عیسیٰ بلوچ: اپنے فن کے آئینے میں

اشتراکیوں کی روحوں کا مجموعہ عیسیٰ نسلاََ بلوچ ہے۔ کال مارکس، سید سجاد ظہیر، فیض احمد فیضؔ جیسے فلسفیوں سے روحانی فیض حاصل کرتے کرتے، نجم عکاشی جیسے کہنہ مشق شاعر سے مشورہ  ئسخن بھی رہے،  اور پھر سبھی کی تعلیمات کو اپنے وجود اور ذہن کے اندر جذب کر لینے کے بعد کویت میں نثری نظموں کے نما ئندہ  شاعر تسلیم کیے گئے۔

 آپ کی نظموں میں خوب صورت اور با معنی لفظیات کا استعمال محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مشاعروں میں آ پ اپنی نظموں کو بہت دھیمے انداز میں سامعین تک پہچاتے ہیں۔آپ کی تخلیقات ہند وپاک کے علاوہ بیرونِ ممالک کے رسالوں میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ آپ کی نظموں کا مجموعہ "لفظوں کی پھوار (2008) " اور شعری مجموعہ " سفر پہ خوشبو نکل رہی ہے (2015) " میں منظر عام پر آچکی ہے۔  2  فروری 1962 کو آپ کی پیدائش کراچی کے علاقے لیاری میں ہوئی تھی۔ کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ صحافت سے بھی جڑے رہے۔  فرصت کے اوقات میں  خوب کرکٹ  کھیلی۔ تعلیم و تربیت کے بعد عیسی بلوچ کی جو شخصیت و ذہنیت ابھر کر سامنے آئی تھی، اس کے ساتھ پاکستان کے ماحول میں زندگی کرنے سے بہتر تھا کہ   حضرت ہجرت کر جاتے۔

 تعلیم کے بعد رزق و معاش کا مسئلہ بھی درپیش تھا، ایسے میں عیسی بلوچ نے کویت کا رخ کیا،  اور تلاش رزق کے بہانے سن  1991 میں کویت پہنچ گئے۔  سن2004 میں جب انجمن ارباب فکر و فن(کویت) کا قیام ہوا، تو دیوان ادب(خیطان) میں  بالترتیب ادبی نششتوں کا اہتمام ہوا،  اسی دوران ایک روز جناب نجم عکاشی کے ہمراہ عیسی بلوچ کی آمد ہوئی، عیسیٰ بلوچ سے میری پہلی ملاقات وہیں ہوئی تھی۔ عیسی سے ملاقاتوں کا دور شروع ہوا، جو رفتہ رفتہ گہری رفاقت میں تبدیل ہوتا گیا، ان دنو ں ہم لوگوں کی قریب قریب ہر روز ہی ملاقات ہوتی تھی۔ غیر رسمی ادبی محفل جمتی اور گھنٹوں ادبی گفتگو ہوتی، ان محافل میں زیادہ تر نجم عکاشی صاحب (مرحوم)، سعید روشن صاحب، جسبیر سنگھ دھیمان صاحب، صفدر علی صفدر، ساجد علی ساجد، بدر سیماب، کبھی کبھار محترم شاہد حنائی صاحب کے علاوہ اور بھی کئی ادبی دوست شامل ہو جاتے۔ یہ محافل کبھی مرقاب تو کبھی فروانیہ کے کسی مطعم میں، کبھی میری رہائش گاہ، کبھی کامریڈ جاوید کا گھر، کبھی حاجی اشفاق حسین کا ڈیرہ، کبھی عیسی بلوچ کے حجرے میں سجتی۔  ان محافل کی روداد بڑی طویل ہے، اس حوالے سے ساجد علی ساجد، جو کہ مارچ 2010 میں فیصل آباد، پاکستان منتقل ہو چکے ہیں، آج کل کویت کی یادداشت لکھ رہے ہیں، امید ہے یہ تحریر بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہوگی۔                کویت کے ادبی حلقے میں جب گروہ بندی اپنے عروج پر پہنچی تو کئی نئے چہرے رخِ ادب پر نظر نواز ہوئے۔ چشم ادب کی ان سے جب آنکھیں چار ہوئیں تو یہ بھید کھلا کہ کسی میں بلا کی فکر ہے تو کسی میں طلسماتی تغزل۔ ان ہی نئے چہروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے راقم الحروف نے ایک شعری مجموعہ مرتب کیا، جس کا نام ”فصلِ تازہ (اشاعت:2005)‘‘ تجویز کیا گیا۔ 16اہلِ قلم اپنی فنّی صلاحیت کے ساتھ ”فصلِ تازہ“ میں دیکھے گئے۔ ان دنوں  فیس بک اور واٹس اپ جیسی برق رفتار مڈیا کاظہور نہیں ہوا تھا۔ خلیجی ممالک سمیت پاک و ہند میں اس کتاب کی بہت دھوم مچی۔’’فصلِ تازہ“ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کئی بڑے ادیبوں نے ان قلمکاروں کی فنی صلاحیت کی نشاندہی کی اور مستقبل میں اور بہتر ی کی امید باندھی۔  اسی 16 کی فہرست میں ایک نام جواں فکر شاعر عیسیؔ بلوچ کا بھی تھا۔ جن کی فنّی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے معروف ادیب و شاعر جناب محمود شاہد نے ؔ لکھا:

