پاکستان قومی محاذ آزادی اوورسیز کا اعلامیہ

  • بدھ 06 / نومبر / 2019
  • 3850

26 اکتوبر 2019 کو ویسٹ منسٹر یونیورسٹی لندن میں پاکستان قومی محاذ آزادی اوورسیز کے اجلاس کے بعد مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا۔

پاکستان قومی محاذ آزادی کے بانی راہنما معراج محمد خاں سوشلسٹ انقلابی نظریات کے حامل، عوامی حقوق کے علمبردار، حکمران طبقوں اور اشرافیہ کے استحصال اور مظالم، اور سامراجی غلبے کے خلاف مزاحمت کا عظیم سمبل رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کے معاشی، جمہوری، سیاسی اور ثقافتی حقوق کے لئے ہمیشہ حکمرانوں سے ٹکر لی۔ حکمرانوں کے مظالم اور قیدوبند کی صعوبتیں بھی ان کے عزم اور حوصلے کو متزلزل نہ کر سکیں۔ معراج محمد خاں نے نام نہاد انقلابی نعرہ بازی کی آڑ میں جاگیردار اور سرمایہ دار طبقوں کی نمائندہ جدید نو آبادیاتی ریاست اور ریاستی نظام کی ترجمان کسی حکومت کے لئے ہمدردی یا حمایت کا پہلو نکالنے کی کوشش نہیں کی۔

 معراج محمد خاں نے فوجی آمریتوں اور سول حکومتوں کے ادوار میں محنت کشوں کے حقوق، عوامی جمہوری حکمرانی، سویلین بالادستی، اظہارخیال کی آزادی، تحریر و تقریر اور اجتماع کی آزادی، وفاقیت، صوبوں، خواتین اور اقلیتوں کے مساوی حقوق، ایک خود مختار اور معاشی طور پر خود کفیل پاکستان کے لئے غیر مصالحانہ جدوجہد جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کردار ادا کئے بغیر پاکستان کی معاشی، سماجی اور ثقافی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ وہ بلا معاوضہ یکساں معیاری تعلیم اور طبی سہولتوں کی فراہمی کو ہر شہری کا بنیادی انسانی حق تسلیم کرانا چاہتے تھے۔ معراج محمد خان ہمسایہ ممالک سے برابری کی بنیاد پر پرامن دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے حامی تھے۔

معراج محمد خاں کے نزدیک مذہبی انتہا پسند اور مذہب کو سیاسی عزائم کے لئے استعمال کرنے والے عناصر فرسودہ طبقاتی سماج، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی نظام کے محافظ ہیں۔ مذہبی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنے اور گمراہ کرنے کی ہرکوشش اور سازش کو بے نقاب کرنا معراج محمد خاں کی سیاست کا اہم جزو رہا۔ ان کے بقول مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرنے والے عناصر سائنسی شعور، جدید علوم اور روشن خیالی کے دشمن، ملک اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں آج پاکستان قومی محاذ آزادی کے بانی قائد معراج محمد خاں کے ںظریات اور ان کی استحصالی طبقاتی نظام کے خلاف دلیرانہ مزاحمتی جدوجہد سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

آج پاکستان شدید اقتصادی، سیاسی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ ابھی تک پی ٹی آئی حکومت اور ریاست، معیشت کو شدید بحرانی کیفیت سے نکالنے میں کامیاب نیہں ہو سکی۔ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں نے سامراجی مالیاتی اداروں کی محتاجی کو بڑھاوا دیا ہے اور معیشت کا پیہہ جام ہو چکا ہے  جس کے نتیجہ میں بے روزگاری، کمرتوڑ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے ملک میں افراتفری کو ہوا مل رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف غیر مصالحانہ اور مخاصمانہ رویے کے نتیجہ میں مظاہروں، احتجاجوں، ہڑتالوں اور دھرنوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ حاصل کرنے کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ صحافی، تاجر، ڈاکٹر، اساتذہ، پیرامیڈیکل سٹاف، طالب علم اور آرٹسٹ حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان بحرانی حالات میں تباہ حال معیشت کی بہتری، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی خلفشار میں کمی کے آثار نظر نہیں آرہے۔

اظہارخیال کی آزادی پرسخت پابندیاں لگ چکی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر آمرانہ ریاستی کنٹرول اور سنسر شپ نافذ ہے۔ حکومت اور مقتدرہ ایک صفحہ پر کے دعویٰ کی گونج میں حکومتی پالیسی سازی میں سویلین بالادستی کی قربانی دی جاچکی۔ غیر منتخب ریاستی اداروں نے منتخب سویلین اداروں کے آئینی کردار کو محدود کرکے بنیادی پالیسی سازی کے اختیارات کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے۔ حکومت کی نا اہلی، ناقابل ذکر کارکردگی اور بری گورنس سونے پہ سہاگے کا کام کر رہی ہی۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی سے چمٹے رہنے کے لئے اپنے آئینی اختیارات سے دستبرداری میں ہی بہتری سمجھی ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت اور وزیر اعظم کو سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی ہونے کا طعنہ دے رہی ہیں۔  

