سپریم کورٹ کا حکم آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ طے نہیں کرسکا

سپریم کورٹ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان  نے اپوزیشن اور  سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے میڈیا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے۔ جس عدالتی حکم کو حکومت کے نمائیندے اپنی کامیابی اور عدالت عظمی ٰ کا ’احسان عظیم‘ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں ،  اس نے  نہ صرف حکومت بلکہ ملک میں ادارہ جاتی نظام کے نقائص اور کمزوریوں کو  آشکار کیا ہے۔

عدالت نے آرمی چیف کی تقرری اور مدت ملازمت کے تعین کے لئے قانون بنانے  کا حکم دیتے ہوئے  جنرل قمر جاوید باجوہ کو   6 ماہ کے لئے مشروط طور سے اس عہدے پر کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس مدت میں  حکومت آئین کی شق 243 کے تحت  آرمی چیف کی تقرری یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کے علاوہ  یہ  بھی طے کرے گی کی اس عہدے کی کیا مدت  مقرر کی جائے۔ عدالتی کارروائی کے دوران  یہ بات واضح ہوئی ہے کہ قواعد و ضوابط میں   آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا  تعین نہیں کیا گیا۔   یہ طریقہ کار سے متعلق ایک معاملہ تھا جس کی سپریم کورٹ نے بجا طور سے نشان دہی کرتے ہوئے اس کی تصحیح کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

  تین روزہ بحث اور اٹارنی جنرل کے علاوہ فروغ نسیم کے ساتھ مکالمہ کرنے کے باوجود سپریم کورٹ کا مختصر حکم  نہ تو آرمی چیف کی تقرری یا توسیع  کے معاملہ کو حل کرسکا ہے۔ اور نہ ہی اس اصولی اور اہم ترین نکتہ پر کوئی مؤقف سامنے لانے میں کامیاب ہؤاہے کہ  کسی آرمی چیف کے عہدہ کی مدت میں توسیع کیوں کی جائے  یا    سروس مکمل کرنے والے آرمی چیف کو ہی کیوں دوبارہ اس عہدہ پر کام کرنے کے لئے مقرر کیا جائے۔  حالانکہ آج کی بحث کے دوران بھی  ججوں نے یہ نکتہ اٹھایا ضرور ہے کہ اگر ایک جنرل کو تین سال کی توسیع دینا مقصود ہے تو کیا کسی بہت ہی قابل جنرل کے سامنے آنے کی صورت میں اسے تیس برس کے لئے فوج کا سربراہ بنا دیا جائے گا۔

ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی کی  دائر کردہ درخواست پر غور  کرتے ہوئے سپریم  کورٹ میں تین دن تک آرمی چیف کی نئی تقرری یا توسیع کے  معاملہ پر بھد اڑائی گئی اور ریمارکس کے نام پر نت نئی باتیں کی گئیں۔ اب انہیں ’بریکنگ نیوز‘ بنانے پر فروغ نسیم میڈیا چینلز پر غصہ نکال رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی  کی دھمکی دی جارہی ہے۔  چیف جسٹس نے آج بھی کہا کہ’ عدالت کے پاس راہی آیا تو ہم نے اسے جانے نہیں دیا‘۔ یہ تو درست ہے کہ سپریم کورٹ نے ریاض راہی کی درخواست کو بنیاد بنا کر خوب دل کی بھڑاس نکالی لیکن  اس سے بھی  زیادہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تو درخواست دہندہ کو اپنی پٹیشن واپس لینے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی ان تین دنوں میں کسی موقع پر ان سے کہا گیا کہ ہاں بھئی آپ درخواست لے کر آئے ہیں ،  آپ بھی اپنا مؤقف بیان کریں۔ سپریم  کورٹ کا یہ طرز عمل شفافیت یا انصاف کے اصولوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔  

عدالت کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ وہ کیوں ایک درخواست گزار کو اپنی استدعا  واپس لینے سے انکار کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ سماعت کے دوران  ماحول میں ’تازگی‘ پیدا کرنے کے لئے درخواست دہندہ کا ذکر کرنے کے علاوہ  اسے اپنا  مقدمہ پیش کرنے  کا موقع ملنا چاہئے تھا۔ ججوں  نے اس حوالے سے جو طرز عمل اختیار کیا ہے ، اسی کی وجہ سے  اس اندیشے کو تقویت ملے گی کہ  معاملہ اس ایک درخواست سے  زیادہ پیچیدہ اور تہ دار  ہے۔ یعنی جو دکھائی دے رہا ہے کہانی کے کچھ پہلو  اس کے علاوہ بھی   ہیں۔ اس صورت حال میں  یہ سوال بدستور فضا میں معلق رہے گا کہ  آئین  اور   آرمی ایکٹ کی جن شقات پر تین روز تک  مکالمہ کیا گیا، کیا اصل معاملہ بس وہیں تک محدود تھا یا ملک کے اہم ترین عہدے پر تقرری کے حوالے سے  بحث کا مقصد حکومت اور اداروں کو کوئی پیغام پہنچانا تھا۔ 

