سیان کی نسل پرستی کا مکروہ انداز

سیان نامی نارویجین تنظیم  بظاہر تو نارویجین معاشرت کو اسلامیائے جانے سے روکنے کی دعویدار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نسل پرست نازیّت نواز تنظیم ہے جو ناروے میں تارکین وطن کی آمد پر مکمل پابندی کے حق میں ہے ۔

وہ تارکینِ وطن جو جنگ زدہ معاشرتوں سے نکل کر ناروے پہنچے ہیں اُنہیں ناروے میں ہر طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے اور جب اُن کے خلاف کوئی تنظیم اس طرح کی معاندانہ کارروائی کرتی ہے تو اُس سے نہ صرف دو طرفہ امن غارت ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی قومی پالیسیوں سے نہ صرف غداری کرتی ہے۔ اور ملکی آئین کی بھی بے حُرمتی کرتی ہے ۔ سیان پچھلے کچھ عرصے سے اپنے اس مکروہ کردار اور سماج دشمن رویوں کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل کر چکی ہے ۔

ناروے ایک مخلوط مذہبی معاشرت ہے ۔ اس ملک میں دنیا بھر کی تمام نسلوں کے افراد موجود ہیں جو ناروے کو انسانیت کے اُفق پر پھولتی شفق اور ہفت رنگ دھنک کا اعزاز دیتے ہیں ۔ ناروے امن کا گہوارہ ہے اور اوسلو میں امن کے سب سے بڑے بین الاقوامی انعام تقسیم کرنے والے انسٹی ٹیوٹ کا وجود  اس ملک کی امن دوستی کا گواہ ہے ۔ لیکن اس ملک میں ایسے سرپھرے اور غیر انسانی رویوں کے حامل لوگ بھی خال خال ہیں جو ملک کا امن غارت کرنے کے در پے ہیں اور یہ لوگ سیان کے پرچم تلے جمع ہیں ۔ سیان میں سب لوگ انتہا پسندی کے حامل نہ بھی ہوں مگر اس کی قیادت اُنہی کے ہاتھوں میں ہے جو ذہنی اور فکری تواز ن سے محروم ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان چند لوگوں کی وجہ سے ناروے کی اس معاشرت کو مطعون کیا جائے جو امن ، انصاف اور قانون کی پابندی پر استوار ہے ۔

منفی فکر کے لوگ ہر زمانے ، ہر معاشرے اور ہر عہد میں موجود ہوتے ہیں ۔ جہاں خُدا ہو وہاں شیطان بھی ہوتا ہے ۔ جہاں گوئٹے پیدا ہوتا ہے وہاں ہٹلر بھی جنم لیتا ہے جس کے حوالے سے پورے جرمن معاشرے کو شناخت کرنا زیادتی ہو گی ۔ عالمِ اسلام میں یزید ابنِ معاویہ  اور ابنِ زیاد بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن اُن کی وجہ سے پورے عالمِ اسلام کو قابلِ مذمت قرار نہیں دیا جا سکتا ،  لیکن جذباتی قسم کے نیم خواندہ لوگ جو کم فہم اور بے علم لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں ، ایک بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ چنانچہ سیان کو ناروے کی نمائندہ تنظیم تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ سیان کا وجود نوبل امن کے ادارے کے ماتھے پر کلنک کا ٹکّہ ہے ۔ یہ ناروے کے امن کے چہرے پر طمانچہ ہے مگر کیا کیا جائے کہ کچھ لوگ آزادی  اظہار کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ آسمانی کتب کو نذرِ آتش کرنے جیسی مذموم حرکت کی جائے ۔ اس کے جواب میں کوئی مسلمان ردِ عمل کے طور پر انجیل مقدس کی بے حرمتی نہیں کر سکتا ۔

