عمران خان استعفی دینے میں بھی آزاد نہیں

وزیراعظم نے نواز شریف کی صحت کے بارے میں تمسخر اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ ’مریض نے جوں ہی جہاز دیکھا یا لندن کی ہوا کھائی اس کی صحت ٹھیک ہوگئی تھی ورنہ مجھے جو رپورٹ دکھائی گئی تھی اس میں تو وہ قریب المرگ تھے‘۔ انہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ دھرنا کے دوران انہیں نت نئی ترغیب دی گئی تھی ، ان میں سے ایک سینیٹ کا چئیرمین بنانےکی پیشکش بھی شامل تھی۔ یہ دونوں بیان ناقابل یقین حد تک افسوسناک ہیں۔

سوال ہے کہ اگر ملک کا وزیر اعظم اپنے شدید سیاسی مخالف اور ایک مقدمہ میں سزا یافتہ کے علاج کے حوالے سے وصول ہونے والی رپورٹس پر نواز شریف کے ملک سے روانہ ہونے کے بعد شبہ کا اظہار کررہا ہے تو کیا اسے اس کی سادہ لوحی سمجھا جائے، نظام میں راسخ بدعنوانی کہا جائے ، اسے حکومت کی ناقص قوت فیصلہ قرار دیا جائےیا پھر عمران خان اس قدر کمزور چیف ایگزیکٹو ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کئے جا چکے ہیں جن سے انکار کا حوصلہ وہ خود میں نہیں پاتے۔

وزیر اعظم کی مجبوری اور اہم قومی فیصلوں کے اصل مرکز کا سراغ لگانے سے پہلے البتہ عمران خان کے اس مؤقف کے اخلاقی پہلو پر غور کرنا بھی اہم ہے جو میانوالی میں تقریر کے دوران کھل کر سامنے آیا ہے۔ کیا ملک بھر کو اعلی اخلاقی اقدار اور ذمہ داری کا احساس دلانے والا وزیر اعظم خود اس حد تک پریشان خیالی اور شکست خوردگی کا شکار ہوچکا ہے کہ وہ سیاسی مایوسی کے عالم میں بنیادی انسانی اقدار کا لحاظ کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی ملک سے روانگی عمران خان کے لئے ذاتی ہزیمت اور ان کی حکومت کے دامن پر بدنما داغ ہے۔ خاص طور سے جب عمران خان تواتر سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ پھر ان کی مرضی کے بغیر وہ کون سی قوت تھی جس نے نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا اہتمام کیا اور اب عمران خان الزام تراشی اور ’کسی کو معاف نہیں کروں گا ‘کے نعروں کے ذریعے اس ناکامی پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ لگتا ہے ناکامی و نامرادی کا یہ مرحلہ انہیں کسی صورت قبول نہیں ہے لیکن یہ  ان کے سر منڈھ دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کا ووٹر اور عمران خان کا حامی بھی اس صورت حال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عمران خان کو اس کیفیت کا اندازہ ہے لیکن وہ اپنے ووٹر اور ملک کے عوام کو سچ بتانے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔ اس لئے نعروں سے ان کا پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

اسی بدحواسی میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ہزارہ ہائی وے کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کی ذمہ داری لاہور ہائی کورٹ پر ڈالتے ہوئے خود کو بظاہر عدلیہ کے سامنے مجبور قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک ہی روز بعد اس الزام کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلہ تو وزیر اعظم نے خود کیا تھا ۔اب وہ عدالتوں کو کس طرح مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔ اس جواب الجواب پر تبصرہ کرنے کی بجائے اب عمران خان ، نواز شریف کی بیماری کے بارے میں شبہ کا اظہار کرکے انہیں فریبی اور دھوکے باز قرار دینے کی افسوسناک کوشش کررہے ہیں۔

