مولانا جلال الدین رومی پر بین الاقوامی سیمینار

  • سوموار 02 / دسمبر / 2019
  • 610

ترکی کے شہر قونیہ کی سلجق یونیورسٹی میں 20 نومبر 2019 کو مولانا جلال الدین رومی پر ایک بین الاقوامی  سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار شعبہ مولانا جلال الدین رومی اور شعبہ اردو نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔

 اس سیمینار میں ایک چار رکنی وفد کو دعوت دی گئی تھی۔  فہیم اختر، افسانہ و کالم نگار، شاعر (لندن، برطانیہ)، پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم، دہلی یونیورسٹی (بھارت)، جناب امتیاز گورکھپوری، شاعر، ایڈیٹر اردو آنگن ممبئی (بھارت)  اور  سید انور ظہیر رہبر، افسانہ، کالم و سائینسی مضامین نگار، شاعر، اردو زبان کے استاد (برلن، جرمنی) اس وفد میں شامل تھے۔

 19 نومبر کو جب یہ وفد قونیہ پہنچا تو سلجق یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر حقان قیومچی اور پروفیسر ڈاکٹر رجب درگن نے ائیرہورٹ پر تمام شرکا  کو خوش آمدید کہا اور بعد اذاں یونیورسٹی کے کمپیس میں واقع مہمان خانے میں لے کر گئے۔ اگلے روز 20 نومبر کو صبح آٹھ بجے شعبہ اردو کے دونوں پروفیسروں نے اس وفد کے ساتھ کمپیس کے ایک خوبصورت ریستوران میں ناشتہ کیا۔ اس کے بعد یہ وفد شعبہ مولانا جلال الدین رومی پہنچا۔ ان کے ساتھ شعبہ رومی اور شعبہ اردو کے پروفیسرز موجود تھے۔  آڈیٹوریم کے اسٹیج کونہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔  دس بجے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسرحسین کارا  ہال میں داخل ہوئے توپروگرام کا باقاعدہ آغاز ہو۔ا پروگرام کا آغاز تین کتابوں کی اجراء سے کیا گیا۔

 فہیم اختر کے افسانے، ترتیب و تدوین: ڈاکٹر محمد کاظم

 لفظ بولیں گے میری تحریر کے (انور ظہیر کے فن اور شخصیت پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ)، ترتیب و تدوین: امتیاز گورکھپوری

 سمندر ہے درمیاں، ولا جمال کے نظموں کا مجموعہ، ترتیب و تدوین: امتیاز گورکھپوری

نظامت کے فرائض ایک طالبہ نے انجام دئیے اور ترکی اور انگریزی زبان میں خوبصورت نظامت کی۔

پروگرام کا آغاز ترکی کے قومی ترانے سے کیا گیا۔ اس کے بعد مولانا جلال الدین رومی کی زندگی پر ایک فلم دکھائی گئی۔ فلم کے بعد شعبہ کے سربراہ  علی تمیز ال نے دور دراز سے آئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور  وائس چانسلر کی موجودگی کو پروگرام کی اہمیت اور کامیابی کی ضمانت قرار دیا۔ وائس چانسلر نے بھی تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آج اتنے دور دراز سے آئے مہمان یہ ثابت کررہے ہیں کہ آج بھی مولانا جلال الدین دنیا کے دوسرے علاقے میں یاد کیے جاتے ہیں۔

 سیمینار کے اس حصے کی گفتگو کے لیے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشین کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر سحبان ہالس کو مدعو کیا گیا تھا۔انہوں  نے ترکی اور انگریزی زبان میں بہت ہی اچھے انداز میں اس حصے کی نظامت کی۔ سب سے پہلے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم صاحب نے اپنا مقالہ پیش کیا جو مولانا رومی کی شاعری  کے تراجم کے بارے میں تھا۔  انور ظہیر رہبر نے مولانا رومی کی تعلیم اور پیغامات پر بات کی۔  مقالے میں رومی کے فارسی زبان میں وہ پیغامات بھی پڑھ کر سنائے جن کی ضرورت آج بھی اسی طرح ہے جس طرح 1270 میں تھی،  جب جلال الدین رومی موجود تھے۔  امتیاز گورکھپوری  نے رومی کی نظم اردو میں پیش کی۔ آخر میں  فہیم اختر نے مولانا رومی کی شاعری پر اپنا پر مغز مقالہ پیش کیا۔  تمام مقالے انگریزی زبان میں پڑھے گئے۔  پروگرام کے ناظم نے اس کا خلاصہ ترکی زبان میں بھی پیش کیا۔

