کیا سابق وزیراعظم کے ساتھ ان کا مزاحمتی بیانیہ بھی چلا گیا؟

  • منگل 19 / نومبر / 2019
  • 760

قطر کی ایئر ایمبولینس کے لاہور سے پرواز کے بعد سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے وقتی طور پر اوجھل ہو گئے ہیں۔

نواز شریف کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ جب بھی ملک سے باہر گئے، وہ جلاوطنی ہو یا علاج کی غرض، جلد یا بدیر پاکستان واپس ضرور لوٹے ہیں۔ آخری مرتبہ وہ گزشتہ برس اپنی علیل اہلیہ کلثوم نواز کو لندن کے ہسپتال میں چھوڑ کر گرفتاری دینے واپس لوٹے تھے۔ انھیں پاکستان کی احتساب عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ جیل میں تھے جب کلثوم نواز انتقال کر گئیں۔

اس کے برعکس سنہ 1999 کے مارشل لا کے بعد نواز شریف نے بظاہر جیل سے بچ کر ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب کی طرف جلاوطنی کو ترجیح دی تھی۔ ان دونوں منظرناموں میں فرق کی بنیادی وجہ نواز شریف کے بیانیے میں تبدیلی کو سمجھا جا رہا ہے۔  اس بار نواز شریف کا بیانیہ مزاحمت کا تھا۔ اسی بیانیے کے ساتھ ن لیگ عام انتخابات لڑی، وہ خود اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے مقدمات کا سامنا کیا اور دونوں جیل بھی گئے۔ تاحال ان کی جماعت کا بیانیہ نہیں بدلا۔  لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا نواز شریف کی عدم موجودگی میں ن لیگ نواز شریف کے مزاحمت کے بیانیے ہی کو لے کر چلے گی یا پھر اس میں تبدیلی آنے کا امکان موجود ہے۔

اس کا نصف جواب تو اس سوال میں چھپا ہے کہ نواز شریف کے بیانیے سے ن لیگ کو سیاسی طور پر فائدہ ہوا یا نقصان۔ زیادہ تر سیاسی تجزیہ کار بات یہیں سے شروع کرتے ہیں۔ بعض کے خیال میں نواز شریف کے بیانیے سے ن لیگ کو سیاسی نفع ہوا یا نقصان، اس بات کا انحصار اس پر بھی ہے کہ جماعت کی فعال قیادت شہباز شریف کے ہاتھ میں رہتی ہے یا مریم نواز کے پاس جاتی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک نہ ایک مزاحمت کرنے والی جماعت ضرور رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے معاملے میں سنہ 1999 کے مارشل لا میں دوسری مرتبہ وزارتِ عظمٰی چھننے، خاندان سمیت ملک بدری، سات برس کی جلا وطنی اور سیاست سے بے دخلی کے بعد مزاحمت نواز شریف کے نظریے کا حصہ بننا شروع ہوئی۔  صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے 2018 کے الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ پہلی مرتبہ تھا کہ دائیں بازو کی مڈل کلاس نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ دیا ہے۔‘  ان کا کہنا تھا کہ اس میں نواز شریف کے کردار کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

صحافی سہیل وڑایچ کے مطابق سنہ 2017 میں حالات کے پیشِ نظر نواز شریف نے مزاحمت کا راستہ اپنایا۔ ورنہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ ’جا کر معافیاں مانگتے، بالکل چپ ہو جاتے اور سیاست چھوڑ دیتے۔ کچھ لوگوں نے پاکستان میں وہ بھی کیا۔ ’وزیرِاعظم کے بعد تو کوئی بڑا عہدہ نہیں ہوتا۔ تو جب نواز شریف نے تین مرتبہ وزارتِ عظمٰی دیکھ لی اور ان کو یہ لگا کہ اس طرح نہیں چل سکتا، تو انھوں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ چاہے اس میں کچھ ملا یا نہیں، لوگ اپنے نظریات کے لیے بھی تو جدوجہد کرتے ہیں۔‘