اس میں شبہ نہیں  ہے کہ اس وقت جو  سیاسی اور انتظامی صورت حال ملک میں موجود ہے ، اس میں ہر ادارہ خواہ وہ منتخب جمہوری ادارہ ہو ( پارلیمنٹ و حکومت) یا دیگر غیر منتخب ادارے ہوں ( عدلیہ، فوج، الیکشن کمیشن، نیب وغیرہ)  غیر یقینی کا شکار ہے۔   اداروں کی آئینی حدود مقرر  ہونے  کے باوجود غیر واضح ہیں اور ان دعوؤں کی گونج میں  کہ پارلیمنٹ خودمختار اور ملک کا سب سے بااختیار ادارہ ہے، صرف یہی ایک ادارہ غیر مؤثر ہے  اور  عدم فعالیت کا شکار ہے۔ حکومت کے نمائیندے جس قسم کے بیان دیتے ہیں،  ان سے یہی لگتا ہے کہ  احتساب کی وہ  میزان ان کے ہاتھ میں ہے جو نیب کا دائرہ کار ہونا چاہئے۔  احتساب بیورو کے لائق فائق چئیر مین جس طرح میڈیا  سے گفتگو یا تقریروں کے ذریعے سیاست کا شوق پورا کرتے ہیں ، اس سے بھی یہ  جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ کس کا کیا کام ہے ؟ اور ہر ادارہ  دوسرے ادارے کے معاملہ میں ٹانگ اڑانا  ہی کیوں اپنی بقا کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔

سپریم کورٹ میں آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملہ پر جو سنسنی خیز ڈرامہ سامنے آیا ہے ، اس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے بہت  سے سبق موجود ہیں  لیکن اس کے  لئے یہ لازم ہے کہ سب اداروں اور متعلقہ افراد کو یہ احساس ہو کہ حالات کو  اسی ڈگر پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ وزیر اعظم عمران خان  سپریم کورٹ سے آرمی چیف کو 6 ماہ  کی عارضی اور مشروط توسیع  کو اپنی کامیابی اور دشمن اور ملکی مافیا کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ اگر دشمن ملک کے میڈیا میں اس معاملہ کو اچھالا گیا ہے تو اس کا سبب یا تو حکومت نے اپنی نااہلی کے ذریعے فراہم کیا ہے یا عدالت میں ایک نکتہ پر  کارروائی کو غیر معمولی طور سے طول دے کر  شبہ کا ماحول پیدا کیا گیا ۔

اس معاملہ میں بھی  معمول  کے مطابق میڈیا، مبصر اور اپوزیشن مل جل کر حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ حالانکہ حکومت کا قصور اتنا ہی تھا کہ  توسیع کا حکم دیتے ہوئے ماضی کی طرح معمول کا  طریقہ اختیار کرلیا گیا ۔ جسے ایک غیر معروف درخواست دہندہ کی پٹیشن کو بنیاد بنا کر  سپریم کورٹ میں خوب اچھالا گیا۔ اس حوالے سے حکومت پر تنقید کو بھی پاکستان کے اسی دیرینہ پیٹرن کی روشنی میں  سمجھنے کی ضرورت ہے جس  میں سیاست دان ہی نااہل ہوتا ہے،  بدعنوانی بھی وہی کرتا ہے اور ملکی مفاد کو بھی اسی  کی حرکتوں کی وجہ سے  نقصان کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔ اس ملک کی فوج یا عدالت  کبھی کوئی غلطی نہیں  کرتی۔ کوئی جنرل یا جج بدعنوان نہیں ہؤا۔  سیاست دانوں کا نسل در نسل  کرپشن کا ریکارڈ رکھنا تو عین  قومی مفاد  میں ہے لیکن جرنیلوں اور ججوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ جو  کھلواڑ کیا ہے، اس پر سوال اٹھانا ملک و قوم سے غداری قرار پاتا ہے۔

