قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال

اسلام آباد ہائی کورٹ نے  سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے الزام میں مقدمہ کی  سماعت کرنے  والی خصوصی عدالت کو  فیصلہ جاری کرنے سے روک کر انصاف کا بول بالا کیا  ہے۔ تاکہ ایک مفرور ملزم بھی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے پاکستانی عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکا  اور اس کا مؤقف سنا ہی نہیں گیا۔      دوسری طرف سپریم کورٹ بھی  ایسا ہی   شفاف انصاف فراہم کرنے کے  لئے آج سارا دن  جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کے سوال پر غور کرتی رہی۔  عدالت کا وقت ختم ہونے  تک یہ طےنہیں ہو سکا تھا کہ قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے اور عدالت کو کون سے قانون کے تحت اپنا فیصلہ سنانا ہوگا۔

پرویز مشرف کیس میں  اسلام آباد ہائی کورٹ نے  وزارت داخلہ کی  درخواست کو منظور کرلیا ہے  کہ آئین کی شق 6 کے تحت   سابق فوجی حکمران کے  مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو    فیصلہ سنانے سے   روکا جائے۔ وزارت داخلہ کا مؤقف تھا کہ  حکومت نے  استغاثہ  کی قانونی ٹیم کو برطرف کردیا تھا ، اس لئے خصوصی عدالت سرکار کا مؤقف سنے بغیر  فیصلہ صادر کرنے والی ہے جو  لاقانونیت اور ناانصافی کے مساوی ہوگا۔   ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ تو اب طے ہوچکا ہے کہ حکومت  ہو یا عدالت ، وہ عام آدمی کے سلب ہوتے حقوق پر تو خاموش رہ سکتی ہے لیکن سابقہ حکمرانوں کے معاملہ میں  انصاف  فراہم کرنے کے لئے  قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔  ان معاملات پر سرکار کے علاوہ میڈیا کی بھی خاص توجہ مبذول رہتی ہے  جس کی وجہ سے  غیر اہم معاملات میں بھی  ایسی سنسنی پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ اپنی بھوک اور روزمرہ مسائل کو بھول کر ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی لمحہ بہ لمحہ خبروں اور  تبصروں سے پیٹ بھرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

اسلام  آباد ہائی کورٹ  میں اس معاملہ کی سماعت  کرنے والے ججوں نے اگرچہ پرویز مشرف کیس میں حکومتی طریقہ کار پر سخت نکتہ چینی کی اور سوال اٹھایا کہ کیا حکومت اس مقدمہ کو ختم کرنا چاہتی ہے یا اسے کسی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے؟  حکومت خواہ تحریک انصاف ہی کی ہو اور  چاہے  اس کی دلی خواہش و کوشش ہو کہ کسی طرح  پرویز مشرف کو عدالتی چنگل سے بچالیا جائے لیکن  ہائی کورٹ میں اس کی نمائیندگی کرنے والے وکیل  یہ اعتراف کرنے  کا حوصلہ نہیں کرسکے۔ لہذا انہیں عدالت سے ریلیف تو مل گیا لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر ہؤا ہے کہ حکومت 5 دسمبر تک استغاثہ کے نئے وکیل مقرر کرے اور خصوصی عدالت جلد از جلد سرکاری  وکیلوں اور پرویز مشرف کے ذاتی وکیل کے  دلائل سن کر  اس معاملہ میں قانون کے مطابق انصاف  کردے۔

انصاف  چونکہ عدالتی فیصلوں کو کہا جاتا ہے ، اس لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری ہونے ولا آج کا حکم نامہ بھی    انصاف ہی  کہلائے گا کیوں کہ  یہ حکم جاری کرتے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ  کسی بے گناہ کو سزا نہ مل جائے خواہ اس دوران کئی گناہ گار سزا پانے سے بچ جائیں۔ اس حد تک پاکستانی عدالتوں  کا رویہ انصاف  کرنے اور قانون کو سب کے لئے مساوی ٹھہرانے کے طریقہ کے عین مطابق کہا جائے گا۔ تاہم یہ مانتے ہوئے  ، یہ بھولنا پڑے  گا کہ  خصوصی عدالت گزشتہ پانچ برس  سے اس مقدمہ میں سر کھپا رہی ہے ۔ اس دوران ملزم ملک سے فرار ہونے میں  کامیاب ہوگیا اور جس عدالتی نظام اور حکومتی انتظام کے تحت  اسے باہر جانے کی سہولت فراہم کی گئی، وہ اپنی جگہ پر  پہلے جیسی استقامت سے موجود ہے۔ نہ عدالتوں کو شرمندگی ہے اور نہ حکومت ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد  سے پرویز مشرف  کو  آئین سے غداری  کے الزام سے بچانے  کے لئے  ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈا اختیار کیا ہے اور ہر بار ہی وہ کامیاب رہی ہے۔

