مذہبی کارڈ

ابنِ رُشد سے منسوب ایک قول میں کہا گیا ہے کہ اگر جاہلوں پر حُکمرانی کرنا چاہتے ہو تو مذہب کا لبادہ اوڑھ لو ۔ مجھے جاہل آدمی کی کوئی مستند تعریف اب تک نہیں ملی مگر ایک عرب شاعر غالباً امر القیس کا شعری متن یاد ہے جس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے :

(دیکھنا کوئی ہم سے جہالت نہ کرے ورنہ ایسے موقعوں پر ہم دنیا کے سب سے بڑے جاہل بن جایا کرتے ہیں ۔)

گویا جس طرح خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ، ویسے ہی جاہل کو دیکھ کر جاہل بھی نہ صرف رنگ پکڑتا ہے بلکہ گرگٹ کی طرح بدلتا  بھی ہے ۔ ان خربوزوں نے علم کو اِس قدر بے آبرو کیا ہے کہ وہ انسانی بستیوں سے کنارہ کر گیا ہے ۔ کتابوں میں بھی الفاظ باقی رہ گئے ہیں اور معنویت مفقود ہو کر رہ گئی ہے ۔

ہم ہند مسلم تہذیب سے مُشتق جن معاشرتوں میں پلے بڑھے ہیں وہاں مذہب کوئی متفق علیہ ادارہ نہیں رہا اور اگر موجودہ  معروضی حالات برقرار رہے تو رہے گا بھی نہیں کیونکہ تاویلی مفسروں نے قرآن کے حقیقی مفہوم میں جو جو تحریف کی ہے ، اُس نے مسلمانوں  کو فرقوں میں تقسیم کر کے ملی وحدت کی تشکیل کے قابل چھوڑا ہی نہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اس وقت بہتر مذہبی کارڈ ہیں جو تاش کے باون پتوں سے تعداد میں بیس زیادہ ہیں ۔ اسلامی تاریخ کے مابعدِ خلفائے راشدین عہد میں انہی مذہبی کارڈوں کے کریڈٹ پرمسلمان حکمرانوں اور مذہبی اکابرین نے مسلمانوں کو اپنا فکری و نظری غُلام بنا کر اُن پر حُکمرانی کی ہے ۔ چنانچہ مذہب حکمرانوں کا پسندیدہ بلکہ چہیتا کارڈ ہے ۔ اِس کارڈ کو کھیل کر مسلمان حکمرانوں نے درہ خیبر کے اُس پار سے آ کر  برِ صغیر پر بے شمار حملے کیے اور اپنی جوع الارض یعنی زمین پر قبضے کی بھوک کو مٹایا ۔

غزنہ کا محمود جو ترکی الاصل تھا ، سترہ بار حملہ آور ہوا اور خراج لے کر چلتا بنا  مگر غوری ، ایبک ، تغلق ، بلبن، خلجی ، لودھی اور مُغل یہاں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔ان میں سب سے طویل دورِ حکومت مُغلوں کا تھا  ۔ مُغلوں نے یہاں قلعے ، باغات ، مقبرے ، حمام اورمسجدیں  تعمیر کیں اور فتح پور سیکری جیسی آبادیوں کی نیو اُٹھائی مگر لگتا ہے وہ ٹاؤن پلاننگ سے یا تو نا بلد تھے یا پھر مقامی لوگوں سے اُنہیں انصاف کرنا نہیں آیا ۔ چنانچہ وہ ہندوستانی رعایا بالخصوص مسلمانوں کے لیے مناسب قسم کے گھروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی نہ کر سکے اور آج کے پنجاب کے دیہات کے کچے کوٹھے تقسیم ہند تک مغلوں کی بے بصیرتی پر نوحہ کُناں رہے ۔روٹی کپڑا اور مکان کے بعد تعلیم کا نمبر آتا ہے مگر ان مطلق العنان بادشاہوں کے عہد میں علم ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود تھا  جس کے نتیجے میں تمام مسلمان لڑکیاں اور لڑکے اسلامی اصول کے مطابق زیورِ تعلیم سے تو آراستہ نہ ہو ہوسکے تا ہم  عامتہ الناس کو ناظرہ قرآن خوانی ، پکی روٹی اور نیم ملاؤں کے رحم و کرم پر چھورڑدیا گیا جو رعایا سے سوتیلی ماں کے سے سلوک کے مترادف تھا ۔ان نیم مُلّاؤں کے درمیان  شرعی تعلیم کی مُرغی کا وہی حال ہوا  جو دو ملاؤں کے درمیان ہو سکتا ہے ۔