 پروگرام کے اختتام پر حاضرین کو سوالات پوچھنے کے لیے پندرہ منٹ کا وقت دیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے بھی سوالات کیے اس کے علاوہ  طالب علموں نے بھی کئی مضامین پرسوالات پوچھے۔ سوال جواب کے بعد مہمانوں کو اسناد و تحائف سے بھی نوازا گیا اور یہ شاندار اور یادگار پروگرام اپنے خوبصورت انجام کو پہنچا۔ اس کے بعد وائس چانسلر نے شعبہ اردو کی طرف سے ظہرانے میں مہمانوں کے ساتھ شرکت کی۔  کھانے کے بعد وائس چانسلر مہمانوں کو اپنے ساتھ اپنے چیمبر میں لے کر گئے اور اپنی دادی کا دیا ہو ا  علامہ اقبال کا قدیم کلام دکھایا۔ ساتھ ہی ترکی کافی سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ آخر میں وائس چانسلر نے بھی مہمانوں کو تحائف دیے اور اس دن کی تمام تر کارروائی کی تصاویر کی سی ڈی بھی مہمانوں کو دیں۔ 

پروگرام کے دوسرے حصے میں مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر حاضری کے لیے لے جایا گیا۔  مزار پر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن سب بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہے تھے۔ کچھ لوگ فاتحہ پڑھتے نظر آئے تو کچھ عبادت میں مصروف اور کچھ قران پڑھنے میں۔ ایک

 خاتون جو شاید رومی کی سچی عاشق لگ رہی تھیں گڑاگڑا کر دعا مانگ رہی تھیں اور زاروقطار رو بھی رہی تھیں۔عجیب سا منظر تھا۔ مولانا رومی کے علاوہ وہاں ان کے خاندان کے دوسرے افراد بھی یہاں مدفون ہیں۔

قونیہ  کا شہر جہاں مولانا جلال الدین رومی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے  وہیں اس کی جامعہ بھی زا ئرین اور علم کی غرض سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس کی جامعہ سلجق شہر قونیہ کی سب سے بڑی اور ترکی کی دوسری بڑی یونیورسٹی میں شمار کی جاتی ہے۔ ترکی کا ساتواں بڑا شہر قونیہ، ترکی کے جنوب میں واقع ہے اور یہ صوبے کا دارالحکومت بھی ہے اس چھوٹے صاف ستھرے اور ترقی یافتہ شہر میں کل پانچ یونیورسٹیاں  ہیں۔ سلجق یونیورسٹی ایک بہت بڑے کیمپس کے اندر ہے جس میں اس کے تمام سائینس اور آرٹس کے شعبے موجود ہیں۔ ہر شعبے کی اپنی اپنی لائیبریری اور کینٹین ہے اس کے علاوہ کیمپیس میں ہی ایک بازار بھی ہے جس میں یونیورسٹی میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔

طلباء  و طالبات کے  ہوسٹل بھی کیمپیس میں ہی ہیں اس لیے اس بازار میں کھانے پینے اور پہنے اوڑھنے کے سب سامان وافر مقدار میں دستیاب  ہے۔ شعبے کی کینٹین کے علاوہ کئی بڑے بڑے رستوران بھی موجود ہیں۔ یوں یونیورسٹی کا یہ کمیپس ایک چھوٹا سا شہر ہے جو کہ قونیہ کے مرکز سے صرف نو کلو میٹر ہی دور ہے۔

(رپورٹ:  سید انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی)

loading...