احتجاج حاضر، اصول گمشدہ: حکومت اور اپوزیشن صلح کرلیں

استعفیٰ کے لئے مولانا فضل الرحمان کی  طرف سے دی گئی دو روزہ مہلت اتوار کی شام کو ختم ہورہی ہے۔  تاہم  حکومت اور اپوزیشن  کے درمیان فاصلہ کم ہونے کی بجائے تناؤ  میں اضافہ ہؤا ہے ۔ فریقین نے ایک دوسرے کے بارے میں ترش  و  تلخ لب ولہجہ اختیار کیا ہے۔ اس رویہ سے  موجودہ  احتجاج جلسے اور دھرنے   سے بڑھ کر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ سیاسی طور سے کسی کے لئے بھی یہ صورت حال خوش آئیند نہیں ہوگی۔

حکمران جماعت کی کور کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اپنے اپنے طور پر اجلاس منعقد کئے ہیں۔ حکومت کے نمائیندوں نے  وزیر اعظم کے استعفیٰ اور نئے انتخابات کو قطعی طور سے مسترد کرنے کے علاوہ  اپوزیشن پر سخت سیاسی  حملے بھی کئے ہیں۔ حکومت کی مقرر کردہ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نےمولانا فضل الرحمان   کے بیان پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے  کہا  ہے کہ مولانا کا بیان لوگوں کو   ’بغاوت‘ پر اکسانے کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کل رات وزیر اعظم کومستعفیٰ ہونے کے لئے دو روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے صبر کو نہ آزمایا جائے۔ اگر اس ناجائز حکومت نے استعفیٰ نہ دیا تو عوام وزیر اعظم ہاؤس میں گھس کر انہیں گرفتار کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں‘۔  اب حکومت اس بیان پر مولانا فضل الرحمان  کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ  اسلام آباد میں جمع ہونے والے بعض مظاہرین کالعدم تنظیموں کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ پرویز خٹک نے ایسے عناصر کے خلاف  ایکشن کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دوسری طرف   اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا آج  بھی اجلاس ہؤا جس  میں مستقبل کی حکمت عملی  تیار کرنے پر بات چیت کی گئی ۔ ایک طرف یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ اپوزیشن کی دونوں پڑی پارٹیوں  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے  دھرنا دینے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ  ان کی حمایت احتجاجی جلسے تک محدود تھی۔ ان کے کارکن  دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نمائیندوں کی طرف سے  یہ بات سیاسی بیان سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔  مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر اسلام آباد میں جو لوگ جمع ہوئے ہیں ان میں زیادہ تعداد جمیعت علمائے اسلام   کے کارکنوں اور ہمدردوں کی ہے۔ البتہ عوام  نیشنل پارٹی اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن بھی اس اجتماع میں شریک  ہیں۔ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کارکن احتجاجی ہجوم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس لئے    ان دونوں  پارٹیوں کے  کارکن نہ صرف  دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ وہ  عملی طور سے احتجاج کا حصہ بھی نہیں ہیں۔  گو کہ  ان دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے  گزشتہ شب آزادی مارچ کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور   اس کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

حکومت کے خلاف ایک مؤثر سیاسی احتجاج کے موقع پر  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی   نے    دھرنے میں  حصہ نہ لینے  کا اعلان کرنا کیوں  ضروری سمجھا ہے ؟   کیا اس کا یہ  مقصد ہے کہ ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں حکومت یا  فوج کے ساتھ براہ راست تصادم  کی بجائے بیچ کا راستہ تلاش کرنے کا اشارہ دے رہی ہیں۔  اور ان کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے  احتجاج کے لئے ایسی سیاسی فضا ہموار کردی ہے  جس میں وہ اپنی سیاسی نمائیندگی کے بل بوتے  پر کوئی نہ کوئی ’ڈیل‘ کرنے کی پوزیشن میں  ہیں۔ گزشتہ روز شہباز شریف کی تقریر درحقیقت اسی خواہش کا برملا اظہار تھا جس میں وہ عسکری اداروں سے   موجودہ حکومت کے مقابلے میں دس فیصد حمایت کی ’بھیک‘ مانگتے ہوئے یہ وعدہ کررہے تھے کہ اگر انہیں ایک موقع مل جائے تو وہ 6 ماہ میں  ملکی معیشت  بحال کرسکتے ہیں۔