القصّہ مُغل شاہی سے لے کر جرنیل شاہی ، شریف شاہی اور زرداری شاہی تک یہی طریقِ کار رہا کہ علم ایک مخصوص طبقے کی میراث بن گیا ۔ یعنی  پروفیسر میر کا بیٹا صحافی میر ہوا و علٰی ھذالقیاس یہ وہ طبقہ ہے جو ان جمہوری شاہوں کا  قصیدہ گو اور ثنا خواں تھا ، ہے اور رہے گا ۔عام آدمی کی علم تک رسائی ممکن نہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت ساڑھے تین کروڑ بچے تعلیم سے محرومی کے کینسر میں مبتلا ہیں اور علم جسے ہوا ، پانی اور مٹی کی طرح ہر شخص کی دسترس میں مفت ہونا چاہیے ، اب جنسِ تجارت بن گیا ہے جو بہت مہنگا بِک رہا ہے ۔ پاکستان کا وہ عام آدمی جس کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے ہیں ، اپنے بچوں کے لیے تعلیم خرید ہی نہیں پاتا جس کی وجہ سے جہالت گلی کوچوں میں ننگی ناچتی ہے اور تعلیم سے محروم بچے جنسی درندوں کی غذا بن  کر رہ گئے ہیں ۔

علماء جن کا کام لوگوں کو اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے مطابق تعلیم دے کر ، تربیت کر کے صادق اور امین بنانا تھا ، کاروبار میں لگے ہیں ، جہاد ، تحفطِ ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام پر ملنے والی بیرونی امداد اور مدرسوں کے مد میں وصول ہونے والے چندے اور خیرات سے ارب پتی علماء کا ایک باقاعدہ طبقہ وجود میں آگیا ہے جو جدید زندگی کی تمام تر آسائشات اور تعیشات سے معمتع ہو رہا ہے اور پاکستان سے باہر اُن کی املاک اُن کو مسلسل متمول تر بناتی چلی جا رہی ہیں اور اس مذہبی تجارت میں اسلام کی اصل روح مقید ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ اس تجارت میں ناموسِ رسول اور ختمِ نبوت کا انتہائی حساس اور جذباتی شعبہ بھی ہے جس میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کا مالی ، فکری اور جذباتی استحصال کیا جاتا ہے اور شریعت کو عملاً نافذ کرنے کے بجائے توقیرِ رسالت کے نام پر نعت گوئی ، قوالی ، محفلِ میلاد و سلام اور سیرت کانفرنسوں کے بھانت بھانت کے کارخانے چلائے جا رہے ہیں مگر معاشرے میں وہ صادق اور امین مسلمان نظر نہیں آتا جو نبی  آخر الزماںؐ کی تعلیمات کے مطابق خُلقِ عظیم کا ہوبہو نمونہ ہو مگر اس کے باوجود مذہب کارڈ ہر جگہ کھیلا جا رہا ہے۔ خُدا جانے اس مذہبی تجارت کا انجام کیا ہوگا جس کی طرف اقبال نے بڑا واضح اشارہ کیا تھا:

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بو ذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا

جب کہ قرآنِ کریم نے مذہبی کارڈ کے لیے ایک باقاعدہ فارمولا وضع کر کے مسلمانوں کو تعلیم کیا ہے اور وہ یہ ہے :

( لما تقولونَ ما لا تفعلون)

کہ جس بات پر تمہارا عمل نہیں وہ زبان پر مت لاؤ ۔ مذہب کا تذکرہ اُسی کو زیبا ہے جس کا عمل پر تصرف ہو ۔ کُلیہ یہ ہے کہ پہلے پڑھو ، پھر اُسے سمجھو ، پھر اُس پر عمل پیرا ہو جاؤ اور جب عمل میں مستحکم ہو جاؤ گے تو  تمہیں علم حاصل ہو جائے گا اور تم عالم بن جاؤ گے ورنہ رٹو طوطے ہی رہو گے ۔ اور جب عمل میں اخلاص تک پہنچ جاؤ تو تمہیں دعوت و تبلغ کا حق حاصل ہو جائے گا  ۔ کوئی بے عمل مسلمان یہ استحقاق نہیں رکھتا کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرے ۔ استاذِ ذی وقار  حضرت نور والے علیہ رحمت فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کا زبانی دعویٰ قول ہے اور اُس کا گواہ عمل ہے اور جب عمل کی گواہی موجود نہ ہو تو زبانی لن ترانی جھوٹ ہوتی ہے اور جھوٹ کا کاروبار تو ہو سکتا ہے مگر وہ دین کی صراط نہیں بن سکتا ۔ حضرت جون ایلیا کہہ گئے ہیں :

ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار

پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم

کر کے اک دوسرے سے عہدِ وفا

آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم

اور ہم سب لاالہ کے پرچم تلے رب سے عہدِ وفا باندھ کر ایک دوسرے سے جھوٹ بول رہے ہیں اور کسی کو وفا کا وہ فارمولا یاد نہیں جو کچھ یوں ہے :

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اور  المیہ یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کا تو پاکستان بھی اپنا نہیں رہا ، اُسے جعلی مذہبی کارڈ والوں نے اپنے نام الاٹ کروالیا ہے ۔

loading...