فرض کرو اس دھرنے سے پہلے۔۔۔

حکومت کے تگڑے وزرا کی ناں ناں  اور مولانا فضل الرحمان کی ہاں ہاں  کا سسپنس  بالآخر  ختم ہوا، مارچ  جسے مولانا آزادی مارچ کا نام دیتے ہیں وہ ایک ہفتے سے اب اسلام آباد  میں  دھرنا  ز ن ہے۔  اندیشہ اور امکان  بار بار ظاہر کیا گیا  کہ اس دھرنے کا  اگلا پڑاؤ ڈی چوک بھی ہو سکتا ہے۔  رہبر کمیٹی اور  حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں  جو معاہدہ طے پایا،  افواہوں  کے جھکڑ چلنے کے باوجود اس معاہدے کی پاسداری   ہوئی اور دھرنا پشاور موڑ میں ہی  خیمہ زن ہے۔

دو روز قبل  پیشین گوئیوں کے عادی ایک وزیر نے اپنے ریکارڈ شدہ  ویڈیو میں  پیشین گوئی کی کہ معاملات طے ہو رہے ہیں اور     ٌمولانا ایک دو دن میں جا رہا  ہے۔ عین  اسی روز مولانا نے  اعلان کیا کہ اب کی بار  12 ربیع الاوّل اسی پنڈال میں ہوگا اور اس روز سیرت النبی کانفرنس  کا اہتمام ہو گا۔ ایک وزیرِ مو صوف ہی کیا  کئی ایک جغادری ’پکی خبروں‘  کے ساتھ  دعوے دار تھے کہ معاملات طے ہی سمجھیں مگر اب حالات یہ ہیں کہ  دھرنے کی روانگی کی فال نکالنے والے  بند کواڑوں کے پیچھے  والی ملاقاتوں  کی خبریں نکالنے میں ہلکان ہو رہے ہیں۔  اس مارچ اور دھرنے کی وجوہات اور اس مارچ سے جے یو آئی کو کیا حاصل ہوا؟ کیا کیا حاصل  ہو سکتا ہے؟ جتنے تجزیہ کار اتنے اندازے، جتنے چینل اتنی ہی بریکنگ نیوز اور جتنے  عوام اتنے ہی کنفیوز!

دھرنے کے بارے میں تجزیوں کی اس بہتات میں ہماری کیا  بساط کہ اس میں کچھ اضافہ کریں، تاہم ایک خیال اس دوران بار بار گونجا کہ فرض کریں یوں ہو گیا ہوتا تو کیا  ہوتا؟  اس ضمن میں میں ابنِ انشا کی ایک مشہور نظم  ذہن میں بار بار گردش کرتی رہی: فرض کرو ہم اہل ِ وفا ہوں  فرض کرو دیوانے ہوں۔  کیا کیا فرض  کیا جائے؟   اس پر بات کرنے سے قبل  کچھ ذکر ابنِ انشا کا۔

پچاس سال سے کچھ زائد عمر میں انہوں نے اردو ادب  میں مزاح، سفر نامہ نگاری، کالم نگاری اور شاعری کا ایک وسیع ذخیرہ چھوڑا کہ ستر اسی سالہ ادیب اور شاعر بھی رشک کریں۔   مزاح نگاری، سفر ناموں اور  کالموں میں شگفتگی اور کاٹ  کا ایک جہانِ حیرت ہے  لیکن شاعری میں ان کا انداز بالکل الگ ہے، ایک جوگی  جیسا،  بنجارے  جیسا۔  گوری،  ساجن، پریم، سادھو جیسی تراکیب سے خیال آرائی اور طرزِ بیان کا ایک الگ جہان آباد کیا۔ ان کی  کئی غزلیں اور نظمیں محاوروں کی طرح  مشہور ہوئیں۔

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا  لگانا کیا،  اپنی بیماری سے مقابلہ کرتے کہی اس نظم میں خیال اور جذبات کی شدت  رُلا دینے والی ہے، اس پر مستزاد اسے امانت علی خان نے اپنی خوش گُلوئی سے ایک نیا آہنگ دیا۔  شاید ہی کوئی شخص ہو جس نے ان کی یہ نظم نہ سنی ہو۔ اسی طرح ان کی ایک اور نظم سب مایہ ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے،  بھی بہت مشہور ہوئی۔ ان کے کئی اشعار ضرب مثل کی مانند مشہور ہوئے،  مثلاً کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا  تیرا۔ ان کی ایک مشہور نظم  ’فرض کرو‘ ، الفاظ،  استعاروں اور ذومعنویت کا  کمال اظہارہے۔

اس نظم کے عنوان سے ہمیں بار بار یہی ذہن میں  آتا رہا کہ فرض کریں یوں ہو گیا ہوتا تو اس مارچ اور دھرنے  کا کیا ہوتا؟ ہوتا بھی یا گنجائش ہی نہ بنتی!  فرض کریں  اگر  وزیر اعظم ہر ہفتے اپنے اعلان کے مطابق ایوان میں آتے، اپوزیشن  ارکان سے خوش دلی سے  ہاتھ ملاتے  اور کہتے کہ ہم آپ کے ووٹ اور آپ کا احترام کرتے ہیں اور آپ ہمارے ووٹ  کا اور ہمارا احترم کریں۔ فرض کریں وزیر اعظم اس جمہوریت کا عملی مظاہرہ کردیتے جن  جمہوری روایتوں کا وہ جلسوں میں اکثر ذکر کرتے ہیں۔

