تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

مذہب کے نام پر سیاست کرنا قدیم سے ہی حکمرانوں ، مطلق العنان بادشاہوں اور جدید ریاستوں کے سیاستدانوں کا منافع بخش کاروبار رہا ہے اور یہ کاروبار تب سے ایک مقدس ادارہ بن گیا ہے جب سے اعلانِ بالفور کے ذریعے یہودی ریاست کے قیام کی مہم شروع ہوئی اور ادھر برِ صغیر میں پاکستان بنایا گیا ۔

 یہودیوں کی بات یہودی جانیں کیونکہ ہمیں اپنے گھر کی خبر رکھنی ہے اور ہمارا پیارا پاکستان جو قائداعظم کی رحلت کے ساتھ ہی یتیم ہوگیا تھا ، اب تک یتیم خانے میں ہے اور المیہ یہ ہے کہ یتیم خانے کے مہتمم اور عملہ بہت ظالم ہے جو یتیموں سے سوتیلی ماں کا سا سلوک کرتا ہے ، مارتا پیٹتا اور بالجبر یتیموں کو اپنے پنجہ استبداد میں رکھتا ہے  ۔ ان دنوں پھر اسلام ایک سیاسی دھرنے کا نشانہ بننے کو ہے اور دھرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی پرچیوں پر تحفظِ ناموسِ رسالت لکھا ہوا ہے ۔ ماشا اللہ ، یہ مونہہ اور ناموس کی دال ۔

سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں نبی کریم صلہ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل نہیں کیا جاتا ، اُس معاشرے میں تحفظِ ناموس کی بات کرنے والے عقل کے ناخُن کیوں نہیں لیتے ۔ کیا میں اُن سے چند سوال کر سکتا ہوں؟

۱ ۔ الراشی والمرتشی فی النار ۔ رشوت کا لین دین جہنم کا کاروبار ہے جو ہمارے معاشرے میں بہت مقبولِ عام ہے ۔ تو کیا  رشوت کا لین دین کرنے والے ناموسِ رسالت کے محافظ بن سکتے ہیں؟

۲۔ نبی ئ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملاوٹ کرنے والا میری اُمت میں سے نہیں لیکن وہ لوگ جو دن رات اشیائ و ادویات میں ملاوٹ کرتے ہین ، کس مونہہ سے تحفظِ ناموس کی بات کرتے ہیں؟

۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خُدا کی قسم وہ مومن نہ ہوگا جس کے ہاتھ  اورزبان سے اس کا مسلمان بھائی محفوظ نہیں ۔اور یہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دینے ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے وہ کس مونہہ سے تحفظِ ناموس کی بات کرتے ہیں ، اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اُن دریدہ دہنوں میں علمائ کہلوانے والے  پیش پیش ہیں ، جن کے ہاتھ اور زبان سے اُن کے مسلمان کہلوانے والے حریف محفوظ نہیں ہے ۔

۴ ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیے پسند کرو لیکن یہاں اہلِ اقتدار و نصاب اپنے لیے راحتیں اور آسائشیں پسند کرتے ہیں اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو مصیبتوں اور مشکلوں میں مبتلا رکھتے ہیں ۔ تو ایسے لوگ کس مونہہ سےناموسِ رسالتؐ کے تحفط کی بات کرتے ہیں ۔

۵ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حضور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آخرت میں اُنہیں مسکینوں کے ساتھ اُٹھانا مگر یہ دنیا دار سیاسی ، مذہبی ، عسکری اور میڈیا وڈیرے جنہوں نے  دوبئی اور لندن کی جنتوں میں محلات تعمیر کر رکھے ہیں ، آخرت میں کس کے ساتھ ہوں گے ۔

ہمارے یہاں کوالی فائیڈ مسلمان ناپید ہے ۔ کوالی فائیڈ مسلمان کون؟ وہ جو لما تقولون ما لا تفعلون کی جیتی جاگتی تصویر ہوتا ہے ۔ وہ ایسی کوئی بات نہیں کہتا جس پر وہ عمل پیرا نہ ہو ۔ عمل کو قول پر فضیلت ہے ۔ بابا نور والے علیہ رحمت نے فرمایا کہ (یا ایھا المزمل ! اے چادر اوڑھنے والے )

آپ ؐ نے  چادر پہلے اوڑھ رکھی تھی آیت بعد میں اُتری ۔ تو جس قول یا بات کی عملی گواہی موجود نہ ہو وہ قول ایک جھوٹ ہوتا ہے خواہ وہ خُدا کے نام پر ہی کیوں نہ بولا گیا ہو ۔ ہمارے یہاں تقریروں ، تفسیروں ، خطبوں اور مجلسوں کا اسلام ہے جو مسجد اور جلسہ گاہ سے باہر اعمال کی دنیا میں موجود ہی نہیں ہے ۔

علمائے دین کا معاشرے میں اصل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کو دین سکھا کر صادق اور امین بننے کی عمل تعلیم دیں ۔ اس کی گواہی اقبال نے یوں رقم کی ہے :

شیخِ مکتب ہے اِک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے سچے اور با عمل مسلمان تعمیر کرنا علما اور مذہبی اساتذہ کی ذمہ داری ہے جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ تعلیم سے معاشرے کو تغیر آشنا کریں ۔ فرد کو بدلیں ۔ جب فرد اپنی جگہ بدل جائے تو معاشرہ اپنے آپ بدل جاتا ہے اور قرآنِ حکیم نے ( لا یغیر ما بقوم) کے نقطے میں اس بات کو واضح کردیا ہے مگر ہمارے علما تعلیم کے بجائے سیاست سے تبدیلی لانے کے در پے ہیں یعنی :

جلالِ (علم و دانش) ہو کہ جمہوری تماشا ہو

طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

ہمارا المیہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں نے اپنی الگ سیاسی جماعتیں بنا کر معاشرے کو مزید تقسیم کردیا ہے اور یہ تقسیم در تقسیم ملت کی وحدت کو مسلسل پارہ کرتی چلی جا رہی ہے ۔ اس باب میں مولانا جلال الدین رومی بے اختیار یاد آتے ہیں :

تو برائے وصل کردن آمدی

نے برائے فصل کردن آمدی

تجھے تو مخلوق کو آپس میں ملانے کے لیے بھیجا گیا ہے ، اُن کو گروہوں اور ٹُکڑوں میں بانٹنے کے لیے نہیں مگر ہم کیا اور ہماری اوقات کیا ۔ اگر مولانا فضل الرحمان اور دیگر مذہبی قسم کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں مومن کی فراست ہوتی تو وہ اپنے دینی علم وفراست سے موجودہ قومی قضیے کا حل پیش کرتے ، ناخُن سے پربت کاٹتے لیکن عمران خان کی تقلید میں دھرنا نہ کرتے مگر خُداجانے وہ مومن کہاں ہے جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :

مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ کہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ تو کہاں ہے وہ مومن ؟

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

loading...