میلہ ہاؤس میں سارنگی کی نیرنگیاں

خُدا کی کائنات سازو آواز کی ویڈیو فلم ہے۔ رب نے طرح طرح کے ساز ایجاد کیے ہیں جن میں پپیہا ، چریا ، بُلبُل اور کوئل سے لے کر مُرغ تک بے شمار پنچھی ہیں جو گانے اور پر پھڑپھڑانے والوں کے طائفے میں شامل ہیں ۔ راگ رنگ کے اس فطری آرکسٹرا کے اور بھی فن کار ہیں جن میں سے چند ایک کو اس تحریر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

شیر کی دہاڑ ، ہاتھی کی چنگھاڑ ، گدھے کا ڈھنیچوں اور گھوڑے کی ہنہناہٹ تک راگوں کی ابجد ہیں ۔ اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے انسان کے گلے میں وہ ساز نصب کیا ہے جو تمام سازوں کا معدن ہے ۔ چنانچہ خاکزادے نے اپنے اردگرد بکھرے روشنی کے سات رنگوں کی تعداد کے مطابق سات سُر اخذ کیے اور اس کے اظہار کے ساترنگی بنائی جو اب سارنگی کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ اس ساز کی خوبی یہ ہے کہ یہ انسانی آواز سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔  جمعے کی شام کو جب میلہ ہاؤس کے کنسرٹ حال میں خالد سلیمی سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ سارنگی بطور ساز اب معدوم ہوتا چلا جا رہا ہے ، تو میں نے سوچا کہ جب انسان سے اُنس منہا ہو جائے تو روبٹ وجود میں آتے ہیں جو انسان کو معاشرے سے   نکال باہر کرتے ہیں ۔ چونکہ اس مشینی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی کا راج ہے ،تبدیلی بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہے ۔ نئی چیزوں کی ایجاد نے پرانی چیزوں کو گردش سے نکال دیا ہے لیکن انسان اور سارنگی کا رشتہ ایسا ہے جو بہر حال قائم ہے اور رہے گا کیونکہ روبٹوں کی دنیا میں انسان اور سارنگی آثارِ قدیمہ کی طرح زندگی کے عجائب گھر میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے ۔

سارنگی جنوبی ایشیا کا ساز ہے ۔ اس کے نام کی مختلف توجیہات موجود ہیں لیکن جو بات میری سمجھ میں آئی وہی کہی ہے ۔ میں نے اپنے بچپن میں جس کا آغاز غیرمنقسم ہندوستان میں ہوا ، سارنگی کو میلوں ٹھیلوں ، مزاروں اور عرسوں پر بجتے دیکھا اور جب کچھ عرصہ کے لیے فلمی صحافت سے فلرٹ کرنے کا موقعہ ملا تو ہیرا منڈی میں کوٹھوں پر سارنگی اور گھنگرو کی سنگت بھی دیکھی ۔ کراچی میں ریڈیو پروگراموں میں شرکت کا موقعہ ملا تو اُس وقت کے معروف سارنگی نواز اُستاد نتھو خان کی زیارت کا موقعہ ملا اور پھر ایک ماہنامے کے لیے اُن کا انٹرویو کیا ۔ اور کل شام جب میلہ ہاؤس میں بھارت اور نیپال کے دو سارنگی نوازوں کو ایک ساتھ سارنگی چھیڑتے اور دھنیں بکھیرتے دیکھا تو بیتا ہوا زمانہ میلہ  ہاؤس میں سمٹتا محسوس ہو ا ۔

