پرویز مشرف بچاؤ مہم: مقید جمہوریت کی آخری ہچکی

اب بھی اگر کوئی شبہ موجود ہے تو اسے دور ہوجانا چاہئے۔ سب کے لئے  مساوی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے والی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست  کی ہے کہ  سابق فوجی آمر  جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین  غداری کی سماعت کر نے والی خصوصی عدالت کو اس مقدمہ میں فیصلہ جاری کرنے سے روکا جائے۔

وزارت داخلہ کو خصوصی عدالت کے حق فیصلہ کو چیلنج کرنے کا خیال   اس فیصلہ کا اعلان ہونے سے دو روز پہلے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ہونے والی وزارت داخلہ کی اپیل سے چند گھنٹے  پہلے سابق فوجی حکمران   کے وکیلوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں اسی قسم کی درخواست  کی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے ججوں نے  پرویز مشرف کی سکونت اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت  کے بارے میں  سوال اٹھاتے ہوئے وکلا سے یہ واضح کرنے کے لئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کس اختیار کے تحت اس درخواست پر غور کرسکتی ہے۔ یہ سماعت منگل تک کے لئے  ملتوی کردی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزارت داخلہ کی درخواست پر منگل کو ہی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ہائی کورٹ اگر اس حوالے سے  حکم امتناعی جاری کردیتی ہے تو  حسب اعلان خصوصی عدالت جمعرات کو   اس اہم مقدمہ  پر اپنے فیصلہ کا اعلان نہیں کرسکے گی۔

یہ واضح ہونا چاہئے کہ حکومت کی بےچینی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم سے لے کر ان کی کابینہ کے سارے وزیر  نواز شریف کی ملک سے  روانگی کو ملک میں  قانونی عدم مساوات کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتہ کے شروع میں چیف جسٹس سے اپیل کی تھی کہ وہ  اس عدم مساوات کو ختم کرتے ہوئے عدلیہ پر عوام کا اعتبار بحال کریں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے البتہ ایک پبلک میٹنگ میں  ہی عدلیہ پر وزیر اعظم کی حرف زنی کا جواب دیتے ہوئے  کہا تھا کہ نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا فیصلہ وزیر اعظم نے کیا ہے، عدالت کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیا جائے۔ انہوں نے عدالت کی خود مختاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہی عدالت  ملک کے دو وزرائے اعظم کو معزول کرچکی ہے اور اب ایک سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے۔ عدالتیں صرف قانون کو بالا دست مانتی ہیں۔  اس دو ٹوک گفتگو سے یہ قیاس کیاجانے لگا تھا کہ پرویز مشرف  کو خصوصی عدالت کے محفوظ فیصلہ  میں  آئین شکنی کا مرتکب نہ قرار دیا جائے۔

یہ سمجھنا  غلط نہیں ہوگا کہ پرویز مشرف کے علاوہ وزارت داخلہ  کی طرف سے دائر ہونے والی درخواستوں کا مقصد اسی ناگوار صورت حال سے  محفوظ رہنے کی کوشش کرنا ہے۔ لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ  اس معاملہ میں ملکی آئین سے انحراف کرنے والے ایک سابق فوجی جنرل  کے غیر آئینی اقدامات کا فیصلہ ہونا ہے تو ایک جمہوری حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ کیا عمران خان اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ملک کے معاملات آئین کے مطابق طے پائیں اور فوج   اپنی صوابدیدکے مطابق آئین پامال کرنے کی روایت  ترک کردے۔ اگر کوئی پاکستانی عدالت اس بارے میں واضح حکم جاری کردے گی تو اس سے مستقبل میں   سیاست میں فوجی مداخلت کا اندیشہ ٹل جائے گا ۔ دوسرے یہ واضح ہوجائے گا کہ ماضی میں جب جب  فوج کے سربراہان نے  آئین معطل، منسوخ  یا پامال کیا تھا وہ درحقیقت سنگین غداری کا اقدام تھا۔

