نوجوانوں کی بے چینی ایک ٹوئٹ سے دور نہیں ہوگی

جمعہ کو ملک بھر کے متعدد شہروں میں طلبہ یک جہتی  مارچ کے بعد پولیس نے نامعلوم تعداد میں طالب علموں اور مظاہرین کو گرفتار کیا ہے  یا ان کے خلاف متعدد الزامات میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ البتہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ  پیغام میں ملک  کی یونیورسٹیوں میں سٹوڈنٹ یونینز کو مشروط طور سے بحال کرنے   کا وعدہ بھی  کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طالب علموں اور سول سوسائیٹی کے ارکان کی گرفتاریوں یا ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے  پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گرفتار نوجوانوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جن لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں ان میں مشال خان  کے والد  اقبال لالہ  بھی شامل  ہیں جو لاہور کے مظاہرے میں شامل ہوئے تھے۔  مشال خان کو اپریل 2017  میں مردان کی  عبدالولی خان  یونیورسٹی  میں  طالب علموں  کے ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں  ہلاک کردیا تھا۔  اس سال کے شروع میں  ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے  مشال خان کو تشدد  کرتے ہوئے بربریت کے ساتھ ہلاک کرنے والے بیشتر  ملزموں کو بری کردیا تھا جبکہ صرف ایک  شخص کو موت کی سزا دی گئی تھی۔   اس فیصلہ کے خلاف اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔  اس سانحہ کے بعد سے مشال خان کے والد کو آزادی رائے   اور طالب علموں کے حقوق کے حوالے سے علامت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ لاہور کے مظاہرے میں ان کی آمد پر نوجوانوں نے پرجوش نعرے لگائے تھے۔

جمعہ کو ملک بھر کے درجنوں شہروں میں  طالب علموں اور سول سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مظاہرے کئے تھے جن میں سٹوڈنٹ یونینز بحال کرنے کا  مطالبہ سر فہرست تھا۔  اس احتجاج کے دوران  ’ ہمیں کیا چاہئے؟ آزادی آزادی‘ کے نعرے استعمال کئے گئے تھے اور کئی مقامات پر نوجوانوں نے  اپنے حقوق کے لئے پرجوش تقریریں بھی کی تھیں۔  اگرچہ  مبصرین اور سیاسی حلقوں   نے عام طور سے  ان مظاہروں کی تائد کی اور نوجوانوں کے مطالبات تسلیم کرنے کا   مشورہ دیا تھا لیکن سرکاری طور پر ان مظاہروں کو سرکاری کنٹرول اور حکومتی حکمت عملی کے خلاف سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان مظاہروں    کی الیکٹرانک میڈیا میں کوریج کی حوصلہ شکنی کی گئی اور پولیس نے  احتجاجی تقریریں کرنے والے متعدد نوجوانوں کے خلاف سنگین الزامات میں مقدمات قائم کئے۔ ان الزامات میں بغاوت کی شقات بھی شامل کی گئی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے اس احتجاج کی تشہیر رکوانے کی سرکاری حکمت عملی اور بعد میں مقدمات قائم کرنے اور گرفتاریوں سے  ہونے والے   سیاسی نقصان سے بچنے  کے لئے   آج یہ عندیہ دیا ہے کہ  کہ حکومت  سٹوڈنٹ یونینز بحال کرنے کا جائزہ لے گی۔ وزیر اعظم نے  طالب علم یونینز کو مستقبل کے  لیڈر پیدا کرنے کے لئے ضروری قرار دیا لیکن سابق  فوجی آمر ضیاالحق کے دور میں طالب علم یونینز پر لگنے والی پابندی  کو درست قرار دینے کی بھی کوشش کی۔ وزیر اعظم  نے کہا کہ طالب علم یونینز نے ماضی میں  تشدد کا راستہ اختیار کیا اور یونیورسٹیوں کے علمی ماحول کو خراب کیا۔   عمران خان کا کہنا ہے کہ اب حکومت یونینز کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ تیارکرے گی اور مشروط طور سے طالب علموں کو یونینز بنانے کی اجازت دی جائے گی۔

طالب علم یونینز بحال کرنے کا بالواسطہ وعدہ جمعہ کو ہونے والے  مظاہروں  کی جزوی کامیابی  کہی  جاسکتی ہے ۔ تاہم اس حوالے سے حکومت  کے عملی اقدامات سامنے آنے کے بعد ہی صورت حال واضح ہوسکے گی۔  اگر  حکومت اور وزیر اعظم نے  طالب علموں اور سول سوسائیٹی کے احتجاج کی نیوز ویلیو کم کرنے کے لئے کسی ایجنڈے کے تحت یہ بیان جاری کیا ہے تو اس سے ملک میں ہیجان  کی کیفیت کم ہونے کی بجائے ، اس میں اضافہ ہوگا۔ جمعہ کے مظاہروں سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ملک کے طالب علموں کے علاوہ سول سوسائیٹی  کے افراد اور عوامی حقوق اور شہری آزادیوں کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں  اظہار پر عائد مختلف النوع پابندیوں پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس تشویش کو دور کرنے کے لئے صرف یونینز بحال کرنے کا مشروط وعدہ اور نوجوانوں کو ملک کا سرمایہ قرار دینے کے بیان کافی نہیں  ہوں گے بلکہ حکومت کو عملی طور سے اپنے رویہ سے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ  دھونس اور ذبردستی   کی حکمت عملی تبدیل کرنے پر تیار ہے۔

