آمریت مزاج پاکستانی

آمریت آکاش بیل ہے جو معاشرت کی بیری کا لہو پی جاتی ہے ۔ یہ معاشرے کی نچلی تہوں میں انفرادی سے اجتماعی سطح پر پروان چڑھتی ہے اور بالآخربالائی صفوں میں حکمرانی بن کر ظہور کرتی ہے ۔

اگرچہ اس کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے لیکن ہم اسے ہمیشہ فوجی آمریت سے شناخت کرتے ہیں اور وہ اس لیے کہ ہمارے ملک  میں مارشل لاؤں نے ہمارے سول آمروں کو اپنے سامنے گھٹنے ٹِکوائے ۔ پھر اُن کے لیے مسلم لیگ نام کی جیلیں بنوائیں جن میں اُنہیں قید کردیا جسے وہ اپنی آزادی سمجھتے رہے ۔ یہ آزادی ریچھ یا بندر کی آزادی جیسی ہے جو اپنے قلندر کی رسی میں خود کو شاہین سمجھتے ہیں ۔

ایک آمریت پرولتاری ہوتی ہے جس میں کمیونسٹ ہارٹی کے ذریعے محنت کش طبقے کی آمریت کا سکہ چلتا ہے مگر یہ آمریت ہے کیا بلا ؟ اس کی سیاسی اور علمی تعریف کیا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ آمریت میں فردِ واحد ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے ۔ وہ مطلق العنان ہوتا ہے اور اُس کے مونہہ سے نکلی ہوئی بات حکم کا درجہ رکھتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی معاشرہ مکمل طور پر فردِ واحد کے کاشن پر ڈرل کر سکتا ہے؟ نہیں یہ بات تو خُدا کے معاملے میں بھی درست نہیں کیونکہ خُدا نے جو احکامات اپنی کتابوں میں اُتارے ہیں ، لوگ اُن کی تفسیریں اور تاویلیں کر کر کے اصل احکامات کو یا تو رد کرتے ہیں یا اپنی سمجھ بوجھ اور عصری مفادات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔

جدید ریاست میں حکمرانی پر مسلط شخص کے احکامات کا اطلاق براہِ راست نہیں ہوتا بلکہ مُختلف ملکی اداروں ، اُن کے سربراہوں ، عہدیداروں اور عملے کے ذریعے ہوتا ہے جو اپنی تعمیل میں آمر کا حُکم نہیں رہتا بلکہ متعلقہ ادارے کا حکم بن کر نافذ ہوتا ہے ، جیسے امریکہ کے معاملے میں ہوتا ہے کہ امریکی آمر کے احکامات  ، جسے جمہوری صدر کہا جاتا ہے، سی آئی اے اور پینٹاگان کے ذریعے نافذ ہوتے ہیں اور موجودہ بھارت کے بد ترین آمر نریندر مودی اپنی وردی پوش رسمی فوج اور آر ایس ایس کے ذریعے اپنی آمریت نافذ کر رہے ہیں ۔

ہم پاکستانیوں کا المیہ بھی کوئی الگ نوعیت کا نہیں کیونکہ ہم آمرانہ مزاج کے حامل لوگ ہیں ۔ ہمارے ہاں جاگیرداری نظام میں گاؤں کا چودھری لوکل آمر ہوتا ہے اور وہ ملکی آمر کے احکامات کو من و عن نہیں بلکہ اپنے مقامی مفادات کے مطابق نافذ کرتا ہے ۔  چنانچہ معاشرے میں طاقت کے جتنے بھی مراکز ہوتے ہیں وہ آمر کے نام پر اپنی نجی آمریت نافذ کرتے ہیں ۔ یہی ہمارے پدر سری خاندانی نظام میں ہوتا ہے کہ گھر میں دادا ابو یا ابا جی یا شاذ صورتوں میں کوئی سخت مزاج دادی یا نانی خاندان کی آمر بن کر برسرِ اقتدار ہوتی ہے اور افرادِ خاندان کو اپنے احکامات کے تابع رکھتی ہے ۔ بڑے شہروں میں محلے کا بد معاش محلے کا ڈکٹیٹر ہوتا ہے جو ہر شخص پر اپنا حُکم چلاتا ہے ۔

 آمریت کی بعض صورتوں میں سیاسی بد معاش بھتہ نافذ کرتے ہیں جو معاشرے کے دولت مندوں اور متمول لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کردیتا ہے ۔پولیس کا محکمہ ، افسر شاہی ، عدلیہ اور مذہبی کریسی کی اپنی اپنی آمریت ہوتی ہے جو اپنی اپنی آمرانہ روش کے ذریعے بعض اوقات حکومت کی رِٹ کے لیے بھی چیلنج بن جاتے ہیں جیسا کہ اس وقت مذہبی مکاتب کے دھرنے کے خطرے  کی صورت میں پاکستان کو درپیش ہے ۔ سماجی آمریت کی یہ صورت سماجی آمریت کہلا سکتی ہے جو ایک ذہنی بیماری ہوتی ہے ۔ اس بیماری میں زندگی کا ہر شعبہ آمریت کی زد میں آ جاتا ہے ، یہاں تک کہ یاری دوستی اور رشتہ داری تک محفوط نہیں رہتی ۔ اس کیفیت کو پنجابی کی ایک کہاوت میں بیان کیا گیا ہے جو کچھ یوں ہے : ڈاڈھیاں دا ستّیں ویہیں سو ہوندا ہے یعنی طاقت ور کے ہاں ایک سو بیس کا سو ہوتا ہے ۔

