اردن میں آتشزدگی کے واقعہ میں 13 پاکستانی جاں بحق

  • سوموار 02 / دسمبر / 2019
  • 590

وادی اردن میں زرعی زمین پر عارضی رہائش گاہوں میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 8 بچوں سمیت 13 پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔

اردن کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان ایاد العمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رات گئے بھڑکنے والی آگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی۔

خیال رہے کہ وادی اردن کے سبزیوں اور پھلوں کے لیے زرخیز علاقے میں نجی فارمز میں ہزاروں غیرملکی مزدور انتہائی خراب حالات میں مقیم ہیں۔ اردن کے محکمہ شہری دفاع کے ایک اور نمائیندے نے کہا ہے کہ ٹین کی چادروں سے بنے گھروں میں تارکین وطن مزدوروں کے 2 خاندان رہائش پزیر تھے۔ پولیس نے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

آگ کے نتیجے میں جھلسنے والے 3 افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اردن کے مشرقی علاقے کرامے میں ایک گھر میں آگ لگنے سے پیش آیا۔ وہاں 2 پاکستانی خاندان مقیم تھے اور فائر فائٹرز کی جانب سے قابو پانے سے قبل ہی آگ نے گھر کو لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اردن میں آتشزدگی کے واقعے میں 13 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے، 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جبکہ 3 افراد زخمی بھی ہوئے جن کی حالات خطرے سے باہر ہے۔ آگ رات گئے 2 بجے شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور اس وقت جاں بحق تمام افراد متاثرہ ٹینٹ میں مقیم تھے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے ہے۔ علی شیر جویا اور ان کا خاندان 1970 کی دہائی میں اردن منتقل ہوا تھا اور زراعت کے شعبے سے وابستہ تھا، جبکہ خاندان کا سربراہ علی شیر جویا آتشزدگی میں محفوظ رہا۔

خیال رہے کہ حالیہ چند سالوں میں موسم سرما میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بجلی کے فالٹس اور گیس کے چولہوں کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات پیش آئے ہیں۔

loading...