 " عیسی بلوچ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ان کی نظموں میں تازہ اور کشادہ فضاؤں کا احساس ہوتا ہے۔ ان میں اپنی بات کہنے کا سلیقہ اور ہنر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں جہاں بیان کا حسن ہے وہاں معنی کی دلکشی بھی ہے۔ لفظوں کو بڑی کفایت شعاری اور احتیاط سے

برتتے ہیں۔ جس کے سبب نظم میں غیر ضروری پھیلاؤ اور جھول نظر نہیں آتا۔چھوٹے چھوٹے جملوں پرمشتمل نظمیں متاثر کرتی ہیں "۔

آج کل کے بیشتر شعرا کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کی شاعری کی اصل روح کیاہے،تاریخ،فلسفہ، ثقافت، عالمی سیاست کا منظر ا ور اس کا پس منظر، تغیرات کی وجوہات وغیرہ سے ان کو کوئی سروکار نہیں، بس کسی طرح سے کسی عالمی مشاعرے کے پوسٹر پر ان کی تصویر شائع ہو جائے، جس کے ذریعہ وہ عالمی شہرت یافتہ کے لقب سے سرفراز ہو جائیں،  مشاعرے کے اسٹیج پر چاند چہرے دیکھنے کے دھن میں یہ بات سرے سے یاد ہی نہیں   ر ہتی ہے کی کبھی کسی کتاب کا مطالعہ بھی کرناہے،  ایسے شاعر نماز جمعہ سے پہلے ہونے والے خطبہ اور فرقہ پرست رہنماؤں کی تقریر کے زیر اثر اپنے فن کی تخلیق کر نے کے لئے مجبور ہیں، جو کہ مصرع سازی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ شاعر اگر مطالعہ اور غورو فکر نہیں کر سکتا ہے تو وقت بربادکرنے سے بہتر ہے، کوئی اور کام کر لے۔  میں یہ بات بہت ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ عیسی بلوچ جیسے شاعر آج کل بہت ہی کم ملتے ہیں، جو چار ہزار سال کی تاریخ، مختلف جغرافیہ میں رائج ریتی رواجوں اور رہن سہن کا علم،  اور مارکسٹ دانشوروں کی لکھی ہوئی کتابوں کا عمیق مطالعہ کرتے ہوں۔ کراچی جیسے کثیر آبادی   والے شہر میں پلے بڑھے عیسی ؔ بلوچ نے کراچی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کی ڈگری تو حاصل کی ہی ہے، لیکن ایک عمر اسکولوں کالجوں میں وقت صرف کرنے سے یہ ضروری نہیں کہ ہر وہ انسان جو ایم اے کی ڈگری رکھتا ہو وہ عیسی بلوچ کی طرح دور اندیش اور معاملہ فہم بھی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کے کلاس کے  اور بھی کئی ایسے طالبِ علم ہوتے جن کے قلم سے ”ایک نئی دوزخ اور نہ بنا لینا“  جیسی فکر انگیز نظم تخلیقِ عمل ہوتی۔ عیسی ؔ بلوچ نے بہت ساری خوبصورت نظمیں کہیں ہیں۔ ایک طویل نظم ”تم نے کہا تھا“ سے ایک بند ملاحظہ فرمائیں:

 دیکھو  میرا  قد

 جہاں تاب آفتاب سے بھی سوا ہے

 وہ جس نے

 کائنات کی جان ِ آفریں کو

 اپنی بانہوں میں

 سمیٹ رکھاہے

 چاند تاروں کے لئے

جو آئینہ ئ  تمثال ہے

میرے  قدموں  کو

چھونے سے قاصر ہے

 ”تم نے کہا تھا“ ایک قدر طویل نظم ہے جس میں شاعر کی خیالی دوست ایک شام کی ملاقات میں شاعر سے محو گفتگو ہے۔ مذکورہ پیش خدمت  بند میں عیسیؔ

