کیا باجوہ ڈاکٹرائن ناکام ہوگئی ہے ؟

سپریم کورٹ کی طرف سے آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع پر اٹھنے والے سوالات  میں سب سے  اہم یہ ہونا چاہئے کہ  اگر فوج ایک مضبوط ادارہ ہے جس کا اپنا ایک میکنزم موجود ہے  اور جو  چین آف کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے تو پھر بار بار ایک آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کا طریقہ کیوں اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

پارلیمنٹ   میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اس معاملہ پر قانون سازی کے دوران ، اس سوال کا جواب     ممد و معاون  ہوسکتا ہے۔ اس  سوال کو نظر انداز کرکے بنایا جانے والا کوئی بھی قانون موجودہ مسائل اور مستقبل میں پیش آنے والے چیلنجز کا سامنا نہیں کرسکے گا۔ اس لئے  حکومت اور اپوزیشن کو  باہمی تکرار  سے گریز کرتے ہوئے  ساری صورت حال کا جائزہ لے کر مناسب قانون وضع کرنا چاہئے۔ جو سیاسی لیڈر  عسکری اداروں کے ساتھ وفاداری  کے اظہار کے لئے  اپنی سیاسی قوت اور عوامی نمائیندگی کے استحقاق پر سودے بازی کرتے رہے ہیں ، انہیں بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ اب معاملہ اس حد تک تو پہنچ گیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں نے تین روز تک  آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ  پر مکالمہ کیا اور  حکومت کی طرف سے بار بار پیش کئے جانے والے نوٹی فیکیشن  مسترد کرتے ہوئے قانونی سقم  کی نشاندہی کی۔   اٹارنی جنرل اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل  فروغ نسیم  تین روز کی کوشش کے باوجود  سپریم کورٹ کو مطمئن نہیں کرسکے۔ عدالت نے کسی بڑے بحران سے بچنے اور اداروں  میں تصادم  کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے  کسی قانونی جواز کے بغیر موجودہ آرمی چیف کی مدت میں عارضی   توسیع (جس کی مدت6  ماہ مقرر کی گئی ہے) قبول کی ہے اور حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ اس معاملہ  کو ریگولیٹ کرنے کے لئے   اس  مدت میں مناسب قانون سازی کرے گی۔

حکومت کو یہ قانون بنانے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ مثبت ڈائیلاگ کرنے اور اس معاملہ کو صرف   درپیش صورت حال کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے وسیع تر قومی مفاد  میں دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ اقدام کرتے ہوئے یہ بھی باور کرنا ہوگا کہ  فوج کا وقار کسی ایک جنرل  کے عہدے کی مدت میں توسیع  سے نتھی نہیں کیا جاسکتا۔   ضروری ہے کہ عمران خان اور ان کی کابینہ اس معاملہ کو حکومت کی عزت کا  سوال بناکر اپوزیشن کے ساتھ مقابلہ اور ضد کی صورت حال پیدا کرنے سے گریز کریں۔ اگرچہ  گزشتہ روز سپریم کورٹ کا مختصر حکم سامنے آنے کے بعد  وزیر اعظم نے یکے بعد دیگرے ٹوئٹ پیغامات میں  یہی رویہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے  پیغامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ بعض درپردہ ہاتھ اداروں کے درمیان تصادم چاہتے تھے جنہیں اپوزیشن کی تائد بھی حاصل تھی تاکہ اس کے لیڈر اپنی  کرپشن چھپا سکیں۔  

وزیر اعظم کے اس بیان کو نرم ترین الفاظ میں بھی غلط بیانی اور عاقبت نااندیشی کہا جائے گا۔  آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کا معاملہ حکومت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت بن چکا ہے جس  کی  تین روزہ سماعت کے دوران  سپریم کورٹ کے ججوں نے بار بار نشاندہی کی۔ یہ درخواست اپوزیشن عدالت میں لے کر نہیں گئی تھی  بلکہ ایک عام شہری نے یہ درخواست دائر کی تھی جو  اسے واپس لینے پر اصرار کرتا رہا لیکن چیف جسٹس اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اس لئے  وزیر اعظم  اداروں کے تصادم  کی خواہش کرنے والے مافیا کو تلاش کرنے کی بجائے اگر اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے  مستقبل میں  بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں تو ان کی حکومت اور سیاسی شہرت کے لئے بہتر ہوگا۔