انہیں امید ہے کہ اس طرح وہ اپنے اس ووٹر کو مطمئن کرسکیں گے جسے شریف خاندان کے خلاف ایسی شدید نفرت میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ وہ سچ جھوٹ کی تمیز کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ لیکن عمران خان کا یہ پر فریب سیاسی ہتھکنڈا وزارت عظمی کے  منصب کے شایان شان نہیں ہے۔ اس بارے میں وزیر اعظم کا بیان دراصل اس نفرت میں اضافہ کرے گا جس کے راسخ ہونے کی وجہ سے ہی معاشرے میں سیاسی و سماجی تصادم کی صورت پیدا ہوچکی ہے۔ اس صورت حال میں کوئی بھی پوری تصویر دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ صرف اسی پہلو کو پورا سچ ماننے پر اصرار کیا جاتا ہے جو کسی کے اپنے نقطہ نظر سے درست دکھائی دے۔ عمران خان نے نواز شریف کی علالت کے بارے میں شبہ کا اظہار کرکے اسی یک رخی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام بدستور سابقہ حکمرانوں کو دیتے ہوئے اپنے ووٹر کو یقین دلاتے رہیں کہ وہ تو بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک کو لوٹنے والے بہت چالاک ہیں۔

اس حوالے سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر بااختیار وزیر اعظم بننے کے بعد بھی جس میں خود ان کے بقول سب ادارے مع ملک کی طاقت ور فوج کے ان کی پشت پر ہیں ، عمران خان ملک کو لوٹنے والوں کے بارے میں پورا سچ جاننے کی صلاحیت اور قدرت نہیں رکھتے تو وہ مشکل حالات میں گھرے ہوئے ملک کو کیوں کر اس بحران سے نکال پائیں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ اس قدر مجبور ہوچکے ہیں کہ اقتدار میں رہنے کے لئے انہیں اپنی سوچ اور سیاسی ایجنڈے کے خلاف فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں تو وہ یہ سچ عوام کو بتانے کا حوصلہ کیوں نہیں کرپاتے؟

وہ ایک طرف یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، اس کی بجائے عہدے سے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ تو دوسری طرف ان کی بہانے بازیاں اور عذر تراشیاں ان کی مجبوری کا حال بیان کرتی ہیں ۔ لیکن وہ اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ کرنے سے  قاصر ہیں۔ وہ الزام تراشی اور نفرت سے بنے ہوئے جال میں اس حد تک جکڑے جاچکے ہیں کہ اب وہ مکمل بے بسی اور ناطاقتی کی عبرت ناک مثال بن گئے ہیں۔ فیصلے کوئی اور کرتا ہے اور وزیراعظم اس کی خفت مٹانے کے لیے عدلیہ کو غریب  وامیر کے لئے یکساں انصاف فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن چیف جسٹس پبلک تقریر میں حقائق کے ساتھ اس دعوے کی قلعی کھول کر مسترد کردیتے ہیں۔ اب عمران خان ہی بتائیں کہ عوام انہیں سچا مانیں یا چیف جسٹس کی بات کا اعتبار کریں۔ ان میں سے ایک تو دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اگر نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کرنا چاہتی تھی اور اس کے بارے میں اس کی دلیل یہ تھی کہ نواز شریف کو پاکستان میں بہترین علاج مہیا کیا جارہا ہے، حکومت اس سے زیادہ کچھ نہیں کرے گی کیوں کہ ہزاروں دوسرے قیدی اور لاکھوں بیمار انہی سہولتوں کے ساتھ گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت اصولی طور پر نواز شریف سمیت کسی کو بھی خصوصی رعایت نہیں دے گی۔ یہ اعلان سیاسی لحاظ سے مشکل ہوتا۔ اس پر تنقید بھی ہوتی اور حکومت کو شدید نکتہ چینی کا سامنا بھی کرنا پڑتا کہ حکومت سیاسی انتقام کا مظاہرہ کررہی ہے لیکن یکساں سلوک کے حوالے سے ایک اہم اصول کو سامنے لانے کا یہی ایک نادر موقع تھا۔ عمران خان نے اپنی غیر واضح مجبوریوں کی وجہ سے یہ دو ٹوک مؤقف اختیار نہیں کیا لیکن وہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اس کی وجہ کبھی عدلیہ کے غیر مساویانہ سلوک کو بتاتے ہیں اور کبھی نواز شریف کی بیماری کو دھوکہ قرار دے کر یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت سے جھوٹ بول کر نواز شریف ملک سے فرار ہوگئے۔ عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح وہ کب تک اپنی مجبوری یا نااہلی کا جواز پیش کرسکتے ہیں۔