پنجاب اور خیبرپختون خوا صوبوں کو اسلام آباد سے ریموٹ کنٹرول سے چلا کر صوبائی خودمختاری کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ جمہوری اصولوں کو روندتے ہوئے سندھ کی صوبائی حکومت گرانے اور سندھ میں گورنرراج نافذ کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم میں صوبوں کو تفویض کردہ اختیارات کو کمزور وفاق کی وجہ قرار دیتے ہوئے، حکومت اور مقتدرہ اس ترمیم کو ختم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ مگر پارلیمنٹ میں حکومتی پارٹی کی دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔

سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کا بلاامتیاز احتساب ایک کھوکھلے نعرے سے آگے نیہں بڑھ سکا۔ احتساب صرف سیاسی مخالفین تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثرتقویت پکڑ چکا کہ مخصوص سیاسی مخالفین کے احتساب کا نعرہ سیاسی انتقام کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جبکہ سیاسی مخالفین کے علاوہ حکومت کے حامی سیاستدان اور ریاستی ادارے احتساب سے مبرا ہیں۔

ہم غیرجانبدار، شفاف، ریاستی اداروں کی مداخلت کےبغیر اوربلا امتیاز سب کے احتساب اور کرپشن سے پاک سیاست، حکومت، ریاستی ادارے اور سماج کی حمایت کرتے ہیں۔ 

کشمیری عوام پر بھارتی سرکار کے بیہمانہ مظالم اور غیر انسانی سلوک کی وجہ سے تنازعہ کشمیر عالمی سطح پرابھر کرسامنے آیا۔ تنازعہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے مربوط کوششیں کرنے کی بجائے وزیراعظم نے محض یو این او میں ایک عدد تقریر پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا۔ مودی سرکار کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے سامنے بے بس حکومتی اہلکار کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ دیگر ممالک کے اقتصادی مفارات کشمیر پر عالمی حمایت حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

حکومت کی داخلہ، خارجہ، معاشی اور سیاسی محاذ پر مسلسل ناکامیوں نے حکمرانوں کی نااہلی، بے سمتی اور بری گورنس پر مہر ثبت کر دی ہے۔ عوام مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جبکہ سیاسی عدم استحکام اور خلفشار نے حکومت کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

ان حالات میں معراج محمد خاں کی انقلابی اورجمہوری جدوجہد ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ ہم عوامی جمہوری اور محنت کشوں کے معاشی حقوق، آئین و قانون کی حکمرانی، سویلین بالادستی، وفاقیت کے تحفظ، میڈیا پر سنسر شپ کے خاتمے، اظہارخیال کی آزادی، آزاد اور خود مختار عدلیہ، انسانی حقوق خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہمیں مذہبی انتہا پسندی، مذہب کے نام پر عوامی جذبات کو مشتعل کرنے، مذہب کو سیاسی عزائم کے لئے استعمال کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری رجعت پسند عناصر کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کرنا ہو گا۔    

ہمیں سیاسی حالات کے تقاضوں اور معراج محمد خاں کی جمہوری جدوجہد کی روشنی میں جمہوری قوتوں اور سیاسی جماعتوں سے برابری کی بنیاد پر سیاسی اتحاد کا آپشن کھلا رکھنا چاہئے۔ ہمیں اپنے اصولی اور جمہوری موقف پر کھل کر بات کرنے سے پرہیز نیہں کرنا چاہے۔ ہمیں کسی سیاسی اتحاد یا جماعت سے باضابطہ اور اصولی معاملات طے کئے بغیر اس کا دم چھلا بننے سے گریز کرنا ہو گا۔ ہم واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں سے اتحاد بنانے کا اختیار پاکستان قومی محاذ آزادی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کو حاصل ہے۔ ہماری متفقہ رائے ہے کہ فی الوقت سیاسی اتحاد ہماری ترجیحات میں شامل نیہں ہونا چاہئے بلکہ ہماری تماتر توجہ قومی محاذ آزادی کو ایک فعال تنظیم بنانے پر مرکوز رہنی چاہئے۔

ہماری رائے ہے کہ مرکزی سطح پر ایک منشور کمیٹی تشکیل دی جائے جو حالات کے چیلنجیز کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی ویلفئیر اورخوشحالی کا ایک سوشل ڈیموکریٹک پروگرام مرتب کرے۔ پاکستان کی قومی سلامتی ریاست کو ایک سوشل ویلفیئر جمہوری ریاست بنانے کے لئے ٹھوس تجاویز مرتب کرے۔ جسے بنیادی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد آل پاکستان پارٹی کنوینشن میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔    

اعلامیہ پر قومی محاذآزادی کے مختلف ممالک میں مقیم مندرجہ ذیل نمائیندہ راہنماوں نے دستخط کئے ہیں:

1۔ ارشدبٹ انچارج اوورسئیز 2۔ راؤ مستجاب کنویئنر یورپ رابطہ کمیٹی 3۔ وقاص بٹ 4۔ اکرم قائم خانی 5۔ ڈاکٹر عبدالوحید 6۔ خالد فاروقی 7۔ راجہ اظہر 8۔ زاہد مسعود 9۔ وحیدالزمان بھٹی 10۔ منصور عالم 11۔ خواجہ رشید انجم 12۔ محمد عامر 13۔ عبدالجبار۔       

loading...