مفادات سے محبت تک

گوردوارہ کرتار پور کے افتتاح کی تقریب جاری ہے ۔ بابا گورو نانک دیو جی نے ہندوستانی مذاہب کے درمیان جو پُل تعمیر کرنے کی کوشش کی وہ پچھلی کئی صدیوں سے جاری ہے ۔ اس تعمیراتی کام میں کرتا پور گوردوارہ کی عمارت کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہے ۔

 اس امن راہداری کے افتتاح کی تقریب میں بھارت کی اہم سیاسی شخصیات بھی شریک ہیں ۔ یہ بلاشبہ دلوں کو ملانے والی شاہراہ پر ایک بین المذاہب سنگم کی روشنی کا مینار ہے ، جہاں دلوں کی قندیلیں جل رہی ہیں ۔ میری دعا ہے کہ ان قندیلوں کی روشنی بھارت اور پاکستان کے ہر گھر کے دروبام کو روشن کرے اور ہم برِ صغیر کے مسلمان ، ہندو ، سکھ ، بدھ ، جینی اور کمیونسٹ ( لبرل ، روشن خیال ) سب اپنے اپنے گروہی مفادات کو تج کر انسانیت کی  مشترک  قدروں کے امین بنیں اور محبت کو عالمی مذہب کے طور پر قبول کریں ۔ بھائی چارہ ، مساوات ، انصاف اور نیکی کو اس طرح فروغ دیں کہ  مذہبی تفریق تحلیل ہو کر رہ جائے اور ہم سب انسان ایک ساتھ  عالمِ انسانی کے اکتارے پر اقبال کی یہ نظم گائیں:

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے

دنیا میں دو ہی مذہب ہیں ۔ ایک کا نام ذاتی یا گروہی مفاد ہے اور دوسرے کا نام محبت ہے ۔ محبت خُدا کی ایک صفت ہے ۔ خُدا کا ایک نام ودُود ہے  ۔ محبت کرنے والا ۔ بابا نور والے علیہ رحمت فرمایا کرتے تھے کہ کہ ودُود اسمِ اعظم ہے کیونکہ اس کا ظاہر و باطن ایک ہے ۔ اور ودود کی حکمرانی محبت کی حُکمرانی ہے ۔ جہاں محبت کی حکمرانی ہو وہاں مروجہ مذاہب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے ۔ پرانی روایات بتاتی ہیں کہ دوستی مذہب سے بڑی ہوتی ہے ۔ ایک برہمن زادے کا قصہ مجھے یاد آتا ہے کہ اُس نے مسلمان زادے کی دوستی میں گائے کا گوشت کھا لیا تھا ۔ یہ دوستی کا معیار ہے ۔ دوستی ذاتی مفادات ، عقائد اور نظریات سے بالا تر ہوتی ہے ۔ دوست کا لفظ اپنی جگہ معانی کی ایک کائنات ہے ۔ ست جوہر کو بھی کہتے ہیں اور سچ کو بھی اور جہاں دو ست یعنی دو سچائیاں بہم ہوں تو اُن کے درمیان دوئی باقی نہیں رہتی لیکن ہم ابھی اتنے تعلیم یافتہ نہیں ہیں کہ دوستی کی حقیقت کو جان سکیں ۔ دوستی دلوں کا رشتہ ہے اور یہی رشتہ اللہ نے اپنے  ہر بندے کے ساتھ استوار کیا ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے دوست ہوتے ہیں وہ ہر خوف اور غم سے آزاد ہوتے ہیں ۔

الا اِنَ اولیائ اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون

اللہ صرف مسلمانوں کا خالق و مالک نہیں  بلکہ رب العالمین ہے ۔ اُسی نے ایک کُن سے اٹھارہ ہزار دنیائیں تخلیق کیں جس کا مطلب ہے کہ ساری مخلوق خُدا کا کُنبہ ہے ۔ اور جو لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے وہ امتیازِ من و تو میں رہتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن اُم الکتب ہے اور ساری مذہبی کتابیں ، صحیفے اور اناجیل اس کے بچوں کی طرح ہیں ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں کی نبوتوں کے گواہ ، موئید اور سرخیل ہیں۔ لیکن ہمارے مفکرین ، مفسرین اور شارحین نے اسلام کے دین الادیان ہونے اور قرآن کے اُم الکتب ہونے کے تصور کو اس طرح نظر انداز کیا ہے کہ اسلام کے ٹُکڑے کر دیے اور اپنے اپنے فرقوں کے جھولے جھولتے ہوئے اپنی گروہی حمد و ثنا میں مست ہیں جو اللہ کی احدیت اور وحدت کی عملی تردید ہے جب کہ کتاب اللہ کا پیغام واضح ہے :

اور اُن لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کے ٹُکڑے کر دیے، فرقوں میں بٹ گئے اور سب فرقے اُسی پر خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے ۔

 سورہ الروم ۔ ۳۲ ۔ پارہ ۲۱

یہی حال عالمِ اسلام کا ہے کہ تمام مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کے درمیان محبت کے بجائے مفادات کا رشتہ ہے جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار ہے ۔ اور یہی بیماری مختلف تمام مذہبی فرقوں کے سربراہوں ، خطیبوں اور علاماؤں کو لاحق ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنے ، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں ۔ ایک دوسرے میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ، ایک دوسرے کو کافر قراردیتے ہیں ، ایک دوسرے کے نکاح ٹوٹ جانے کا  سندیسہ دیتے رہتے ہیں اور یہ اختلاف اسلام کو بطور مروجہ دین کمزور کر رہا ہے اگرچہ اس سے اسلام کی اصل معنویت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اسلام خدا کا واحد دین ہے جو ہر عہد میں مختلف پیرایوں میں مختلف نبیوں کے ذریعے زمیں پر نافذ ہوتا رہا اور پھر قرآن حکیم کے ذریعے ان تمام زمانوں کے پیغامات کو یکجا کر کے اس کا حتمی مرقع  ( نسخہ)مدون کردیا گیا ۔ یہ عالمِ انسانیت کا دین ہے اور اس  کا پیغام گلوبل ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کو انسانی اقدار کے احیا کا پیغام دیتا ہے ۔ لیکن جیسا کہ اقبال نے کہا :

عقل سمجھی ہی نہیں معنی ئ پیغام ابھی

اور ہم کم فہموں کا حال یہ ہے کہ ہم  ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی غلطی پر اُسے ایک دوسرے کوانسانی حلقے سے خارج کر دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس طرح ہم کسی دوسرے کو نہیں خود اپنے آپ کو انسانی دائرے سے نکال باہر کر رہے ہیں ۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ کہیں کشمیر کا لہو بہ رہا ہے جس پر بہت سے مسلمان ملکوں کو کوئی اعتراض نہیں اور کہیں بابری مسجد کو مسمار کر کے رام مندر بنایا جا رہا ہے لیکن یہ عالمِ اسلام کا مسئلہ نہیں بالکل اسی طرح جیسے یروشلم اور مسجدِ اقصیٰ  کو در پیش خطرات عربوں کا مسئلہ نہیں مگر اس کے باجود مجھے قرآنِ کریم تسلی دے رہا ہے کہ :

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیے گئے ہیں ، اُن پر احسان کریں ، اُن کو پیشوا بنائیں اور اُنہیں ( مُلک کا)وارث کریں ۔

سورہ القصص ۔ ۵

loading...