نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک جانے پر رضامند ہوگئے

  • جمعہ 08 / نومبر / 2019
  • 500

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف ڈاکٹروں کے مشورے اور اہل خانہ کی جانب سے قائل کرنے پر علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں نے واضھ کیا ہے کہ ان کا علاج صرف بیرون ملک ممکن ہے جس پر نواز شریف نواز شریف لندن جانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے نواز شریف کے بیرون ملک سفر سے متعلق ڈاکٹروں کی تجاویز سے حکومت کو آگاہ کردیاہے۔

شریف خاندان کے ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت ایک دو روز میں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکال دے گی۔ مولم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی طرف سے اس سلسہ میں وزارت داخلہ کو باقاعدی درخواست دے دی گئی ہے۔

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج ہونے کی صورت میں وہ اسی ہفتے لندن کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف بیرون ملک جانے کے لیے رضامند نہیں تھے لیکن سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ اور شریف میڈیکل سٹی کے ڈاکٹروں کی تجاویز اور اہلِ خانہ کی درخواست کے بعد آخر وہ راضی ہوئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں پاسپورٹ جمع کروانے کی وجہ سے مریم نواز والد کے ساتھ بیرون ملک نہیں جاسکیں گی۔ اس وقت نواز شریف کی صحت اہم ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ بعد میں والد کی دیکھ بھال کے لیے مریم نواز لندن جانے کا کوئی آپشن ڈھونڈ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت نواز شریف کے پلیٹلٹس کی تعداد 24 ہزار پر پہنچ چکی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق فضائی سفر کے لیے مریض کے پلیٹلیٹس 50 ہزار یا اس سے زائد ہونے چاہئیں۔ بیرون ملک سفر کے لیے نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد 50 ہزار یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے یا نہیں اس سوال کے جواب میں ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر ان کے پلیٹلیٹس کی تعداد میں اضافے کے لیے دوا کی مقدار میں اضافہ کرسکتے ہیں تاکہ وہ سفر کرسکیں۔

خیال رہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانا واحد آپشن ہے تو حکومت کوئی راستہ ڈھونڈ لے گی۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں دوبارہ خطرناک حد تک کمی کے بعد میڈیکل بورڈ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی ہے اور پاکستان میں ہر ممکن علاج کے باوجود ان کی حالت میں بہتری نہیں آرہی۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ مریم نواز صرف اپنے والد کی صحت پر توجہ مرکوز رکھیں گی اور کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گی۔ مریم نواز اس وقت کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتیں کیونکہ ان کی توجہ اپنے والد کے علاج پر مرکوز ہے۔

سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس آئی ایم ایس) کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت کی پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے انہیں بیرون ملک علاج کی تجویز دی تھی۔  ڈاکٹر محمود ایاز نے ڈان کو بتایا تھا کہ بیرون ملک جینیٹک (جینیاتی) ٹیسٹ ضروری ہے۔ نواز شریف کے علاج کے لیے مزید تشخیص کی ضرورت ہے۔

6 نومبر کو نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا میں واقع اپنی رہائش گاہ منتقل کیا گیا تھا۔

loading...