سہیل وڑائچ کے مطابق ان کو فائدہ یہ ہوا کہ ایک مزاحمتی بیانیہ مل گیا اور دائیں بازو کی قوت جس نے کبھی مزاحمت نہیں کی تھی اس کو ایک آواز مل گئی۔ اس کی وضاحت وہ اس طرح کرتے ہیں کہ ماضی میں ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چل کر اور ترقیاتی بجٹ کے ساتھ اپنا ووٹ بینک محفوظ بناتی تھی لیکن اب کافی عرصے سے ترقیاتی بجٹ بھی بند ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی۔  ’تو پھر وہ جماعت (ن لیگ) ختم ہو جاتی۔ ایسے میں نواز شریف کا جو مزاحمتی بیانیہ تھا اس نے جماعت کو کھڑا رکھا۔‘

صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست سے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ ہوا یا نقصان، اس بات کا انحصار نواز شریف کی واپسی پر ہے۔ ’اگر نواز شریف صحت مند ہونے کے باوجود جلد واپس نہیں آتے تو اس کا ناقابل تلافی نقصان ان کی پارٹی کو پہنچے گا۔‘ حامد میر نے کہا کہ نواز شریف اگر واپس نہ آئے تو جو بیانیہ انھوں نے گذشتہ برس میں لوگوں کو دیا ہے وہ زمیں بوس ہو جائے گا۔ اس صورت میں شہباز شریف بھی پارٹی سنبھال نہیں پائیں گے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار راشد رحمان کہتے ہیں ’نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہوں گے مگر جب بھی وہ اقتدار میں آئے تو ان کی آپس میں نہیں بنی۔ ’اس کی وجہ یہ تھی کہ نواز شریف کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اگر مجھے وزیرِاعظم بنایا ہے تو پھر حکومت کو چلانے کی اتھارٹی میرے پاس ہونی چاہیے اور یہ کہ مجھے احکامات نہ دیے جائیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سرکشی نے حالات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ سنہ 1993 اور 1999 کے بعد پاکستان واپس آنا اور پھر حال ہی میں لندن سے واپس آنا اور جیل چلے جانا یہ جانتے ہوئے کہ مشکلات ہوں گی، اس نے ان کے بارے میں تاثر کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ’اب ان کو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار اور اس کے مہرے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ ان کو اب ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پیداوار تو اسٹیبلشمنٹ کی ہے مگر وہ ان کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔‘

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق اس مزاحمتی سیاست کا نواز شریف کی جماعت کو نقصان یہ ہوا کہ انھیں سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’احتساب ہوا، جیل جانا پڑا، جماعت کے نچلے طبقے تک کو یہ دھچکے برداشت کرنے پڑے، سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا، شہرت بھی خراب ہوئی اور انھیں الزامات بھی برداشت کرنے پڑے۔‘ تاہم اس کا مثبت پہلو یہ رہا کہ دوسری طرف ’نواز شریف نے سیاست میں اپنا مقام واپس لینے کی کوشش کی ہے اور جیل میں بیٹھ کر اپنی مزاحمت سے وہ عدالت کی ذریعے رہا ہو کر باہر چلا گیا۔‘

پاکستان کے مستند جریدے دی نیوز آن سنڈے کی سابق مدیر اور تجزیہ کار فرح ضیا بھی سہیل وڑائچ کی اس بات سے متفق ہیں کہ نواز شریف کی مزاحمت کی تاریخ بن چکی ہے۔ وہ جب بھی اقتدار میں آئے ہیں انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کا سامنا کیا ہے۔ فرح ضیا کے مطابق ’نواز شریف جب آخری دفعہ اقتدار میں آئے تو وہ اپنے اس فیصلے پر قائم نظر آئے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں دیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کافی عرصے تک چلتا رہا مگر نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کی۔ ’اس طرح انہوں نے اپنی جماعت کو مشکل میں ڈالا، جماعت کے انتخابات جیتنے کے مواقع کم ہوئے اور محاذ آرائی کا ماحول بھی بنا۔‘ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف جب بھی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرتے ہیں وہ اپنے بیانیے کو اپنے ووٹر اور حلقے تک لے کر جاتے ہیں۔

