برف باری میں گرم گفتاری

 

(  یہ تحریر  گذشتہ شام میلہ ہاؤس میں منعقد شامِ دوستاں میں پڑھی گئی)

شاعراں ، دوستاں ، جیشِ دانشوراں!!!

کیا سُنو گے مرے ہجر کی داستاں!

یہ پچھتر برس کی ہے آہ و فُغاں

تم نے دیکھا ہے کب مجھ سا طفلِ نہاں

وہ جو کاندھے پہ لادے ہے کوہِ گراں

اہلِ لفظ و معانی میں اک بے زُباں

کھول کے کَن ذرا سُن توں میری کتھا

وِل دُو ہورے پو مائی (۱)، مرے دلرُبا

میں زمیں زاد ہوں ، خاک ہے ماں مری

جس کے بچے کئی رنگ اور نسل کے

ان گنت جن کی بھاشائیں اور دھرم ہیں

یہ سبھی میرے ہونے کا اظہار ہے

نارویجن ہوں ، پنجابی ، سندھی ہوں میں

ہندو ، مسلم ، یہودی ، عیسائی ہوں میں

اس زمیں پر ہے آباد کُنبہ مرا

میرے رب نے لکھا ہے مقدر مرا

آسمانی صحیفے سبھی ہیں مرے

لیکن الحاد بھی میرا اِک خواب ہے

میں تو رومی سے مارکس اور مزدک تلک

سب خزانوں کا وارث ہوں اے ہمنوا!

گھر بنایا ہے میں نے نئے شہر میں

دیکھے بھالے سے مانوس چہروں بھرا

جن میں خالد سلیمی ہے ، پرویز ہے

کارواں کا قلم باں مجاہد علی

اور نثارِ بھگت خاندانی ولی

انیس احمد اک داستاں ساز ہے

فاخرہ ، یاسمیں اور خالد تھتھال

قافلہ اہلِ دانش کا ہے با کمال

یہ اخُوت کے رشتوں کا اک شہر ہے

اوسلو ہے کہ اپنا یہ لاہور ہے

شاعراں ، دوستاں ، جیش، اہلِ صفا !

تم کو شہرِ درامن سے میرا سلام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Vil du høre på meg(1)

loading...