اکتوبر میں  جب پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ کا ڈراپ سین ہونے والا تھا اور   خصوصی عدالت کے  کئی  سربراہ تبدیل ہونے اور  آئین شکنی کے الزام میں پرویز مشرف کے علاوہ دیگر لوگوں کو ملوث  کرنے  کا معاملہ بالآخر سپریم کورٹ سے طے ہو گیا  تو سرکار کو خیال آیا کہ خصوصی عدالت میں مقدمہ پیش کرنے والی ٹیم تو سابقہ حکومت کی نامزد کردہ تھی۔ لہذا اسے فارغ کرنا  ضروری سمجھا گیا۔   آج حکومت نے ہائی کورٹ کے اس سوال کا تو کوئی جواب نہیں دیا کہ  وکیلوں  کی ایک ٹیم کو برطرف کرنے کے بعد  دوسری ٹیم کیوں مقرر نہیں  کی گئی۔ اور اگر حکومت پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کو غیر ضروری سمجھتی ہے تو اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا۔ البتہ  اس مؤقف کی تائد میں حکم حاصل کر لیا گیا کہ  پرویز مشرف نے خواہ کتنا ہی بڑا جرم کیا ہو لیکن   قانون ان کے ساتھ عدم مساوات کا برتاؤ نہیں کرسکتا۔

   اسلام ہائی کورٹ کو یہ اصول تسلیم کرنا پڑا۔  ملک کا آئین چونکہ بے زبان اور لاچار ہے لہذا وہ ماضی کی طرح اب بھی خود پر حملہ آور ہونے والوں  کے خلاف انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ اگر دستور بھی ایک فرد ہوتا اور اپنے  دفاع کے لئے تگڑا وکیل کرکے دلائل دینے کی پوزیشن میں ہوتا تو  یہ سوال سامنے آتا کہ قانون ہی آئین شکنی کی حفاظت کرے گا تو اس کی کیا حیثیت باقی بچے گی۔

تاہم خاطر  جمع رکھی جائے۔ عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے  کہ دسمبر کے پہلے ہفتے تک  نئے وکیل مقرر کئے جائیں اور خصوصی عدالت جلد از جلد  اس معاملہ کی  سماعت مکمل کرے اور آئین کی حفاظت جیسے اہم معاملہ پر فیصلہ صادر کیا جائے۔   تاہم جس نظام میں اہل پاکستان سانس لے رہے ہیں وہاں  چند روزہ  مہلت کو کئی ماہ اور سالوں پر محیط کرنا کوئی ایسا دشوار کام نہیں ہے۔  ضیا الحق  ایک دہائی  تک یہ کام نہایت خوبی سے کرتے رہے تھے۔خصوصی عدالت کے قیام کے وقت بھی  کس کو گما ن تھا کہ اسے فیصلہ کرنے میں پانچ برس بیت جائیں گے پھر بھی عین  اس اعلان سے پہلے زبان بندی کا حکم جاری ہوجائے گا۔ 

یہ   ایک ایسی عدالت  ہے جسے صرف ایک معاملہ کا فیصلہ کرنا تھا ۔ وہ معاملہ بھی ایسا  ہے  جس پر ملک میں قانونی یا سیاسی طور سے دو رائے موجود نہیں ہیں۔   اس کے باوجود اس  نظام میں  ایک عدالتی فیصلہ سننے کی تاب نہیں ہے۔    کیوں کہ پرویز مشرف نے جس ادارے کے سربراہ کی حیثیت میں  یہ فیصلہ کیا تھا، اسے آج بھی معاملات پر  کامل اختیار   حاصل ہے اور وہ آج بھی سابقہ ہی سہی اپنے چیف  کے ساتھ وفاداری نبھانے کو ادارے کی عظمت کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔  اسی لئے سپریم کورٹ میں  آرمی چیف کے عہدے  کی مدت میں توسیع  کے معاملہ پر ہونے والی بحث میں طویل حجت کے بعد اٹارنی جنرل  انور منصور علی خان  نے  بالآخر اس بات پر اپنی تان توڑی کہ ’بعض اوقات سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے۔  عدالت کو قانون پر اتنا سخت نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی لچک نہ ہو‘۔