تجزیہ نگار فرح ضیا کا کہنا تھا کہ اس بات کا اندازہ اس وقت بھی بہتر لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کے بیانیے سے ان کی جماعت نے کیا کھویا کیا پایا، کہ جماعت کی قیادت کس کے ہاتھ آتی ہے، شہباز شریف یا مریم نواز۔ ان کے خیال میں گو کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ فی الوقت ن لیگ میں اس سمت سوچا نہیں جا رہا ہو گا۔ تاہم جب ایسا ہو گا تو صحیح علم ہو پائے گا کہ نواز شریف کے بیانیے کا ن لیگ کو کتنا فائدہ ہوا اور کتنا نقصان۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کبھی اس پوزیشن میں نہیں رہے جہاں وہ جماعت کا بیانیہ ترتیب دیں، اب اگر وہ اس پوزیشن میں آتے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ ان کا بیانیہ کیا ہوتا ہے۔

’اگر آپ دیکھیں تو جب ڈان لیکس کا مسئلہ ہوا تو اس وقت شہباز شریف نے سامنے آ کر بات تو کی مگر وہ بات نواز شریف کے کہنے پر ہی کی، بیانیہ تو نواز شریف کا ہی تھا۔‘ ان کا کہنا تھا ’شہباز شریف کا تاثر ایک بہتر منتظم کا ضرور رہا ہے تاہم کیا وہ لوگوں کو بھی جمع کر سکتے ہیں؟ وہ ہم نے دیکھا ہے کہ مریم نواز کر پائی ہیں۔‘

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف کے جانے کے بعد ’ن لیگ میں زیادہ تر لوگ مفاہمت پسند ہوں گے اور وہ چاہیں گے کہ مفاہمت پسندی کی طرف جایا جائے اور شہباز شریف اس کی قیادت کریں گے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا ووٹ بینک نواز شریف کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا نواز شریف اس ووٹ بینک کو مفاہمت کی طرف جانے دیں گے یا اپنے ووٹ بینک کو اسی جگہ کھڑا رکھیں گے۔

تجزیہ نگار راشد رحمان سہیل وڑائچ کی اس بات سے متفق ہیں کہ ووٹ بینک نواز شریف کا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف اپنے بھائی کے خلاف نہیں جا سکتے ہیں کیونکہ نواز شریف وہ ہیں جن کے پاس ووٹ ہے، جو جماعت کو یکجا رکھے ہوئے ہیں۔ ’جب تک نواز شریف موجود ہیں چاہے وہ لندن ہی میں کیوں نہ ہوں، ن لیگ پر ان کی گرفت اور ان کے اثر و رسوخ کو ختم نہیں کیا جا سکے گا۔‘

تجزیہ نگار راشد رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف چلے جائیں گے اور شہباز شریف واپس آ جائیں گے اور کوئی صلح ہو جائے گی۔  ’ایک تو یہ بات کہنا تھوڑا قبل از وقت ہے اور دوسرا ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔‘ ان کا کہنا تھا ’مریم نواز کو نواز شریف کی جماعت کی طرف سے ان کی مزاحمت کی میراث آگے لے کر چلنے کے لیے وارث کے طور پر تیار کیا گیا اور اس جگہ لایا گیا ہے جہاں وہ اس کو سنبھال سکیں۔‘

’کچھ لوگ یہ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ نواز کے جانے کے ساتھ ن لیگ کی سیاست ختم ہو جائے گی، میرا نہیں خیال۔ میرے خیال میں ان کا وارث موجود ہے جو کہ ان کی میراث کو آگے بڑھائے۔ میرا نہیں خیال کہ شہباز شریف اس کو روک سکتے ہیں۔‘

(رپورٹ: عمر دراز ننگیانہ ۔ بی بی سی اردو)

loading...