طبقاتی نظام اور استحصالی سیاست

پاکستان کا آئین  تمام شہریوں کے درمیان برابری پر زور دیتا ہے او رکسی بھی طرز کی  تفریق سے منع کرتا ہے۔لیکن جب آئین اگر محض کتابوں یا لفظوں تک محدود رہ جائے تو اس کی اہمیت اور ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان  سیاسی، سماجی، انتظامی، معاشی اور قانونی تضادات کا شکار ہے۔ آئین یا قانون کے مقابلے میں ہم فرد کی سیاسی، سماجی او رمعاشی حیثیت یا اختیار کو دیکھ کر اس کے ساتھ برتاؤ  یا سلوک کرتے ہیں۔ یہ عمل  لوگوں کے درمیان تفریق کی سیاست کو جنم دیتا ہے او راس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام، کمزور او رمحروم طبقات میں تعصب، نفرت، غصہ اور لاتعلقی کی سیاست پیدا ہوتی ہے جو ریاستی و حکومتی نظام کو کمزورکرنے کے ساتھ معاشرتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔

پاکستان کا نظام موجودہ صورتحال میں اپنی سیاسی، سماجی او راخلاقی ساکھ کھوچکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ادارہ سازی کا زوال ہے او راداروں کی جگہ فرد، افراد یا خاندان زیادہ بااثر او رطاقت ور ہوکر ریاستی او رحکومتی نظام کو اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق چلاتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ پورا نظام ایک یرغمالی کی صورت اختیار کرچکا ہے او راس نظام کو تبدیل کرنا یا اس کے مقابلے میں ایک متبادل نظام  سامنے لانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب تبدیلی کے تمام فریقین  باہمی گٹھ جوڑ کے ساتھ اتفاق پیدا کرکے ذاتی مفادات کو تقویت دینے کے لیے روائتی طرز کی سیاست کو اپنی ترجیح  بنالیتے ہیں تو اس کا عملی نتیجہ استحصال کی  صورت میں نمودار ہوتا ہے۔

روزانہ کی بنیادوں پر معاشرے میں طبقاتی تقسیم او را س کی بنیاد پر کمزور او ربے بس لوگوں کے ساتھ ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی او رطاقت ور طبقہ کے سلوک کی نمایاں جھلک ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ایک طاقت ور او ربااختیار لوگوں کا پاکستان ہے اور دوسرا کمزور طبقوں کا پاکستان ہے اور یہ دو پاکستان دو مختلف لوگوں کی زندگیوں کی تصاویر کو پیش کرتا ہے۔کمزور لوگوں کی بنیادی طاقت اس کا ریاستی وحکومتی نظام ہوتا ہے کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے یا دلایا جاتا ہے کہ ان کی سیاسی، سماجی او رمعاشی کمز و ریوں کے باوجود ریاست او رحکومت ان کے پیچھے ایک مدد گار کے طور پر کھڑی ہے۔ یہ ہی وہ سوچ ہوتی ہے جو ریاست اور شہریوں کے درمیان موجود باہمی تعلق کو مضبوط بنا کر ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل میں مدد فراہم کرتی ہے۔

 بالائی یا طاقت ور طبقہ  ریاستی یا حکومتی نظام کو ایک مخصوص طبقہ کا پاکستان بنانے کی جو روش اختیار کیے ہوئے ہے،  اس کا  نتیجہ ملک میں  بدامنی، غربت، پس ماندگی، محرومی اور بے بسی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ کمزور لوگوں کو لگتا ہے کہ اس ریاستی او رحکومتی نظام میں ہماری حیثیت محض ایک تماشائی کی ہے او ر استحصالی طبقہ کی ہے۔  ملک میں انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات بڑھنے  کی وجہ بھی ملک میں محرومی اور عدم انصاف پر مبنی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ نظام کی بنیاد پر امیری اور غریبی میں بڑھتے ہوئے  فرق یا خلیج  نے بھی معاشرے میں مساوات کی بحث کو کھوکھلا کردیا ہے۔لوگ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ ہمیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔

ادارہ جاتی سطح پر جب ادارے لوگوں کی حیثیت کو دیکھ کر ان سے معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے تو یقینی طور پر کمزور اور محروم لوگوں کوسب سے زیادہ استحصال کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر ہم نے واقعی طبقاتی نظام کی نمایاں جھلک کو محسوس کرنا ہے تو اس کے لیے  ہمیں بنیادی حقوق سے جڑے ریاستی و حکومتی شواہد یا اعداد وشمار کو دیکھنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، روزگار، غربت، پس ماندگی، تحفظ، انصاف  کے علاوہ صنفی تفریق  میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ہم کس طرح سے طبقاتی نظام کی بنیاد پر کمزور طبقوں کا استحصال کررہے ہیں۔ اور ان کے مسائل ہماری ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہیں۔

