خانہ جنگی کا طبل

ہم عجیب اکھڑ   اور دہقان مزاج لوگ ہیں جن کے نزدیک گھونسہ رب سے زیادہ طاقت ور ہے ۔ ہمارے یہاں بھینس عقل سے بڑی ہے کیونکہ ہماری اصل دولت ہمارے مویشی ہیں جن کے ساتھ رہتے رہتے ہم اُن کی صحبت کے اتنے دلدادہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی انسانی فطرت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں اور  اپنے ڈھوروں ڈنگروں کے ہم مزاج بن جاتے ہیں ۔

ملک میں یونی ورسٹیوں اور دینی مدارس کا جال بچھا ہے مگر ہمیں علم سے ہمیں خُدا واسطے کا بیر ہے ۔ ہم علم سے زیادہ ڈنڈے پر تکیہ کرتے ہیں ۔اور گا گا کر بچوں کو ڈراتے ہیں کہ ڈنڈا پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا ۔ اُنہیں بتاتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ یہ سوچ ہماری خانگی زندگی سے نکل کر مذہب میں بھی جا گزیں ہے اور ہم نے فارمولا ایجاد کیا ہے کہ :

چار کتاباں عرشوں اُتریاں پنجواں اُتریا ڈندا

اس ڈنڈے کی طاقت نے بہت سی کہانیاں لکھی ہیں ۔ ایک کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک تھے چودھری صاحب ، اُن کے دو بیٹے تھے ، کسی نے اُنہیں مشورہ دیا کہ اپنے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرو کیونکہ علم بڑی دولت ہے ۔ چودھری صاحب نے مشورہ مان لیا ۔ بچے لاہور کے اسلامیہ کالج سے گریجوایٹ ہوئے اور اے جی آفس میں کلرک بھرتی ہو گئے ۔دریں اثنا چودھری صاحب کی اپنے حریفوں سے لڑائی ہو گئی اور شریکوں نے چودھری صاحب کی ڈانگوں سوٹوں سے تواضع کی اور وہ بازو تڑوا بیٹھے ۔ انتہائی پریشانی کے عالم میں اُنہوں نے دونوں بیٹوں کو بلوا بھیجا ۔ جب وہ لاہور سے گاؤں پہنچے تو چودھری صاحب نے داد فریاد کے لہجے میں شریکوں کی واردات سے اُنہیں آگاہ کیا تو دونوں پڑھے لکھے نوجوان آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ فلاٖں فلاں وکیلوں سے ان کی یاد اللہ ہے جس کی مدد سے شریکوں کے خلاف عدالتی کاروائی کی جائے گی۔ یہ سُن کر چودھری صاحب کوٹھے پر جا چڑھے اور رو رو کر فریاد کر نے لگے کہ اے لوگو! میرے دو پڑھے لکھے لے جاؤ اور مجھے ایک ان پڑھ دے جاؤ ، اگر یہ ان پڑھ ہوتے تو اب تک ڈانگوں سوٹوں سے میرا بدلہ لے چکے ہوتے مگر یہ تو قانون کی مار مارنے کی بزدلانہ باتیں کر رہے ہیں ۔

ہم پاکستانی مزاجاً اُنہیں چودھری صاحب کی شریعت پر ہیں اور قانون کے بجائے ڈنڈے پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ جو آزادی مارچ کے نام پر سڑکوں پر نکل آئے ہیں ، ڈنڈوں سوٹوں سے اپنے سیاسی شریک کو اُس گھر تک پہنچانا چاہتے ہیں جسے بُرے کا گھر کہتے ہیں ۔ ہمارے یہاں مذہب بھی  جو اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے اور نرمی ، حلیمی ، بردباری ، تحمل اور صلح و آشتی کی تعلیم دیتا ہے ، اپنی روحانی اقدار کو بھلا کر ڈنڈوں سوٹوں پر اُترا آیا ہے ، چاروں آسمانی  کتابیں پیچھے رہ گئی ہیں اور ڈندا بردار دستے سڑکوں پر خانہ جنگی کا طبل بجا رہے ہیں ۔

 یہ صورتِ حال ہماری معاشرتی زندگی کے لیے زہرِ قاتل ہے ۔ہمارے سیاست دان ، صحافی ، اینکر اور  سوشل میڈیا کے مبلغین جس طرح  ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے ہیں ، ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے ہیں ، ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارتے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دشنام طرازی بھی کرتے ہیں اور رقیبوں کا گلہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ :

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا کر یہ تھانے میں

کہ اکبر نام لیتا ہے خُدا کا اس زمانے میں

کوئی کسی کو یہودی ایجنٹ کہتا ہے ، تو دوسرا جواباً اُسے ڈیزل کہتا ہے جس پر ڈیزل نوازوں کو اپنی بے عزتی کا احساس ہوتا ہے اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ :

سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سُن کر دعائیں دیں

مگر ہمارے علما کو گالی کا جواب دعا سے دنیا نہیں آتا بلکہ اس کے بر عکس وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے تذلیل سے نوازے۔ اُن کے پاس وہ فراست بھی نہیں جن کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں کچھ یوں آیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے مگر اللہ کے نور سے دیکھنے والا مومن خود اپنے ہی ملک کی حکومت کے خلاف خانہ جنگی کا طبل بجا رہا ہے اور جواباً حکومت کے بھانت بھانت کے ترجمان اپنے لا یعنی بیانات سے کنفیوژن کا کیچڑ مسلسل اچھالتے رہتے ہیں ۔ کیا یہی ہے مدینے کی ریاست کا سماجی فارمولا جو پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی طرف راست اقدام ہے ؟

 حیرت ہے کہ ایک طرف علماء ہیں ، دوسری طرف سابق وزرا اور قانون ساز اداروں کے دانشور ہیں لیکن فریقین ایک جیسی نازیبا زبان بولتے ہیں اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ بلاس فیمی ہے ۔ بد قسمتی سے بلاس فیمی ایک ہتھیار  بن گیاہے جس سے مذہبی حلقے اپنے حریفوں کو توہینِ رسالت کے گھاٹ اتارتے رہتے ہیں ، ان کے اس طرزِ عمل سے معاشرے کے تاروپود سے رحمت اللعالمینی کی مہک نہیں آتی ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، عقیدت اور پیروی کا دم بھرنے والے اتنے بد اخلاق کیوں ہیں ۔ ایسے لوگوں کو کتاب اللہ میں ظالم کے درجے پر فائز کیا گیا ہے ۔ کتاب اللہ کہتی ہے:

مومنو! کوئی قوم کسی قوم کی ہنسی نہ اُڑائے ممکن ہے کہ وہ لوگ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ، ممکن ہے وہ اُن سے اچھی ہوں ۔ اور اپنے مومن بھائی کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا بُرا نام رکھو ۔ ایمان لانے کے بعد بُرا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم لوگ ہیں ۔

( سورہ الحجرات)

سنا حکمرانی کے بدزبانو اور حزب ِ اختلاف کے دریدہ دہنو!

 آخر تم کس طرح کے مسلمان ہو ؟

میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم ظالموں کو  ظلم سے باز رکھے اور ہدایت دے ۔اور تمہیں ڈنڈے سوٹے کی سیاست  اور گالی گلوچ کے حمامِ باگرد سےنکال کر باہمی مشورے کی راہ پر ڈال دے تاکہ عام پاکستانیوں کو سکھ کا سانس ملے۔  

loading...