 تاہم عدالتوں کی مجبوریوں اور سیاسی انتظام کے نقص کی وجہ سے   ایوب خان سے لے کر ضیاالحق تک  کسی  کے خلاف آئین سے غداری کا کوئی مقدمہ نہ قائم ہوسکا اور نہ  ہی اس پر حتمی عدالتی فیصلہ کی نوبت آئی ۔ پرویز مشرف نے بھی  اکتوبر 1999 میں آئینی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس طرح ایک منتخب حکومت کو چلتا کیا تھا ،  اس  اقدام  کی بھی سپریم کورٹ  نے  تائد  کی  اور بعد ازاں  فوجی حکمران کے زیر نگرانی قائم ہونے والی نام نہاد پارلیمنٹ سے اس  کی توثیق کرواتے ہوئے آئین سے کھلواڑ کو عین  جائز اور درست قرار دیا گیا۔

فوجی طاقت کے غرور میں  2007 میں  پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو برطرف کرنے کی کوشش کی ۔  عدلیہ بحالی تحریک کی وجہ سے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ البتہ  پرویز مشرف نے   3 نومبر 2007 کو ایک پی سی او کے ذریعے آئین معطل کرنے، ایمرجنسی نافذ کرنے اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو اس پی سی او کے تحت حلف لینے کا پابند کرنے کا حکم جاری کیا۔  سپریم کورٹ پر فوج کے دھاوا بولنے سے پہلے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک 7 رکنی بنچ کی صدارت کرتے ہوئے اس  صدارتی حکمنامہ کو معطل کردیا اور تمام فوجی و سول اہلکاروں کو حکم دیا کہ ان احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔ البتہ  یہ ایمرجنسی پرویز مشرف نے ہی  15 دسمبر 2007 کو ختم کی۔

نواز شریف نے  2013 میں وزیر اعظم بننے کے بعد پرویز مشرف کے اس غیر آئینی اقدام  کے خلاف آئین کی  شق  6 کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ  کیا۔   اس مقدمہ کی سماعت  کرنے والی خصوصی عدالت متعدد زیر و بم سے گزرنے  اور  کئی سربراہان کی تبدیلی کے بعد ، اب حتمی نتیجہ تک پہنچ چکی ہے۔  یہ  فیصلہ 28 نومبر کو سنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس وقت خصوصی عدالت  کے سربراہ  پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ ہیں۔ جسٹس سیٹھ کو  خود مختار جج کی شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے   فوجی عدالتوں  کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے علاوہ حراستی مراکز کے بارے میں صدارتی آرڈی ننس کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلہ کے خلاف پہلے سپریم کورٹ سے  حکم امتناعی حاصل  کیا گیا تھا تاہم اب  چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی کا ایک بنچ اس معاملہ کی سماعت کررہا ہے۔ حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں  یہ ثابت کرنے کے لئے  کہ ملک  کی عدلیہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو تبدیل کرسکتی ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو  کیس میں  جسٹس  وقار سیٹھ کے فیصلوں کا  حوالہ بھی  دیا تھا۔  اب اسی خود مختار جج  کے ممکنہ فیصلہ کا خوف حکومت کے ایوانوں اور طاقت کے مراکز میں محسوس کیا جارہا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے  پرویز مشرف کے خلاف  آئین شکنی کے مقدمہ کا فیصلہ رکوانے کی کوشش ایک ایسی حکومت کی جانب سے کی جارہی ہے جو سب  کو قانون کے سامنے یکساں طور سے  جواب دہ بنانے کی بات کرتی ہے ۔ وزیر اعظم نے نواز شریف کے معاملہ میں بار بار یہ کہا کہ اس  ملک میں دولتمندوں اور غریبوں کے لئے الگ الگ قانون ہیں۔ لیکن اب ان کی حکومت اس بات کی  تصدیق کررہی ہے کہ  یہ تفریق دولت کی بنیاد پر نہ بھی موجود ہو پھر بھی  ملک کا قانون عسکری اداروں سے وابستہ افراد  تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے تحریک انصاف کی حکومت اب خود اتمام حجت کررہی ہے۔

