچھ یوں ہیں ؛

۱۔ پڑھنا ۔ ۲ ۔ سمجھنا ، ۳ عمل کرنا

صرف پڑھنا تلاوت  کا ایک تہائی ہے جبکہ کتاب کو پڑھ کر سمجھنا اور پھر اُسے اپنے نفس پر نافذ کرنا علم کے لازمی اورافضل ترین مرحلے ہیں ۔ قرآن کا حافظ قرآن کا محافظ ہوتا ہے جو اپنے عمل کی آنکھ سے کلام اللہ کو پڑھتا ہے اور سیرتِ نبوی ؐ کو اپنے کردار سے بیان کرتا ہے لیکن افسوس کہ مذہب اب تجارتی ادارہ بن چکا ہے اور کسی کو قوم کے اخلاقی زوال کا دکھ نہیں ۔ وہ اپنی تقریروں ، خُطبو ں اور سلام کی محافل کے کلچر  کو اسلام قرار دیتے اور خدا کے کلام کو قلیل معاوضہ لے کر فروخت کرتے ہیں جس سے معاشرہ اپنی اخلاقی موت مر چکا ہے۔ انا للہ و انا الیہ  راجعون ۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بیشتر مذہبی جماعتیں اقتدار کی تلاش میں ہیں جب کہ اقتدارتو رب کی شان ہے ۔ اور زندگی بندگی ہے مگر کسی عالمِ دین کو کم سن بچوں اور بچیوں کے جنسی استحصال کے بعد قتل کا دکھ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا تو وہ اس برائی کے خاتمے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے اور اس کا صفایا کر کے ہی دم لیتے مگر نہیں ۔ وہ دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں:

شہری ہو دیہاتی ہو مسلمان سے سادہ

مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن

معاشرہ گالی سے گولی تک ہر خطرناک ہتھیار سے لیس ہے اور کسی کو فکر نہیں کہ لوگوں سے یہ ہتھیار لے کر اُنہیں غیر مسلح کرے ۔ اور یہ صورتِ حال  کیا ہے ؟ پاکستان میں مذہبی اداروں کی موت کا اعلان ہے ، حالی کہ گئے ہیں:

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

اب اُس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

loading...