مولانا فضل الرحمان کا دھرنا سات روز بھی نہیں چلے گا: عمران خان

  • ہفتہ 19 / اکتوبر / 2019
  • 840

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے  آزادی مارچ  سے پریشان نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) ایک ہفتے کے لیے بھی دھرنا جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

حکومتی اداروں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز علما و مشائخ سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔  وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ علما بورڈ، پنجاب اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اراکین شامل تھے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ اجلاس مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاجی مارچ کے خلاف حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔  میں نے کئی احتجاج دیکھے ہیں اور یہاں تک کہ 126 روز تک جاری رہنے والے دھرنے کی قیادت بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا کہ استعفے سے پہلے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے پہلے استعفیٰ ضروری ہوگا تاکہ استعفے کے بعد کی صورت حال پر مذاکرات کیے جاسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو ملک بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے یوم سیاہ منائیں گے۔ اس روز ریلیاں نکالی جائیں گی۔ یوم سیاہ کے بعد کارکان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کریں گے۔

عمران خان نے کا کہنا ہے علما کا اجلاس مدینہ ریاست کے خد و خال پر بات کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ریاست مدینہ کے ماڈل پر پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اور یہی میری زندگی کا مقصد ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ سابق حکمرانوں کی طرح سیاسی مقاصد کے لیے اسلام کا نام استعمال نہیں کررہے‘۔ ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے علمائے کرام کا خاص کردار ہے۔ میں مذہبی علما سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں ان سے معاونت چاہی ہے تاکہ حکومت اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

عمران خان نے ملک کے دور دراز علاقوں اور معاشرے کے کمزور طبقوں میں تعلیم پھیلانے میں مدارس کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’نظام تعلیم اور نصاب میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس میں مذہبی علما کا تعاون انتہائی ضروری ہے‘۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ایران اور سعودی عرب کے دوروں سے متعلق بھی علما کو اعتماد میں لیا۔

loading...