ماضی میں  آئین کو نظر انداز کرکے اقتدار  پر قبضہ کرنے والے جرنیلوں نے اپنے عہدے کی مدت میں خود ہی توسیع کی روایت  قائم کی تھی۔   اب عدالت عظمی میں یہ راز بھی فاش ہوگیا کہ اس اقدام  کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی لیکن آئین کو منسوخ یا معطل کرنے والے فوجی آمر وں کے نزدیک قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ تاہم  2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال مزید کام کرنے کا موقع دے کر  پہلی بار کسی سول حکومت کی جانب سے  آرمی چیف کو توسیع دینے کی روایت قائم کی۔  اس توسیع کو بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کے اس دور میں  موجود سیاسی صورت حال اور میمو گیٹ اسکینڈل  کے  پیش منظر میں دیکھنا ضروری ہوگا۔    پیپلز پارٹی نے فوج کے سربراہ کی توسیع کا فیصلہ    جمہوری تسلسل کے لئے کیا تھا۔ طویل فوجی دور کے بعد جمہوری ادارے کمزور اور سول حکومت عدلیہ  کے علاوہ دیگر ادارہ جاتی دباؤ کا شکار تھی۔

  اب تحریک انصاف کی حکومت نے  جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’علاقائی سیکورٹی کی صورتحال ‘ کا عذر پیش کیا ہے۔ لیکن  یہ  حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہئے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ  نے  نومبر 2016 میں کمان سنبھالنے کے بعد علاقائی امن و سلامتی، قومی سیاسی استحکام اور معاشی بہتری کا ایک خاص ویژن پیش کیا جسے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ سال جنوری میں باجوہ ڈاکٹرائن کا نام دیا تھا۔ 2018 کے شروع مہینوں میں جنرل باجوہ  نے ملک کے چیدہ چیدہ  اینکرز اور صحافیوں کے ساتھ ایک طویل  غیر رسمی  (آف دی ریکارڈ) ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی کوئی  باقاعدہ رپورٹنگ نہیں ہوئی لیکن جو معلومات سامنے آئیں ان کی روشنی میں ملکی نظام اور معاملات پر جنرل باجوہ کی تشویش اور اصلاح احوال کے لئے ان کے نقطہ نظر کا ایک خاکہ سامنے آیا۔ اس طرح باجوہ ڈاکٹرائن کا تصور واضح بھی ہؤا اور راسخ بھی ہوگیا۔

جولائی 2018 کے انتخابات اور ان کے نتیجے میں تحریک انصاف کے اقتدار تک پہنچنے کےعمل کو  بھی باجوہ ڈاکٹرائن سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایک طرح  سے ملک کے آلودہ سیاسی ماحول کو شفاف بنانے کے لئے  دیانت داری کی شہرت رکھنے والے ایک مقبول لیڈر کو اقتدار تک پہنچنے میں سہولت فراہم کرنا اس تصور کا ہی حصہ تھا۔  یہی وجہ ہے کہ     اپوزیشن کی طرف سے عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کا طعنہ سننا پڑتا ہے اور  اسی لئے  موجودہ حکومت کے فیصلوں میں  فوج  کی مرضی کو شامل سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان نے کبھی اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ عسکری ادارے اور سول حکومت کے درمیان قریبی اشتراک موجود ہے۔