بلوچ کی تخلیقی صلاحیت، الفاظ اور خیال کو منظم کرنے کا ڈھنگ بالکل واضح ہے۔ الفاظ کو صوتی آہنگ دے کر خوبصورت لفظوں سے مصرعوں میں نکھار پیدا

کرنے اور تغزل بھر دینے کے فن سے واقفیت نظر آتی ہے۔ عیسیؔ بلوچ ترقی پسند تحریک کے حامی اور اس کے وکیل بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے مطالعے کو بروئے کار لاتے ہوئے،  مارکسٹ نظریہ کے تناظر میں اس نظم کی تخلیق کی ہے اور بہت ہی خو بصورت کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی نظموں میں اپنے

نظریئے کی پاسداری اور اس سے محبت عیاں ہے، جو کہ کسی بھی طرح چھپائے نہیں چھپتی۔عیسی بلوچ کا مطالعہ بہت ہی عمیق ہے، اس لئے ان کی فکر میں گل خان نصیرؔ، م۔ ر۔حسانؔ اور اجمل خنکؔ جیسے مفکروں کا شعور بھی شامل ہے۔ فکر کی پرواز جب جنون کی حد میں داخل ہوتی ہے تو ” ردِّ عمل“ ”مزاج کا پیرہن“ ”اے میرے شعور“  اور ”منڈی“  جیسی فکر انگیز نظموں کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ فیض احمد فیضؔ کی نظموں جیسی کو ملتا اور پروین شاکرؔ کی نظموں جیسی حیا بٹورے ہوئے یہ نظمیں گھونگھٹ کی آڑ سے ہر کیفیت بیان کر رہی ہیں۔         بول تری آوازمیں۔۔۔ایک ایسی ہی نظم ہے،  ملاحظہ فرمائیں:

دیکھ بدن کی کیفیت سے

 پھول اظہار کے جھڑتے ہیں

خاموشی کے عالم میں بھی

 آنکھیں باتیں کرتی ہیں

چاہ کا پنچھی سانس کی لَے پر

گیت خوشی کے گاتا ہے

بند لبوں پر مہر حیا کی

لفظوں سے دھل جاتی ہے

بول تری آواز میں جاناں

دیپک کی تاثیر رچی ہے

بدن کی کیفیت، اظہار کے پھول، چاہ کا پنچھی، سانس کی لے،  جیسے الفاظ کا مرکب  حیا کی مہر اور دیپک کی تاثیر کو سمھنے کے لئے  بہت خوب استعارہ ہے۔ شاعر نے اس نظم میں اشاروں اور کنایوں کا خوب  استعمال کر کے مصرعوں میں خوبصورتی اور بلاغت بھر دی ہے، جو قاری کے ذہن پر اپنا اثر دیر تک بر قرار رکھتی ہے۔ یہ کیفیت کئی ایک نظموں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لفظوں کی دھڑکن میں کیفیات، مناظر، واقعات اورحسن کا سنگم بنا نظم ’’محیط“ میں لیل و نہار کو کس طرح پیش کیا گیا ہے۔،  محسوس کریں:  

صبح کا منظر

یوں لگتا ہے

جیسے سورج نئی تمازت لئے

زمیں کی کوکھ سے جنم لے رہا ہو

شام کا منظر

یوں آنکھوں میں اترتا ہے

جیسے جہاں تاب آفتاب

دن بھر کی مسافت سے چور

زمیں کی گود میں سونے کو بیقرار ہو

چہار جانب نظر دوڑاؤ

تو یوں گماں ہوتا ہے

جیسے آسماں

زمیں کے کان میں کچھ کہہ رہا ہو

مگر شب و روز کا یہی منظر ہے

کہ کھلتا ہی نہیں

ایک دائرہ ہے۔۔۔  کہ ٹوٹتا ہی نہیں

قیام کویت کے زمانے میں میرے  چند خاص دوستو میں سے عیسیٰ بلوچ بہت ہی اہم دوست ہے، سن2015  آتے آتے قریب قریب سبھی سنیئر شاعر دوست کویت چھوڑ کر اپنے اپنے ملک چلے گئے۔ کچھ اللہ کو پیارے بھی ہو گئے۔  اپریل 2018  میں بھی کویت کو  خیر آباد کہ کر دبئی منتقل ہو چکا ہوں۔ مارچ  2019 میں  عیسیٰ بلوچ نے بھی رخت سفر باندھ لیا، وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ کراچی میں رہنے لگا ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ صحت مند رہ  اور لکھتا رہے۔ابھی اس سے اور بہتر اور کومل اور فکر انگیز نظموں کی امید باقی ہے۔

loading...