حیرت ہے  کہ  شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریروں میں تفصیل سے موجودہ حکومت کی معاشی ناکامیوں کا ذکر کیا ہے لیکن وہ کوئی ٹھوس متبادل معاشی پلان سامنے لانے میں ناکام رہے ۔ حالانکہ اگر حکومت کا آئی ایم ایف پیکیج لینا غلط تھا یا  وہ عوام کی سہولتوں میں اضافہ کرنے اور  مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہے تو مخالف سیاسی قیادت کو احتجاج کرتے ہوئے یہ بتانا چاہئے کہ ان کے پاس اس کا کون سا متبادل ہے جس پر عمل کرنے سے  ملک کی حالت سنور سکتی ہے۔   معاشی مسائل کے بارے میں تند و تیز باتوں کو بھی درحقیقت سیاسی بیانیہ ہی سمجھنا چاہئے۔   ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کا احتجاج اگر صرف عمران خان کے خلاف ہے اور  وہ صرف حکومت کی تبدیلی کے لئے ہی عوام کے غم و غصہ کو استعمال کررہی ہیں تو یہ  اس بنیادی  اصول کے خلاف مؤقف ہے جسے نواز شریف کے ’ووٹ کو عزت دو ‘ والے بیانیہ کا نام دیا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر ملک کی مذہبی جماعتوں نے  ہمیشہ عسکری قیادت کے ساتھ مل کر ہی سیاست کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان خود  اس حکمت عملی کے  نمائیندے رہے ہیں۔ تاہم اب پہلی بار ان کی قیادت میں  سیاست میں فوج کے کردار کو للکارا جارہا ہے۔ وہ دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ فوج اپنی غیر جانبداری ثابت کرے اور موجودہ حکومت کی سیاسی  پشت  پناہی سے گریز کیا  جائے ورنہ وہ بھی اداروں کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرنے  میں آزاد ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان  کی بات بھی دراصل شہباز شریف کے اس شکوہ کی گونج ہی ہے کہ فوج نے تحریک انصاف کی  صورت میں ایسی حکومت ملک پر مسلط کی ہے جو ڈیلور کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس لئے اب اس کے خلاف احتجاج کی ’اجازت‘ ہونی چاہئے اور   ’آزمائی ہوئی پارٹیوں ‘ میں سے کسی کو حق خدمت  کا موقع دیا جائے۔  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی ایسے کسی انتظام میں  بقدر جثہ حصہ ملنے  کی امید لگائے ہوئے ہیں۔  اسی لئے  وہ دھرنے کے ذریعے دراصل ان حلقوں کو ناراض  نہیں کرنا چاہتیں جو اب بھی ملک میں سیاسی اقتدار کے فیصلہ میں حرف آخر سمجھی جاتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی تقریر پر آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے  مشورہ دیا تھا کہ مولانا سڑکوں پر احتجاج کرنے کی بجائے متعلقہ اداروں میں جاکر شکایت کریں اور واضح کریں کہ جب وہ اداروں کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد کس ادارے سے ہوتی ہے۔  میجر جنرل آصف غفور نے   کہا  تھا کہ فوج آئین کے تحت منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے۔  وہ فریق نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے  متنبہ  کیا کہ کسی کو ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے اس بیان کو ’سیاسی ‘ قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ میجر جنرل آصف غفور فوج کی غیر جانبداری کو مشکوک کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں خود ہی واضح کردیا ہے کہ  میں کن اداروں کی بات کرتا ہوں۔