یہ   تعاون  اس وقت تک  تو مستحسن اور قابل قبول   ہوسکتا ہے    اگر فوج حکومت کا ایک زیلی ادارہ  بن کر کام کرے اور منتخب حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے فیصلے کرنے کے اصول پر گامزن ہو۔ اس کے برعکس تحریک انصاف نے پہلے دن سے پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا اور  اہم امور میں جنرل باجوہ کی سرپرستی اور راہنمائی کو بنیادی اہمیت  حاصل رہی۔ اسی حکمت عملی کے نتیجہ میں اس سال  کے شروع میں قومی ترقیاتی کونسل  کے نام سے ایک نیا قومی ادارہ قائم کیا گیا جس میں وفاقی وزرا کے علاوہ آرمی چیف کو خاص طور سے شامل کیا گیا۔   جنرل باجوہ  بیرونی دوروں میں وزیر اعظم  کے ہم رکاب رہتے ہیں۔ یہ باتیں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں  کہ موجودہ حکومت نے  اقتدار سنبھالنے کے بعد چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے جو خصوصی مختصر المدت مالی پیکجز حاصل کئے تھے، ان میں آرمی چیف نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کی  طرف سے  جنرل  قمر جاوید باجوہ  کو مزید تین سال کے  لئے فوج کا سربراہ بنانے کے اقدام کو  اس پس منظر میں دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ اسی حوالے سے علاقائی اور قومی معاملات میں رونما ہونے والے حالات کو باجوہ ڈاکٹرائن کی روشنی میں دیکھتے ہوئے اس نظریہ، تصور یا ویژن کا جائزہ لینا  بھی اہم ہوگا۔  باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت علاقائی امن کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ کرتار پور راہداری کا منصوبہ بھی جنرل باجوہ کی اسی خواہش کے نتیجے میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔ لیکن  پاکستان کی طرف سے خیرسگالی کا کوئی اقدام  بھارت کو مذاکرات اور امن پر آمادہ کرنے  میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اگست میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے،  اسے عملی طور سے بھارت کا حصہ بنا کر نئی دہلی نے پاکستان کے ہر امن منصوبے کو ناکام بنایا ہے۔ اس طرح کشمیر  کے سوال پر پاکستان کو بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔

خارجہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان بدستور سعودی عرب اور ایران کی چپقلش میں  پھنسا ہؤا ہے  اور اپنی کوئی غیر جانبدارانہ یا خود مختار حکمت عملی سامنے نہیں لاسکا۔ افغان طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات میں کامیابی خارجہ پالیسی میں   اہم  پیش رفت تھی لیکن اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کی وجہ سے   پاکستان  کو بدستور امریکی دباؤ اور کابل کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔ گزشتہ  پانچ برس سے  سی پیک کو  پاکستانی معیشت کے  لئے  گیم چینجر کی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔  لیکن ایک طرف چین کے ساتھ پہلے جیسی گرمجوشی مفقود ہے تو دوسری طرف امریکہ سی پیک پر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔ پاکستان  اس امریکی مؤقف پر تردیدی بیان جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکا۔

تاہم باجوہ ڈاکٹرائن کا  اہم  ترین منصوبہ تحریک انصاف کی حکومت  کا قیام اور اس کی کارکردگی کو کہا جاسکتا۔ اس حکومت نے آرمی چیف کی توسیع کے نوٹی فیکیشن کے حوالے سے جس اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے ، اسی  سے  حکومت کی انتظامی اور حکمرانی کی صلاحیت  کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت سیاسی ہم آہنگی اور معاشی  استحکام   پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ تصادم کی کیفیت  پر اب ہر ادارہ اور اس ملک کا ہر کس و ناکس حیران و پریشان ہے۔ ان حالات میں اگر  یہ کہا جائے کہ باجوہ ڈاکٹرائن اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔  حکومت اگر  جنرل باجوہ کو صرف اس لئے مزید تین برس تک اس عہدہ پر برقرار رکھنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے روڈ میپ کے مطابق معاملات چلانے میں حکومت سے تعاون کرتے رہیں تاکہ ملک کی تقدیر تبدیل کی جاسکے تو یہ غلط حکمت عملی ہوگی۔  جنرل باجوہ کا کوئی منصوبہ کامیابی سے پایہ تکمیل تک  نہیں پہنچ پایا ہے۔

پارلیمنٹ میں آرمی چیف کے عہدہ کی مدت کا تعین کرتے ہوئے اور اس کی توسیع کے لئے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے گزشتہ چند برس میں سامنے آنے والے حالات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ ملک کے سیاست دانوں کو  اس وقت ایک ایسے ادارے کی قیادت  کے بارے میں ٹھوس اصول طے کرنے کا نادر موقع ملا ہے جو کسی نہ کسی طرح ملکی سیاست میں اہم ترین  کردار ادا کرتا رہا ہے۔  واضح اصولوں اور میرٹ  کی بنیاد پر بننے والا قانون ہی،  اس ملک میں فوج کے وقار اور جمہوری نظام کے استحکام میں کردار ادا کرسکے گا۔

loading...