آزادی مارچ: یہ احتجاج ہے یا درخواست برائے ملازمت

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں احتجاجی  ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر استعفیٰ دینے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد  حالات ان کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے   واضح  کیا ہے کہ وہ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن ادارے بھی غیر جانبدار رہیں  اور اپنی غیر جانبداری کا ثبوت  بھی دیں۔

نماز جمعہ کے بعد آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمان نے متنبہ کیا کہ وہ دو روز  میں  اگر وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو  عوام  کو حق حاصل ہوگا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں گھس کر انہیں   گرفتار  کرلیں۔  مولانا کا تند و تیز لب و لہجہ صرف  عمران خان اور حکومت  تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے اداروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر دو روز کے بعد انہوں نے اس  ناجائز حکومت کو بچانے کی کوشش کی تو ہم  بھی اداروں کے بارے میں رائے بنانے میں آزاد ہوں گے۔ اس خطاب میں مولانا کی طرف سے  وزیر اعظم کے استعفیٰ کا یک نکاتی مطالبہ ہی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے  خاص طور سے نئے انتخابات کروانے کی بات نہیں  کی۔ وائس آف امریکہ  کی اردو سروس کے مطابق  فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ’ فضل الرحمان بتا دیں وہ کس ادارےکی بات کر رہے ہیں۔   ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔ فوج نےالیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنے تحفظات متعلقہ اداروں میں لے کر جائے اور سٹرکوں پر آ کر الزام تراشی نہ کرے۔ ترجمان کا  یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کو ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے  یہ بیان دے کر اپنی غیر جانبداری کا ’ثبوت ‘ فراہم کرنے کی کوشش کی  ہے یا مولانا فضل الرحمان  اور دیگر مظاہرین کو یہ وارننگ دی ہے کہ وہ اپنی حد میں رہیں اور احتجاج کو سول نافرمانی کی تحریک بنانے سے گریز کریں۔  جمعہ کو رات گئے تک اپوزیشن  لیڈر مولانا فضل الرحمان  کی رہائش گاہ پر مستقبل کے لائحہ عمل  پر متفق ہونے کی کوشش کررہے تھے۔  جمیعت علمائے اسلام  اپنے اعلان اور وعدے کے مطابق قابل ذکر تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔  ہجوم کے حجم کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے  چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج جلسہ سے خطاب بھی کیا ہے۔ تاہم شہباز شریف مولانا فضل الرحمان  کے گھر ہونے والے اپوزیشن  اجلاس میں شریک نہیں ہیں بلکہ مسلم لیگ (ن)  کی نمائیندگی  دوسرے درجے کی قیادت  نے کی۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان  کے احتجاجی اجتماع کا ساتھ دینے کا اعلان ضرور  کیا تھا لیکن اس  میں ان کی شرکت  متاثر کن نہیں  رہی۔ سیاسی طاقت کا یہ مظاہرہ جمیعت علمائے اسلام نے تن تنہا کیا ہے۔ سندھ کی حد تک پیپلز پارٹی نے آزادی مارچ میں شرکت بھی کی تھی اور اس اجتماع میں شامل ہونے والے لوگوں کو سندھ حکومت کی طرف سے سہولت بھی فراہم کی گئی تھی لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ن) آزادی مارچ کو ویسا ساتھ فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) نے چند استقبالیہ  مراکز ضرور قائم کئے تھے لیکن مسلم لیگی قیادت  منظر نامہ سے غائب رہی ۔  احتجاجی جلسہ اصولی طور پر کل شام منعقد ہونا تھا لیکن اس معاملہ میں بھی مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل کے ایک بیان نے بے یقینی پیدا کی اور اپوزیشن کی صفوں میں انتشار کو واضح کیا تھا۔  مولانا فضل الرحمان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے  ابتدائی طور سے پیدا ہونے والے اختلاف کو بڑھاوا دینے کی  بجائے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ذریعے  جمعہ کو جلسہ کرنے کا اعلان کرکے معاملہ کو سنبھال لیا۔

اپوزیشن   عمران خان سے استعفیٰ کے سوال پر تو  متفق ہے  لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی پر  اتفاق رائے موجود نہیں  ہے۔ مولانا فضل الرحمان  ایک بڑا ہجوم جمع کرنے کے بعد اسے دھرنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا جاسکے۔  مسلم لیگ (ن) اور   پیپلز پارٹی  دھرنے کے  خلاف ہیں اور براہ راست فوج  پر تنقید سے بھی گریز کرنا چاہتی ہیں۔ اس وقت فریقین  مجبوری میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مولانا اس احتجاج کو قومی مطالبہ بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں ، اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں  ان کی حمایت کرتی رہیں۔  دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت  نے  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ متعدد لیڈر نیب کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جن میں  آصف زرداری، نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔   اس لئے  دونوں پارٹیوں کے لیڈر  بھی آزادی مارچ کے اسٹیج سے تقرریریں کر نے اور عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے پر مجبور تھے۔

مبصرین کے لئے سب سے اہم سوال اب یہی ہے کہ اس کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے  بے شمار پیشین گوئیاں کی جاچکی  ہیں تاہم اب  ہجوم  جمع بھی ہوگیا، آزادی مارچ کے جلوس پرامن بھی رہے اور کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر  اسلام آباد میں پہنچنے میں کامیاب بھی ہوگئے۔  یہ مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام  کی بڑی سیاسی کامیابی ہے۔ لیکن اس کامیابی کا پھل ملنے  کے امکانات بدستور معدوم ہیں۔ عمران خان    نہ صرف استعفیٰ دینے سے انکار کررہے ہیں بلکہ آج ہی انہوں  نے  گلگت میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر ذاتی حملے کئے اور کہا  کہ ’ان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو پاکستان کے  خلاف سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ  جو بھی ہوجائے وہ کسی کو این آار او نہیں دیں گے۔

آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے تک یہ اندازے قائم کئے جارہے تھے کہ  عمران خان سیاسی تنہائی میں خفت مٹانے کے لئے این آر او کی بات کرتے ہیں۔   حکومت کی غلطیوں ، معاشی ناکامیوں، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ سے تنگ آئے ہوئے لوگ عمران خان کی حکومت سے  عاجز آچکے ہیں۔ اس طرح ان کے استعفیٰ کی بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عوام کی ترجمانی کررہے  ہیں۔ ایسی صورت میں کسی مرحلہ پر  عمران خان کو خود  این آر او کی ضرورت پڑنے والی ہے۔   این آر او یا سابقہ جرائم سے  معافی کی باتیں خواہ عمران خان کریں یا اپوزیشن  کی طرف سے اس کا ذکر ہو،  ان کی حیثیت سیاسی نعرہ سے زیادہ نہیں ہے۔ سابقہ حکمرانوں کے خلاف اگر کرپشن کے الزام میں معاملات آگے بڑھیں گے تو اس کا اہتمام نیب اور عدالتیں کریں گی جن پر حکومت کا بظاہر کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح  عمران خان سیاسی طور سے  دیوار سے لگنے کی صورت میں اگر کسی رعایت کے خواہاں  ہوتے  ہیں تو وہ پارلیمنٹ میں سیاسی  مفاہمت  ہی کوئی صورت ہوسکتی ہے جسے بہر حال این آر او نہیں کہا جاسکتا۔

سیاسی تصادم کی موجودہ صورت  میں  اپوزیشن لیڈروں کے علاوہ عمران خان خود  تلخ اور اشتعال انگیز باتیں کرنے  میں مصروف ہیں اور ان کے وزرا مولانا فضل الرحمان  کے احتجاج کو بھارت نوازی  کے مماثل قرار دے رہے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف سے کسی سیاسی مفاہمت   کے امکانات کو مسترد کیا جارہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ  نے ہمیشہ واضح کردار ادا کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل  میجر جنرل آصف غفور  کے ’وضاحتی‘ بیان کے باوجود اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کا  مفہوم یہی ہے کہ موجودہ حکومت کو فوج نے ملک پر مسلط کیا ہے۔ عمران خان خود بھی   یہ بتانے میں فخر محسوس  کرتے ہیں کہ  فوج ان کی پشت پر ہے لہذا کوئی احتجاج یا اپوزیشن لیڈروں کے الزامات ان کی حکومت کے لئے خطرہ  نہیں ہیں۔ اس لئے  یہ قیاس کرنا غلط نہیں ہونا چاہئے  کہ موجودہ صورت حال میں فوج  کا کردار ہی فیصلہ کن  ہوگا۔

اس حوالے سے اس زمینی حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں  ہے کہ چھوٹی پارٹیوں یا آزاد ارکان  کو  کسی  حکومت کی تائد پر آمادہ کرنا  سہل ہے۔ لیکن  دارالحکومت میں جمع ہوجانے والے ایک  مشتعل ہجوم سے  نبردآزما ہونا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے  احتجاج کی قیادت کرنے والے لوگوں کے کچھ مطالبات مان کر انہیں مفاہمت پر راضی کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت یہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو کیا فوج اسے مفاہمت  کرنے اور کسی حد تک سیاسی پسپائی قبول کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے؟

  یا اگر فوجی ترجمان کے اس بیان کو    بنیاد بنایا جائے  کہ ’ ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔ فوج نےالیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی‘۔  تو کیا اسلام آباد میں جمع ہونے والے لوگوں کی کسی غیر قانونی نقل و حرکت یا اشتعال انگیز اقدام سے نمٹنے کے لئے فوج حکومت کے حکم پر مسلح کارروائی کرنے پر تیار ہوجائے گی؟ اسی سوال کا جواب  دینا آسان نہیں ہوسکتا۔ ماضی میں متعدد بار فوج سویلین اجتماع پر بزور قابو پانے سے انکار کرچکی ہے۔ تو کیا اس بار  ایسی صورت میں حکومت کی خواہش پر فوجی دستے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے بھیجے جائیں گے؟ عام طور سے یہ مانا جارہا ہے کہ فوج کسی حکومت کی تائد میں اس حد تک جانے  پر  تیار نہیں ہوگی۔

اس صورت حال میں البتہ شہباز شریف کے خطاب میں کی گئی باتیں دلچسپ  اور  معنی خیز ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اداروں سے عمران خان کو مکمل حمایت دینے کا گلہ کیا   اور کہا کہ اگر اپوزیشن (مسلم لیگ نون پڑھا جائے) کو اس کی دس فیصد حمایت بھی دی جاتی تو ملکی معیشت بہت بہتر ہوتی۔   انہوں نے وزیر اعظم  بننے کی صورت میں 6 ماہ کے اندر معیشت  بحال کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔   شہباز شریف نے   ان ہاؤس تبدیلی یعنی پارلیمنٹ  کے اندر  وزیر اعظم کی تبدیلی کا اشارہ   دیا ہے۔ سوچنا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان  نے آزادی مارچ  کے نام پر یہ ہجوم کیا  شہباز شریف کی درخواست برائے وزارت  عظمیٰ    کی سفارش   کے لئے  جمع کیا ہے؟

loading...