قومی اسمبلی میں آزادی مارچ پر نوک جھونک، وزیر دفاع کا مفاہمت سے انکار

  • جمعہ 08 / نومبر / 2019
  • 720

وزیر دفاع اور اپزیشن سے مذاکرات کے لئے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ آزادی مارچ والے بیٹھے رہیں بس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ہمیں احتجاج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو شخص اسمبلی کا حصہ ہی نہیں، وہ جمہوریت کی بات کیسے  کرسکتا ہے۔ میں اپوزیشن کو کہتا ہوں مولانا کو اسمبلی میں لائیں اور پھر جمہوریت کی بات کریں۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ 40 سال سے سیاست میں ہوں سارےحالات دیکھے ہیں۔ وزارت چھوڑ کر عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ جمہوریت کے تمام رموز بخوبی جانتا ہوں۔ وزیراعظم نے مجھے مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا اور میں نے اسپیکر اسمبلی کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا رکن مقرر کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ آج یہ جمہوریت اور قانون کی باتیں سکھاتے ہیں جو ملک آپ چھوڑ کر گئے اس کا حساب دینا ہوگا۔  انہوں نے علی امین گنڈا پور پر فخر کا اظہار کیا جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو دوبارہ انتخابات کا چیلنج دیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ یہ غلط بیانی نہ کریں بلکہ حقیقت سنائیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن وہاں بیٹھے ہیں بات نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں مانتے۔ دوبارہ بھی الیکشن ہوا اور پاکستان تحریک انصاف جیت تو بھی ہم نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کس کا راج ہے؟ یہ ملک کس کے لیے بنا ہے؟ پاکستان ہمارا ہے۔ اس ملک کے لیے ہم نے قربانیاں دیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ' میں ان سے کہتا ہوں صبر کریں آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا۔ یہ تماشا اور نہیں چلے گا۔ اس طرح یہ ملک نہیں چلے گا۔ پاکستان میں آپ جمہوریت نہیں مانتے، قانون نہیں مانتے۔ جمہوریت کی بات کرنے والوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ میں نے سب تماشے دیکھے ہیں۔ بھٹو کو کس نے گرایا۔ نواز شریف کی حکومت کس نے ختم کی۔  یہی لوگ کھڑے ہوئے انہوں نے مل کر سب کو گرایا ۔

انہوں نے کہا کہ اگ جمہوریت چاہتے ہیں اور اس ملک کو چلاناچاہتے ہیں تو آکر بات کریں۔ وہاں دھرنا دیا ہے تو بیٹھے رہیں۔ لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا۔  یہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھی دھاندلی کی بات کی ہم الیکشن کمیشن گئے۔ ہم عدالت گئے، ہم اسمبلی آئے لیکن یہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں۔ کیا کرلو گے۔ یہ جمہوریت کی بات کرتے ہیں وزیراعظم اسمبلی میں آتے ہیں انہیں بولنے نہیں دیتے ہم آپ کی بات سنتے ہیں لیکن خود برداشت نہیں کرسکتے۔

وزیر دفاع کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے رویے سے جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا۔ قومی اسمبلی میں ہماری تقاریر کی آواز بند کی جاتی ہے اگر ہمیں یہاں پر اظہار رائے کی آزادی اس ایوان میں بھی نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس ایوان میں 12 آرڈیننس بغیر کسی کارروائی کے پاس کیے گئے اور وزیراعظم اپنے دفتر میں بیٹھ کر دیکھتے رہے۔ جس طرح قانون سازی ہوئی اس پر پورا ایوان شرمسار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ  جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا۔ پرویز خٹک آپ کا اور ہمارا بیڑا غرق ہوجائے اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ لیکن اداروں کا اور جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا۔

انہوں نے وزیر دفاع کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ' یہ بیج آپ نے بوئے تھے جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرویز خٹک آپ ہی کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کرتے تھے۔

اس سے قبل وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے خلاف ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے اپنے نشست چھوڑنے کو تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کریں اور ضمنی انتخاب میں اپنی مقبولیت ثابت کریں۔

جس پر قومی اسمبلی میں موجود جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اسد محمود نے کہا کہ اگر علی امین گنڈا پور اپنی نشست چھوڑتے ہیں تو وہ بھی استعفیٰ دے کر مقابلہ کرنے کلے لئے تیار ہیں۔

loading...