فرض کریں وزیر اعظم اعلان کرتے کہ  احتساب کا عمل بے لاگ اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوگا۔ انکوائریوں ، گرفتاریوں اور فیصلوں میں ریاستِ مدینہ  کی جھلک نظر آئے گی۔  فرض کریں کہ احتساب  کے عمل میں جن حکومتی ارکان کا نام آتا وہ ان کی کیبنٹ  اور مشاورتی اجلاسوں میں اس وقت تک شامل نہ ہوتے جب تک احتساب کا عمل انہیں کلین چٹ نہ دے۔  فرض کریں کہ احتساب  کے عمل کے دوران اپوزیشن کے ساتھ ساتھ  وہ تمام حکومتی  ارکان بھی اسی تفتیشی اور عدالتی نظم کے پابند ہوتے جس میں سابق صدر، سابق وزرائے اعظم، وزرا  اور صرف آج کی اپوزیشن ہے۔

فرض کریں کہ وزیر اعظم ایوان میں داخلے کے وقت اپوزیشن لیڈر سے  نظریں چرانے کی کوشش  نہ کرتے اور ان کے ساتھ نظر اور ہاتھ  ملانے کو سیاسی سمجھوتے سے تعبیر نہ کرتے۔  فرض کریں  کہ قانون سازی کے سب راستے ایوان سے ہو کر گزرتے۔ فرض کریں ایوان میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی کشمیر جیسے حساس مسئلے کی بحث کے دوران بھی اپوزیشن پر ذاتیات کی سطح سے اٹھ کر صرف مسائل تک محدود رکھ کر پارلیمان میں سنجیدگی کا ماحول بنانے میں پہل کرتے کیونکہ وہ حکومت میں ہیں۔

فرض کریں گزشتہ حکومت  کے دور میں کچھوے کی رفتار سے زیرِ غورانتخابی اصلاحات  اپوزیشن کو ساتھ ملا کر یوں طے کرتے  کہ  حکومت اور اپوزیشن ایوان سے انہیں متفقہ پاس کرتے۔ یوں وہ اداروں کی حدود طے کرکے ایک  قابل قبول فریم ورک  بنا کر انتخابات کی شفافیت اور اعتماد کا ایک نیا دور شروع کرنے کا بندو بست کر دیتے جس میں ہارنے والا بھی  فافن کی رپورٹ کی بجائے الیکشن کمیشن  کی رپورٹ  کا ذکر کرتا۔

فرض کریں کہ حکومت میں آنے کے بعد اعلان شدہ  اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے، اس کی  سفارشات پر عمل کرنے کی  صورت نکالتے۔ڈگمگاتی معیشت کو ہر روز مزید ہلا ہلا کر  دُہائی نہ دیتے کہ پچھلی حکومت نے اس کا یہ حال کر دیا ہے۔ فرض کریں وہ ہر فورم پر اپنی معیشت  میں  سرمایہ کاری کے مواقع کی  وضاحتیں کرتے نہ کہ ہر بین الا اقوامی فورم پر یہ بتاتے کہ انہیں کرپشن سے چور چور معیشت ملی ہے۔

فرض کریں کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے میں ان کی حکومت حالات کی سنگینی کا بروقت ادراک کر لیتی، آئی ایم ایف سے معاہدہ اور اس پر عمل ان کا اپنا منتخب وزیر خزانہ کرتا۔  فرض کریں اس معاہدے میں تمام شرائط اپ فرنٹ نہ مانی جاتیں،  روپے کی وہ درگت نہ بنتی  جو بنی،فرض کریں معیشت کی نمو آج  پانچ فیصد ہوتی، معیشت میں ملازمتیں بدستور پیدا ہو رہی ہوتیں، فرض کریں کہ کم ازکم دس لاکھ گھروں کی تعمیر شروع  ہو چکی ہوتی، فرض کریں کہ سی پیک کے منصوبوں میں شفافیت لائی جاتی اور اگلے منصوبوں پر کام جاری ہوتا۔۔

فرض کریں  یہ سب  کچھ یا  بیشتر  ہو گیا ہوتا تو  مولانا بھی   مارچ کرنے اور دھرنے کی ہمت نہ کر پاتے۔ اگر پھر بھی  مارچ کرتے تو اپوزیشن  یوں  ان کے ساتھ کھڑی  ہوتی؟ بہرحال  اس دوران  ابن، انشا کی نظم  فرض کرو کے چند  حسبِ حال اشعار سنئے اور دھرنے اور اس سے قبل  کی ہماری ’فرض کریں‘ کی سوچ کو اس تناظر  میں دیکھئے:

فرض کرو ہم  اہلِ وفا  ہوں، فرض کرو دیوانے  ہوں

فرض کرو یہ دونوں باتیں  جھوٹی ہوں افسانے ہوں

دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے’ہو‘

بستی  بستی  صحر ا صحرا، لاکھوں کریں  د وانے ’ہو‘

 گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا  جھوٹا سچا  ’ہو

ڈوبنے والی ڈوب  گئی  وہ گھڑا تھا جس کا کچا ’ہو

loading...