وزیر اعظم نے استعفیٰ کے سوال پر بات چیت سے انکار کردیا

  • جمعہ 08 / نومبر / 2019
  • 730

وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے میرے استعفیٰ پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔

وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں موجود ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔ میں کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس بارے میں ابھی کچھ علم نہیں۔

آزادی مارچ کے شرکا نے ابھی تک  کسی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے  وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی کی متحد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود فریقین میں استعفیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

وزیر اعظم کی طرف سے استعفیٰ نہ دینے پر اصرار سے ایک روز پہلے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اگر استعفیٰ کا معاملہ ایجنڈے کے حصہ نہیں ہے تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

loading...