سپریم کورٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی نئی تقرری یا عہدہ  کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سارا دن دلچسپ مکالمہ ہوتا رہا ۔  تاہم نہ اٹارنی جنرل قانونی نکات اور حکومتی طریقہ کار کی پوری طرح وضاحت کرسکے اور نہ ہی ججوں کو اس معاملہ میں جلدی کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔   البتہ آج کی عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ  کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ضرور محسوس ہوئی کہ میڈیا نے عدالتی حکم کو غلط رپورٹ کیا ہے۔ عدالت اب بھی ریاض حنیف راہی  کی درخواست پر ہی اس معاملہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ریاض راہی  نے   سوموار کو آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر   کی تھی لیکن کل  خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے  بلکہ یہ درخواست عدالت کو بھجوا دی کہ  وہ یہ مقدمہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مفاد عامہ میں اس پر کارروائی جاری رکھنے کا حکم صادر کیا۔ اسے میڈیا نے شق 184(3) کے تحت کارروائی یعنی سو موٹو قرار دیا۔ چیف جسٹس نے اس کی تردید کردی ہے اور  آج عدالت میں موجود ریاض حنیف راہی سے کہا کہ دیکھیں ہم نے آپ کی درخواست کو زندہ رکھا ہے۔ ہم اس پر کام کررہے ہیں۔  راہی  منمناتے ہی  رہے کہ ’حضور، حالات بدل گئے ہیں ۔ میں درخواست سے دست کش ہونا چاہتا ہوں ‘۔  لیکن ذبردست کے سامنے کسی کمزور کی منمناہٹ کون سنتا ہے۔  وہ تو بھلا ہو فراخدل ججوں کا کہ رپورٹنگ  میں  کوتاہی پر دو چار رپورٹروں اور میڈیا ہاؤسز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے سے گریز کیا گیا۔

سوچنا چاہئے کہ  وہ کون سی مجبوری ہے کہ عدالت عظمی کے ججوں کو ایک مجبور درخواست گزار  کی آڑ میں ملکی تاریخ کے اہم ترین معاملہ پر کارروائی  کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔  وہ کون سے عوامل ہیں کہ  سپریم کورٹ  آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ کو اہم اور مفادعامہ میں  تو سمجھتی ہے لیکن ا س کے  لئے اپنا آئینی اختیار استعمال کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔   ایسا کون سا عذر ہے کہ ایک مجبور درخواست گزار کو اپنی ہی درخواست واپس لینے کا ’حق‘ دینے سے انکار کیا جارہا ہے؟ درخواست گزار خاموش اور جج اور اٹارنی جنرل سینگ پھنسائے معاملہ کے بال کی کھال اتارنے میں  مصروف ہیں؟

ظاہر ہے کہ عدالت کو انصاف کرنا ہے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ عدالتیں انصاف ہی کرتی ہیں۔ آرمی چیف کے معاملہ میں  بھی انصاف ہی ہونا ہے۔  فاضل ججوں نے کہہ دیا ہے کہ ماضی کی غلط کاریوں کا ازالہ ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ میں جاری  بلند آہنگ مکالمے میں  خبر بھی ہے، سنسنی بھی ہے اور  پیغام بھی۔  کون،  کیا پیغام ، کس کو پہنچانا چاہ رہا ہے۔ یہی اس سارے معاملے  کو دلچسپ اور پراسرار بناتا ہے۔ تو آئیے ہم بھی رات گزارنے کی کوشش کریں کہ ایک نیا دن نیا سسپنس لے کر طلوع ہونے کو ہے۔ قانون کی کمزور چھڑی اور موٹی کھال والے دستور کی کہانی کو ابھی مکمل ہونا ہے۔

loading...