کرد فوجیں نہ نکلیں تو آپریشن دوبارہ شروع کر دیں گے: اردوان

  • ہفتہ 19 / اکتوبر / 2019
  • 800

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اگر شمالی شام سے کرد فوجیں مقررہ وقت تک نہ نکلیں تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔

جمعہ کو استنبول مین ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ اگر منگل تک 'سیف زون' کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ترکی ایک بار پھر فوجی کارروائی شروع کر دے گا۔ جمعرات کو امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے دورہ ترکی کے دوران امریکہ اور ترکی نے پانچ روز کے لیے شمالی شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو منگل تک سیف زون سے نکلنے کی مہلت دی گئی تھی۔

صدر اردوان کا کہنا تھا کہ حفاظتی اقدامات کے لئے ترک فوج علاقے میں موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال فوج کو کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جنگ بندی کے باوجود عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی شام میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے نمائندے کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح بھی شمالی شام کے علاقے راس العین میں گولہ باری کی گئی۔

شام میں انسانی حقوق کے ادارے نے کہا ہے کہ ترک فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں راس العین کے علاقے باب الخیر میں پانچ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یورپی یونین نے امریکہ اور ترکی کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو نام نہاد اور ناقص قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاملے پر ترکی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ لہذٰا ترکی پر واضح کرتے ہیں کہ وہ شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف اپنی فوجی کارروائی مکمل طور پر روک دے۔

ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ اس  نام نہاد جنگ بندی معاہدہ سے  درحقیقت کرد جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترکی پر زور دیتے ہیں کہ مستقل جنگ بندی کرتے ہوئے اپنی فوج اس علاقے سے نکالے۔ فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون نے بھی ترکی کی شمالی شام میں فوجی کارروائی کو 'پاگل پن' قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ نیٹو الائنس ترکی کو اس اقدام سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ خیال رہے کہ ترکی بھی نیٹو الائنس کا حصہ ہے۔

ترکی نے نو اکتوبر کو شمالی شام میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ترکی شمالی شام کے 32 کلومیٹر کے علاقے میں کرد اور وائی پی جی جنگجوؤں کا خاتمہ چاہتا ہے۔ جو اس کے نزدیک ترکی کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ترکی ان جنگجو گروہوں کو کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ سمجھتا ہے جو ترکی میں کردستان کے نام سے الگ ریاست قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

ترکی اس 'سیف زون' میں ان 35 لاکھ شامی مہاجرین کو بھی آباد کرنا چاہتا ہے جو شام میں جنگ کے باعث پناہ کے لیے ترکی آگئے  ہیں۔ ترکی کے صدر نے جمعے کو واضح کیا ہے کہ یہ سیف زون شمالی شام میں 444 کلو میٹر علاقے پر بنائی جائے گی۔ صدر اردوان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے روس کے صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات میں موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

loading...