سیان جس راستے پر چل نکلی ہے اور نارویجین عوام کی جس طرح ذہنی تربیت کر رہی ہے ، اس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگلے مرحلے میں کسی مسجد ، کسی گوردوارے یا کسی مندر کو نذرِ آتش کرنے کی واردات سر زد ہو ۔ یہ رویہ ناورے کی امن پسندی کے حق میں زہرِ قاتل ہے ۔ سیان نے یقیناً کرستیان ساند کی مقامی انتظامیہ کو یہ  لکھ کر اجازت نہیں مانگی ہوگی کہ وہ ایک آسمانی کتاب کو نذرِ آتش کرنے والے ہیں ۔ یہ اس ہجوم کی نفسیات کا شاخسانہ ہے جو کتے کو باؤلا کہہ کر قتل کی واردات کا باعث بنتے ہیں ۔ ایک آسمانی کتاب کو نذرِ آتش کرنے کی ناپاک جسارت نے ایک نارویجین شہری کے طور پر مجھے بے حد شرمندہ کیا ہے ۔ میرا سر ندامت سے خم ہے اور میں خود سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا۔ لیکن ساتھ ہی مجھے ان اسلامی تنظیموں اور ناروے کی مسجدوں کی انتظامیہ اور پیش اماموں کا خیال آتا ہے کہ آخر اس واقعے کے بعد اُن کا رویہ کیا رہا ۔

 کیا انہوں نے با ہم مل کر اس مسئلے کی سنگینی پر غور کیا اور اس طرح کی صورتِ حال آئندہ نہ پیدا ہونے کے لیے موثر اقدامات تجویز کر کے ان پر عمل پیرا ہوئے؟ شاید اس کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اور نہ ہی مجھے اس طرح کے اقدامات ہوتے کہیں  دکھائی دیے ہیں ۔ یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے لیکن اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے ہم نظر انداز کرتے ہیں کہ مسلمان جس کتاب کی حُرمت کا علم بلند کرتے ہیں ، کیا اُس کے احکامات پر عمل بھی کرتے ہیں یا نہیں ْ؟ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم قرآن کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے اور  یہ کہہ کر خود کو معاف کردیتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے ۔ خطا کے یہ پُتلے ہر مذہبی اور لسانی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور خود اپنی خطا کو معاف اور نظر انداز کردینا اور دوسرے کی غلطی پر اسے جان سے مار دینے کی سفارش نا انصافی ہوتی ہے اور ہم وہ نا انصاف لوگ ہیں جو اپنی نا انصافی کو انصاف سے تعبیر کرتے ہیں ۔

ہمارا پہلا دینی فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے مسلمان معاشروں میں قرآن کے احکامات پر من و عن عمل کی ضمانت دیں لیکن بے چارہ ناظرہ خوان مسلمان نہیں جانتا کہ ناظرہ قرآن خوانی سے ثواب تو شاید ملتا ہو لیکن علم حاصل نہیں ہوتا  اور علم کے بغیر اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات پر عمل کرنا تو درکنار اُسے سمجھنا بھی مشکل ہے ۔ شیخ سعدی نے فرمایا تھا :

کہ بے علم نتواں خُدا را شناخت

بے علم آدمی تو خُدا کو نہیں  پہچان سکتا  اور جو خُدا کو نہ پہچان سکے اُن کا دین کیا اور مذہبی شعائر کی بجا آوری کیا ۔ خُدا شناسی کا راستہ خوش شناسی سے پھوٹتا ہے ۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( من عرفَ نفسہ فقد عرف ربہ) جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا اور نفسِ امارہ و لوامہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا سفر صراطِ متقیم کا سفر ہے۔  ہم نے اس سفر کا روڈ میپ کھو دیا ہے اور  گمراہ سیاسی قیادتوں کے زیرِ اثر آج کا مسلمان ایک خیالی سیاسی وجود بن کر رہ گیا ہے اور وہ مسلمان باقی ہی نہیں رہا جس کے اعمال سے رحمت اللعالمینی کی مہک آئے۔ اور جب تک ہم اہلِ نعمت ( انعمت علیھم) کے راستے پر گامزن نہیں ہوجاتے ، سیان جیسے شیطان ہماری زندگی کو جہنم بناتے رہیں گے ۔

اللہ ہم سب کو خود شناسی سے خُدا شناسی تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے!

loading...