 شیام نیپالی کھٹمنڈو کے انتہائی کہنہ مشق فنکار ہیں جو اس فن میں اپنے والد کے جانشین ہیں  اور کمال صابری نے جو مراد آباد کے لیجنڈری گھرانے کے جوہرِ قابل ہیں سارنگی نوازی کا فن اپنے والد سے سیکھا اور اس عوامی ساز کو جو اب فراموشی کی منزل میں ہے ، بڑی محبت سے سنبھالے ہوئے ہیں اور راگوں کی اس کان سے سُروں کے خزانے نکالتے رہتے ہیں ۔ اس جشنِ سارنگی کا پہلا حصہ ایک سیمینار کا سا تھا جس میں اوسلو یونی ورسٹی کے میوزیکالوجی کے پروفیسر ہانس آؤنے نے جنوبی ایشیا کے ساز سارنگی پر اپنی تحقیق سے سامعین اور سیمنار کے شرکاء کو معلومات بہم پہنچائیں ۔ اس گفتگو میں موسیقی سے شغف رکھنے والوں نے بھی شرکت کی اور پروفیس ہانس اور سارنگی نوازوں سے سوالات بھی کیے ۔ اب یہ اچھی روایت ہے کہ برِ صغیر کے فنکار انگریزی بھی بولتے اور سمجھتے ہیں ، جس کی بنا پر نارویجین موسیقی پسندوں کو بھی شرکت کا بھرپور موقع ملتا ہے ۔ 

سیمینار میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محدود تھی کیونکہ موسیقی سننا اور بات ہے اور موسیقی پر گفتگو دوسری بات ۔ چنانچہ سامعین کو بحث میں شرکت کا بھرپور موقع ملا اور موسیقی پسندوں نے کمال دل چسپی سے محفل کو ایک تحقیقی مہم بنادیا ۔ سیمینار میں دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں جن میں سارنگی نوازوں کے نیپال اور بھارت میں مقبولیت کے گراف کے ساتھ سارنگی نوازی کی تاریخ اور معاشرے میں اس کی پذیرائی کا پورا منظر نامہ دیکھنے کو ملا ۔

میلہ ہاؤس اب اوسلو کا وہ کلچر ہاؤس بن چکا ہے جہاں روز ایک ہنگامہ برپا رہتا ہے اور ادب ، موسیقی اور آرٹ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی تقریب برپا رہتی ہے۔  سیمینار کے بعد کھانے کا وقفہ تھا جس میں سبزی خوروں اور گوشت خوروں کی تواضع کے لیے الگ الگ رول تھے ، یہ رول ایسا ہوتا ہے جسے توے کی پتلی روٹی پر سالن اور کباب رکھ کر اُس کو گول مول رول میں تبدیل کردیا جاتا ہے جسے کاغذ کے کوزے میں رکھ کر کھایا جاتا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کہ رول کو اردو یا پنجابی میں کیا کہیں گے مگر چونکہ ہم کریم رول سے واقف ہیں ، اس لیے کھانے کے اس نسبتاً آسان طریقے کو بغیر چون و چرا قبول کر لیتے ہیں ۔

کھانے کے وقفے کے بعد سات بجے سارنگی کے سُر دوبارہ بکھرنے تھے ، لیکن افسوس کہ میں اس محفل میں موجود نہ تھا لیکن سیمینار کا حصہ اتنا رنگ برنگا تھا کہ اس میں سارنگی پر شیام نیپالی اور کمال صابری کی دھنوں کے ساتھ سرور صابری کے طبلے کی تھاپ نے بھی اپنا رنگ خوب جمایا ۔

سارنگی کا ہمارے موسیقی پسند معاشرے میں ایک خاص مقام ہے ۔ ہم جو شادی بیاہ کے گیتوں ، ڈھولوں ، ماہیوں اور ٹپوں کی روایت کے لوگ ہیں سارنگی کو کہاں نہیں لے گئے ۔ سارنگی طوائف کے کوٹھے ، پیر کے مزار اور فلمی موسیقی کے منزلیں طے کرتی اور اوسلو کے میلہ ہاؤس تک آگئی ہے اور میلہ ہاؤس وہ جگہ ہے مشرقی اور مغربی اقدار روز گلے ملتی ہیں اور ملتی رہیں گی ۔ اس شہر کے عین وسط میں میلہ ہاؤس میرا پاک ٹی ہاؤس ہے جہاں جا کر بہت کچھ نیا دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے ۔

loading...