پرویز مشرف  مارچ 2016   میں علاج کے بہانے ملک سے باہر چلے گئے تھے لیکن  وہ عدالت کی بار بار تاکید کے  باوجود مقدمات کا سامنا کرنے کے  لئے وطن واپس نہیں آئے۔  خصوصی عدالت نے انہیں بھگوڑا قرار دینے کے بعد ان کی غیر حاضری میں   مقدمہ کی سماعت مکمل کی تاہم   تحریک انصاف کی حکومت نے 23 اکتوبر کو اس مقدمہ میں استغاثہ کی ٹیم کو برطرف کردیا اور  مقدمہ  کی پیروی کے لئے نئے وکلا مقرر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ دوسری  طرف خصوصی عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ  ٹیم برطرفی سے قبل  دلائل مکمل کرچکی تھی ، اس لئے   عدالت کے پاس اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لئے مناسب بنیاد موجود ہے۔ اب وزارت داخلہ  نے ہائی کورٹ  میں اسی نکتہ  کی بنیاد پر اپیل دائر کی ہے کہ استغاثہ ٹیم کو 23 اکتوبر کو فارغ کردیا گیا  تھا  اس لئے اس ٹیم کی طرف سے 24 اکتوبر کو پیش کئے جانے والے دلائل  غیر قانونی اقدام  کہلائیں گے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے  کہ  استغاثہ کا مؤقف جانے  بغیر اور ملزم کو اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر خصوصی عدالت کا کوئی فیصلہ  ناانصافی  پر مبنی اور غیر قانونی ہوگا۔

دلچسپ بات ہے کہ یہ اپیل دائر کرنے والی وزارت داخلہ کے سربراہ اس وقت بریگیڈئیر اعجاز شاہ  ہیں جو پرویز مشرف کے معتمدین میں شامل ہوتے ہیں اور اب  تحریک انصاف کی حکومت میں سابق فوجی آمر کے خلاف عدالتی فیصلہ رکوانے کی کوشش کررہے ہیں۔  پرویز مشرف  مارچ 2016 میں اس وقت کے  آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف  کی  خواہش کے مطابق ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ پہلے  سپریم کورٹ  نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا پھر اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے فوری طور سے پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے کو یقینی بنایا تاکہ آئین شکنی کے مقدمہ میں فوج کو کسی غیر متوقع  شرمندگی سے بچایا جاسکے۔ اب وہی کوشش تحریک انصاف کی  حکومت  کررہی  ہے۔ اس وقت عمران خان کی حکومت کو  قانونی مساوات اور کمزور و طاقت ور کو یکساں طور سے جواب دہ بنانے  کے دعوے فراموش ہوچکے ہیں۔

یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ فوجی قیادت  کی مرضی کی خلاف چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔  دوسرے عوامل کے علاوہ نواز شریف کا یہ فیصلہ بھی   ان کی  سیاسی  و قانونی مشکلات کا سبب بنا تھا۔ نواز شریف کی حکومت کو 2014 کے دھرنے میں غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس دھرنا کا سہرا عمران خان اپنے سر باندھتے ہیں اور خود کو دھرنا ایکسپرٹ کہلوا کر خوش ہوتے ہیں لیکن وہ آج تک اس امپائر کا نام نہیں بتا سکے جس کی انگلی کے اشارے پر وہ  دھرنا کنٹینر پر تھرکتے رہے تھے۔  نواز شریف فوج کو للکارنے اور آئین کی پاسداری کے جرم میں بالآخر پاناما کیس میں معزول کئے گئے اور  عدالت  نے قرار دیا کہ آئین کی شقات کے تحت  وہ ’صادق و امین‘   نہیں رہے۔  لیکن ان کی بنائی ہوئی خصوصی عدالت کو تمام رکاوٹوں کے باوجود ختم نہ کیا جاسکا۔ اب اس کا راستہ کاٹنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے۔

خصوصی عدالت جو بھی فیصلہ صادر کرنے والی ہے ، اس کا  براہ راست منتخب حکومت کی صحت پر کوئی اثر مرتب نہیں ہو گا لیکن یوں لگتا ہے کہ  یہ حکومت ایک ایسی کٹھ پتلی بن چکی ہے جو  درپردہ اشاروں پر تھرکتے ہوئے ، اپنی حرکتوں کے نتائج سے بے خبر ہوتی ہے۔ اب  اس امر میں کوئی شبہ  باقی نہیں  ہے  کہ اس وقت ملک میں کس کی حکومت ہے یا عمران خان کس طاقتور دیو کے سحر کے  اسیر ہیں ۔     پرویز مشرف کو بچانے کے لئے  عمران حکومت کا یہ اقدام ملک میں جمہوری ڈھونگ کے چہرے کا نقاب سرکانے کے لئے کافی ہے۔ جو سیاست دان  اقتدار کے لئے اپنی آزادی کو گروی رکھتے ہوئے  اس حد تک جا سکتا ہے ، وہ  عوام کے مسائل سمجھنے یا جمہوری سفر میں ان کی قیادت  کرنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔

loading...