آرمی چیف  کے عہدے میں توسیع کے معاملہ میں  بھی وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر سے جاری ہونے والے  حکم ناموں   کے فرق اور زیر زبر کی تبدیلی کو خوب  پرکھ لیا گیا اور  اس پر ٹیلی ویژن پر  چلنے والی  خبر یا سوشل میڈیا  پر   ہونے والے تبصروں کو  تو   قومی مفاد کے خلاف قرار دے لیا گیا لیکن کسی نے یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں   کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیوں اپنی توسیع کے متنازعہ ہونے کے بعد  خود ہی وقت پر آج رات ریٹائر  ہونے کا اعلان  نہیں کیا؟ کیا یہ ایک جائز اور درست سوال نہیں تھا۔ کیا عدالت میں یہ نکتہ نہیں اٹھایا گیا کہ ملک کا دفاع فوج بطور ادارہ کرتی ہے۔ یہ دفاع کسی ایک فرد کا مرہون منت نہیں ہے۔ پھر  فرد خود کو ہی کیوں اس  عہدے کے لئے ناگزیر سمجھ رہا ہے؟

کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم خود جنرل باجوہ کے عہدے  کی مدت میں توسیع چاہتے تھے۔  یہ  دعویٰ  ماضی کے تجربات کی روشنی میں بےبنیاد سمجھا جائے گا کیوں کہ ماضی کے سب جرنیل خود ہی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرتے رہے تھے  ۔ گزشتہ 20 برس کے دوران  صرف جنرل راحیل شریف اپنے وقت پر ریٹائر ہوئے تھے  لیکن وہ بھی جانے سے پہلے ملک بھر میں ’جانے کی باتیں نہ کرو ‘ کے بینر لگوا  کر وزیر اعظم کو اپنے ’ناگزیر ‘ ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ جب نواز شریف کسی قیمت پر اس توسیع کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سعودی عرب میں پرآسائش ملازمت کے عوض وہ بہ دل نخواستہ  پاک فوج سے ریٹائر ہونے پر آمادہ ہوئے تھے۔ اب جنرل باجوہ بھی خود کو ملک و فوج کے لئے قیمتی اثاثہ سمجھتے ہوئے  ،  ہر قیمت  پر اس عہدے سے چمٹے رہنے پر مصر ہیں۔ حالانکہ وہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر غور آتے ہی  توسیع سے انکار کرکے خود کو، فوج کو اور حکومت کو شرمندگی اور پریشانی سے بچا سکتے تھے۔

سپریم کورٹ میں  سماعت کے دوران  نہ صرف جنرل باجوہ کی توسیع کے حکم نامے زیر بحث آئے بلکہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کے علاوہ  جنرل  راحیل شریف  کی ریٹائرمنٹ تک کی تفصیلات طلب کی گئیں۔ کسی جج نے چئیرمین جوائینٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چئیر مین کی ریٹائرمنٹ یا تقرری کے حکم نامے دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں  کی۔ حالانکہ سی جے سی ایس سی  کا عہدہ  آرمی چیف سے برتر ہوتا ہے کیوں کہ  تینوں مسلح افواج کے چیف اس کے تحت آتے ہیں۔ نہ یہ پوچھنے  کی زحمت کی گئی کہ  ’علاقائی سلامتی کی صورت حال ‘ اتنی ہی سنگین ہے تو چئیرمین جوائینٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  کو توسیع کیوں نہیں دی گئی۔ نہ  یہ دریافت کیا گیا کہ فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کس طرح مقرر ہوتے ہیں اور ان کی تقرری  یا توسیع کے بارے میں بھی کوئی قاعدہ  قانون موجود ہے یا نہیں؟ صرف آرمی چیف کے  عہدے کو ٹارگٹ کرکے کارروائی کرنے کا کیا مقصد  ہو سکتا ہے؟

عدالت عظمی کے فیصلہ کو خواہ کتنا ہی سراہ لیا جائے اور وزیر اعظم  عمران خان ، چیف جسٹس کھوسہ کو   تاریخ کا قابل ترین  جج قرار دینے کے لئے چاہے  جتنے  بھی  اسمائے صفت استعمال کرلیں،  اب یہ   معاملہ کسی سنو بال کی طرح حجم و وزن   میں پھیلتا چلا جائے گا۔  سپریم کورٹ میں ہونے والی بحث نے اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی نشاندہی کی ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فوج کے سربراہ کی مدت مقرر کرنے کا قانون بناتے وقت توسیع دینے پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ  حکومت کو پابند کرے کہ صرف سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل کو ہی فور اسٹار جنرل بنا کر فوج کا سربراہ مقرر کرنے کے اصول پر عمل شروع کرے۔ جنرل باجوہ موجودہ 6 ماہ کی توسیع کے بعد ریٹائرمنٹ لے کر فوج کے وقار  میں اضافہ اور اپنے ساتھیوں کی اہلیت پر اعتماد کا اظہار کرسکتے ہیں۔

loading...