ایک پیج کی طاقت اور فوج کے زیر فرمان ہونے کا اعلان کرتے ہوئے وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ اختیار کا اصل منبع وہی ہیں ۔پھر انہیں چیف جسٹس کا یہ بیان ماننے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ فیصلہ وزیر اعظم نے کیا اور اب اس کا بوجھ عدالت پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان یہ سچ مان کر عوام کے سامنے سرخرو ہوجائیں یا اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے وہ قومی اسمبلی کو بتائیں کہ وہ کیوں فیصلے کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ پھر اپنے دعوؤں کا بھرم رکھتے ہوئے کانٹوں کے اس تاج سے جان چھڑائیں جو اقتدار کے نام پر ان کے سر پر سجا تو ہے لیکن اس کی کاٹ سے خود ان کی اپنی انگلیاں فگار ہیں۔ عمران خان کو اگر واقعی منتخب عہدے کو وقار دینے اور بااختیار بنانے کا حوصلہ ہے تو وہ جان لیں کہ اس  کے لئے  ’مجھے اقتدار میں رہنے کا شوق نہیں ‘ جیسے نعرے لگانے کی بجائے، اس مقام آہ و فغاں سے گزر جانے کا حوصلہ کرنا پڑتا ہے،  جس پر گامزن ہونے کی وجہ سے ہی ان کے پیشرو عدالتی عتاب اور اسٹبلشمنٹ کے جوڑ توڑ کا شکار ہوئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان بھی کہ انہیں دھرنا ختم کرنے کے لئے متعدد سیاسی عہدے پیش کئے گئے تھے، دراصل منتخب حکومت کی بےبسی کی کہانی سناتا ہے۔ عمران خان قوم کو بتائیں کہ یہ پیشکش کس نے کی تھی۔ اگر حکومت نے یہ کوشش کی تھی تو اس کی کیا حکمت تھی اور اس پر عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ اگر مولانا فضل الرحمان کو یہ پیش کش کہیں اور سے ہوئی تھی تو ایسی انجانی طاقت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا وزیر اعظم کا ہی کام ہے۔ یا پھر مولانا کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے عدلیہ سے رجوع کریں جو انصاف کا پھریرا لہرانے کا اعلان کررہی ہے تاکہ الزام کی اصلیت سامنے آسکے۔ اگر عمران خان اس دعوی کا جواب بھی جوابی الزام تراشی سے دینےکی کوشش کرتے ہیں تو یہ ان کی بے اختیاری اور مجبوری کا ایک اور  مظاہرہ ہوگا۔

ملک میں جمہوری حکومت کو انگلی پکڑ کر چلانے کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر ’باخبر ذرائع ‘کے حوالے سے خبریں سامنے لائی جارہی ہیں۔ یہ ساری افواہیں حکومت کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں کیوں کہ ان سے یہ واضح ہوتا ہے جمہوری حکومت کاغذی شیر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اصل اختیار تو کسی دوسری جگہ سے استعمال ہوتا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ کسی بے اختیار حکومت کی سربراہی نہیں کریں گے۔ لیکن ان کے دوست و دشمن سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان رسمی لیڈر ہیں۔ مالی فیصلے آئی ایم ایف کررہی ہے، خارجہ، سیکورٹی اور اسٹریجک فیصلے عسکری قیادت کے ہاتھ میں ہیں اور وزیر اعظم بے بسی میں ایسی دھمکیوں پر اتر آئے ہیں جن پر عمل کرنے کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں ہے۔

اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ  وزارت عظمی سے علیحدہ ہونے کا اختیار بھی کھوتے جارہے ہیں۔ عہدے کے لالچ کا وفور اور ایک پیج کی مقناطیسی طاقت ان کے قدم جکڑے ہوئے ہے لیکن انہیں اپنی زبان پر بہر طور قابو نہیں ہے۔ شاید اسے ہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کہتے ہیں۔

loading...