پاکستان میں کھانوں کے لنگرز کا بڑھتا ہوا رجحان، معاشی غربت او ربے روزگاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات سمیت بنیادی حقوق کی عدم فراہمی جیسے مسائل نے انسانی ترقی کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عالمی سماجی اداروں کی درجہ بندی میں بھی ہماری حکمرانی کا نظام عام اور کمزور طبقوں کے مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔ہمارے ہاں ایک فیشن بن گیا ہے کہ ہم فوری طور پر ریلیف کے کام کو اہمیت دے کر یہ  تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ریاست ان کے معاملات میں سنجیدہ ہے۔ اگرچہ فوری ریلیف اہم ہوتا ہے مگر اس سے بڑھ کر اہم بات کمزور طبقات کی مستقل حیثیت کو بحال کرنا او ران کو اس قابل بنانا کہ وہ خود سے اپنی حالت کو تبدیل کرسکیں ۔ لیکن ہم نظام میں موجود خرابیوں کی اصلاح  کرنے کی بجائے اسی بوسیدہ اور فرسودہ نظام کو برقرار رکھ کر سٹیٹس کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل بڑی تیزی سے موجودہ نظام کی اہمیت کو ختم کررہا ہے او ر لوگ نظام سے بیزار نظر آتے ہیں۔

 ریاستی او ر حکومتی پالیسیوں میں کمزور طبقات کے مفادات کے تناظر میں ایک بڑا سیاسی ٹکراؤ نظر آتا ہے او رلگتا ہے کہ پالیسیوں کا مقصد ایک مخصوص طبقہ کے مفادا ت کو تقویت دینا ہے۔  یہ حکمرانی کے نظام میں خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں شہری اور دیہی تقسیم اور دیہات کی سطح پر عدم ترقی کا نظام ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بڑے بڑے میگا منصوبوں کے نام پر سب سے زیادہ استحصال کمزور طبقات کا ہورہا ہے جن میں معذور، اقلیتیں، عورتیں، مزدور، کسان اور بچے بچیاں شامل ہیں۔ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ قانون بنانا اہم ہوتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ اہم  قانون پر عملدرآمد ہے  ورنہ  مصنوعی حکمرانی کا نظام لوگوں کی زندگیوں میں  مشکلات پیدا کرنے کاسبب بنتا ہے۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں طبقاتی نظام یا استحصالی نظام کے خاتمہ  کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ اول ہمیں اپنی حکمرانی کے نظام میں ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے او ریہ عمل روائتی حکمت عملی سے نہیں بلکہ غیر معمولی اقدامات کی مدد سے ہوگا۔ دوئم ہمیں وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کے نظام کو اپنانا ہوگا ورنہ  عدم توازن پر مبنی ترقی زیادہ بدحالی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ سوئم شہری اور دیہی ترقی کے نظام میں برابری کا سلوک اختیار کرنا اور دیہی یا چھوٹے شہروں کو بھی ترقی کی بنیاد بنانا ہوگا۔ چہارم ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنا اور وہاں عام آدمی کی رسائی سمیت انصاف کے نظام کو تبدیل کرکے عوامی مفادات کے تابع کرنا ہوگا۔پنجم ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا او رکمزور طبقات کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ ششم ریاست او رحکومت کو سمجھنا ہوگا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دینا او ران کو ہر سطح پر یقینی بنانا جن میں صنفی تفریق کے پہلو بھی نہ ہوں ان کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ہفتم  مقامی نظام حکومت کو مضبوط کرنا او رعوام میں  حکمرانی کی ملکیت کا احساس دینا ہوگا۔

لیکن یہ سب کام اسی صورت میں ممکن ہوں گے جب معاشرے کے ذمہ دار افراد ایک بڑی طاقت اور ذمہ داری کے ساتھ ریاست اور حکومت پر آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا دباؤ بڑھائیں۔ ریاست او رحکومت کے ظالمانہ نظام کو ہر سطح پر چیلنج کرنا ہوگا او ریہ آواز شدت سے اٹھانی ہوگی کہ پاکستان کا مسئلہ متبادل سیاسی نظا م ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو جنجھوڑنا ہوگا کہ ان کاموجودہ طرز عمل پاکستان کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں او رسول سوسائٹی بالخصوص نوجوان طبقہ کو سیاسی محاذ پر جذباتی کیفیت کا شکار ہونے کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر اپنے نئے کردار کو تلاش کرنا ہوگا۔  ہمیں جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل کسی جادوئی عمل سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے معاشرے کو  ایک منظم جدوجہد کرنی ہوگی۔ لوگوں کو یہ باو رکروانا ہوگا کہ نظام کی تبدیلی کا عمل ان کی اپنی جدوجہد سے بھی جڑا ہوا ہے۔  طاقت ور طبقات کا گٹھ جوڑ  اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹے گا۔ اس کے لیے ہمیں خود کو منظم کرنا ہے اور دوسروں کو بھی منظم کرکے ایک بڑی سیاسی اور سماجی تحریک کو آگے بڑھانا ہے جو طبقاتی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن سکے۔

loading...