مولانا کی تقریر اور اس تبصرہ کی روشنی میں  سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا  اب وہ  دہائیوں پر  محیط ’ملاّ ملٹری گٹھ جوڑ‘  کو ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں یا وہ صرف اس بات پر  ناراض ہیں کہ  دو بڑی پارٹیوں کو ان کے سابقہ ’جرائم‘ کی سزا دینے کے   لئے  تحریک انصاف کو اقتدار دیتے ہوئے ، انہیں ان کا مناسب حصہ دینے سے گریز کیا گیا۔ اگر مولانا فضل الرحمان درحقیقت  یہ اسٹیٹس کو توڑنا چاہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے تو وہ شہباز شریف کی طرف سے ایک نیا موقع دینے کی گفتگو کے بعد ان سے کیسے بغلگیر ہوسکتے ہیں۔   موجودہ سیاسی منظر نامہ میں  اگر بعض باتوں  کا سرا  تلاش کرنا مشکل ہے تو بعض باتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ فوج اور سیاست کے حوالہ سے  مولانا فضل الرحمان اور  دونوں  بڑی پارٹیوں  کو درپردہ تعاون سے قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت قبول نہیں  ہے لیکن وہ اس کے کسی متبادل پر راضی ہونے کے لئے آمادہ ہیں۔ یہ حکمت عملی سیاست میں عسکری اداروں کے کردار کو کمزور کرنے کی بجائےمستحکم کرے گی۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمیعت علمائے اسلام کے  رہنما اکرم درانی نے آج کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے استعفیٰ اور نئے انتخابات پر اصرار کیا ہے ۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں  اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے ،  شٹر ڈاؤن  ہڑتال اور شاہراہوں کو   بند کرنے جیسے آپشنز پر غور کیا گیا ہے۔ ان میں سے آسان ترین طریقہ اسمبلیوں سے استعفوں  کا ہی  ہو سکتا ہے۔  لیکن کوئی بھی بڑی پارٹی اس آپشن کو استعمال کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔    مسلم لیگ (ن) کے علیل رہنمامیاں نواز شریف نے  آخری بار نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر کہا تھا کہ انتخابات کے بعد  اسمبلیوں سے استعفے کا مشورہ مان لینا چاہئے تھا۔ تحریک انصاف پندرہ ماہ میں  کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اگر مسلم لیگ(ن) اپنے رہبر کی خواہش کے مطابق استعفے دینے کا فیصلہ  کرلے تو وہ موجودہ حکومت کے غرور  اور اس کے سرپرستوں کی حکمت عملی کوتلپٹ کرسکتی ہے۔     لیکن یہ راستہ اختیار کرنے سے گریز،  یہی واضح  کرے گا  کہ اپوزیشن  صرف عمران خان کی تبدیلی پر متفق ہے باقی معاملات میں وہ موجودہ نظام کے تسلسل میں ہی اپنی بہتری سمجھتی ہے۔

اس صورت میں تصادم اگر حکومت  کے لئے نقصان دہ ہے تو اپوزیشن کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔  تحریک انصاف عمران خان کا ہی دوسرا نام ہے۔ ان کے بغیر  یہ پارٹی اپنے وجود اور شناخت سے محروم ہوجائے گی۔ موجودہ حکومت ناکام ہے لیکن اپوزیشن جن کامیابیوں کے دعوے کرتی ہے، ان پر اعتبار کرنا بھی محال ہے۔ اپوزیشن کو اس نکتہ  پر بھی غور کرنا چاہئے کہ  اگر بالفرض محال وہ عمران خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیتے ہیں تو جس کنٹینر پر اس وقت اپوزیشن لیڈر کھڑے ہیں،  چند ماہ بعد عمران خان ان کی جگہ لے لیں گے ۔ اس ملک کے مسائل اور یہاں کے عوام کی تکلیفوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

عمران خان کو ہٹانا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ان کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ  بعد میں وہ یہ دعویٰ نہ کرسکیں کہ  ’ملک دشمنوں نے انہیں اپنے منصوبے ادھورے چھوڑنے پر مجبور کردیا‘۔ اسی طرح حکومت کو بھی سال بھر بعد   ہی عوام کے غم و غصہ سے سبق سیکھنے  کی ضرورت ہے۔ للکارنے،  اشتعال دلا نے اور اکسانے کی بجائے سیاسی مکالمہ کا آغاز کیا جائے ۔ اسی طرح ایک بڑی مشکل سے ملک اور حکومت کو بچایا جاسکتا ہے۔

loading...