جمعہ کے احتجاج کے بعد  مظاہرین کے خلاف  پولیس کی کارروائی  غم و غصہ میں اضافہ کا سبب بنی ہے۔ مشال خان کے معمر والد کے اقبال لالہ کے خلاف بغاوت جیسے سنگین الزام  میں مقدمہ قائم کرنا  جلتی پر تیل پھینکنے کے مترادف  ہے۔ اسی طرح پنجاب یونیورسٹی سے  پشتون کونسل کے سابق چئیرمین  عالمگیر وزیر کی گرفتاری  بھی انتہائی قابل مذمت کارروائی ہے۔  عالمگیر وزیر کے بارے میں  صورت حال بدستور غیر واضح ہے ۔  ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں کس ادارے یا ایجنسی نے کیوں  اٹھایا ہے۔ آزادی اظہار کو دبانے  کی یہ کوششیں نوجوانوں  کی بے چینی میں اضافہ کریں گی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل  نے اس صورت حال کا نوٹس لیا ہے اور حکومت کو اس عالمی تنظیم کی تشویش کا فوری طور سے جواب دینا چاہئے۔

یونینز بحال کرنے کا غیر واضح اعلان کرنے کی بجائے  وزیر اعظم کو اس احتجاج کی اہمیت و ضرورت کو  سمجھنا چاہئے۔ ان کا فرض تھا کہ  وہ اس حوالے سے غلطی کے تدارک کے لئے  صوبائی حکام کو احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور دیگر لوگوں کے خلاف  مقدمات واپس لینے کا حکم دیتے۔  ایسے  اعلان سے وہ  کسی حد تک اپنے خلوص اور سیاسی شہرت بحال کرنے  کی کوشش کرسکتے تھے۔ لیکن  عمران خان نے  35 برس پہلے سٹوڈنٹ یونینز پر لگنے والی پابندی کا الزام  طالب علموں پر ہی  عائد کرتے ہوئے گویا یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ  ایک آمر کے اقدامات  درست تھے۔ اب ان کا تقاضہ ہے کہ اگر طالب علم ’اچھے بچے‘ بننے کا وعدہ کریں تو حکومت  کوڈ آف کنڈکٹ  متعین کرنے کے بعد یونینز بحال کرنے   کی  اجازت دے سکتی ہے۔ حالانکہ یونینز تشکیل دینے اور ان کا ضابطہ اخلاق  بنانے کے لئے نوجوانوں اور طالب علموں کی رائے کو فوقیت دینے کی ضرورت ہے۔  نوجوان حکومت کی طرف سے مسلط کردہ کوئی حل قبول نہیں کریں گے۔

اسی کی دہائی  کے شروع میں جنرل (ر) ضیاالحق  کی آمریت کے خلاف طالب علموں میں جوش و ولولہ بڑھ رہا  تھاجس کے نتیجہ میں یہ امکان پیدا ہوگیا تھا کہ اگر یونینز کے  بروقت انتخابات منعقد ہوجاتے تو ضیا مخالف طالب علموں کی تنظیمیں  کامیاب ہوجاتیں  جو اس وقت ملک پر نافذ فوجی آمریت کو چیلنج کرسکتی تھیں۔ اسی اندیشے کی وجہ سے جنرل ضیا  کی حکومت نے  سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی  عائد کردی تھی۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ اس کے بعد  کسی بھی سیاسی حکومت نے اس آمرانہ فیصلہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں  کی۔ اس کی جزوی وجہ یہ ہوسکتی  ہے کہ   ایک فضائی حادثہ میں ضیا الحق کی موت کے بعد،  قائم ہونے والی کسی بھی جمہوری حکومت کو اطمینان سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حتی کہ 1999 میں جنرل(ر) پرویز مشرف نے ایک بار  پھر جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نو برس تک ملک پر فوجی آمریت مسلط  رکھی۔ تحریک انصاف  کی موجودہ حکومت بھی دراصل ملک کی جمہوری قوتوں کی طاقت کو  کم کرنے اور جمہوری نظام کو اسی قسم کے ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ کا پابند کرنے کی خواہش کے نتیجہ میں برسر اقتدار آئی ہے، جس کا حوالہ اب عمران خان سٹوڈنٹ یونینز کے  بارے میں  دے رہے ہیں۔

طالب علموں میں پائی جانے والی بے چینی ملک میں عام طور سے پیدا ہونے والی گھٹن کا ہی ایک پہلو ہے۔ عمران خان نے اپنے ٹوئٹ  میں  عالمی تعلیمی اداروں کے تجربات کی روشنی میں  طالب علموں  کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کی بات  کی ہے  لیکن نوجوانوں کے خلاف پولیس کی دست درازی اور احتجاج کے بلیک آؤٹ کی سرکاری پالیسی پر ایک لفظ  کہنے کی ضرورت محسوس نہیں  کی۔ یہ طرز عمل  طوفان کو پر کاہ سے روکنے کی کوشش کے مترادف ہوگا۔ حکومت اور وزیر اعظم نے اگر ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو  سمجھنے کی کوشش نہ کی اور ہر احتجاج کو نام نہاد مافیا کی سازش اور  لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کا حربہ  قرار دیا تو  وہ حالات کو مزید خراب  کرنے اور ملکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنیں گے۔

 عمران خان کو  اب یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ منتخب لیڈر ہیں ۔ ان کا لب و لہجہ جمہوری اور عوامی ہونا چاہئے۔ مخالفین پر زبان دراز کرکے اور ایک نااہل وزیر اعلیٰ کی توصیف میں قلابے ملاکر وہ اپنی حکومت کو مضبوط نہیں کرسکتے۔

loading...