 اور جہاں ایسی صورتِ حال ہو وہاں ہر صاحبِ ثروت و جاہ و حشمت آمرانہ روش رکھتا ہے ، قتل کا حکم دیتا ہے اور بھتہ وصول کرتا ہےجس میں تصادم کی کیفیت لازمی ہو جاتی ہے جیسے سکندر کے حملے کو روکنا پورس کی مجبوری بن جاتی ہے اور تاریخ سکندر کو ہیرو اور پورس کو زیرو قرار دیتی ہے۔ کیونکہ طاقت کے پجاری کا یہی دستور ہوتا ہے ۔ چنانچہ طاقت پوجا آمریت کی روایت کی بنیاد بن جاتی ہے ۔

یہ صورتِ حال اُس وقت اور بھی دل چسپ ہو جاتی ہے جب آمریت کی گود کے پلے مفادات کی آگ میں جلنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کو آمر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب دو طرفہ الزامات درست ہوتے ہیں ۔ مگر یہ لوگ اپنے آمرانہ کلچر کے رنگ میں اس قدر رنگے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اپنے آپ کو درست کرنے کی نہیں سوچتا کیونکہ یہ کج روی اور تیرہ مزاجی ان کی روش بن چکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا محاسبہ کرنے کی قوت سے محروم ہوچکے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی ذات کی برائیوں کو نہیں دیکھ پاتے ۔ وہ سب ایک دوسرے کی لُغت میں نابینا ہوتے ہیں اور وہاں رہتے ہیں جہاں بینائی اور بصارت کا سورج طلوع نہیں ہوتا ۔

 اس ضمن میں ایک قدیم حکایت جو غالباً  نصیحت الملوک میں رقم ہے ، یاد آ گئی ۔ اور یہ کہ ایک تھا بادشاہ ۔ اُس نے ایک دن اپنے وزیر با تدبیر سے پوچھا کہ میری سلطنت میں اندھے کتنے ہیں آنکھوں والے کتنے ، اس کی چھان بین کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔ وزیر موصوف نے یس سر کیا اور اگلے روز علی الصبح شہر کے مرکزی چوک میں ایک دیوار سے لگ کر گداگروں کی طرح بیٹھ رہا ۔ ہاتھ میں قلم اور کاغذ تھے ۔ لوگ آتے اور پوچھتے کہ  یہ کیا کر رہے ہو تو وہ پوچھنے والے کا نام  اندھوں کی فہرست میں لکھ لیتا ۔بادشاہ کو بھی خبر ہوئی  ، وہ بھی چوک میں پہنچا تو اس نے بھی پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو تو وزیر نے بادشاہ کا نام بھی اندھوں کی فہرست میں لکھ لیا ۔ اگلے دن اندھوں کی فہرست بادشاہ کی خدمت میں پیش ہوئی جس میں بادشاہ کا اپنا نام بھی درج تھا ۔  بادشاہ نے وزیر سے وضاحت طلب کی تو وہ بولا کہ اللہ بصیر ہے اور دیکھنا خُدا ئی صفت ہے اور جو دیکھ لیتے ہیں وہ پوچھتے نہیں کہ کیا کر رہے ہو اور تو اور وہ اپنی بے خبری اور جہالت تک کا  بھی علم نہیں رکھتے ۔

جو آمریت ہم پر مسلط ہوتی ہے وہ ہمارے اپنے مزاج کا پرتو ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ( اعمالکم ، عمالکم) تم پر تمہارے کرتوت حکمرانی کرتے ہیں ۔ چنانچہ آمریت مزاج لوگوں کے حکمران آمر ہوتے ہیں ۔ آمریت جو محبت کی متضاد ہے ایک قہر اور ایک زہر ہے جو انسانی ضمیر کو ہلاک کردیتی ہے ۔ ہم سب کا یہی حال ہے کہ ہم سب نہ صرف آنکھوں کے بلکہ عقل کے بھی اندھے ہیں جو خود اپنی آنکھ سے نہیں دوسرے کی آنکھ سے دیکھتے اور سنی سنائی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اُسے سچ جانتے ہیں ۔ ہمارے لیے قومی آمریت کی بات ایک سنی سنائی بات ہے جسے آمریت کے امیدوار لوگوں کے کانوں میں انڈیلتے رہتے ہیں تاکہ مستقبل کے لیے  اپنی آمریت کی راہ ہموار کر سکیں ۔ جب کہ اصل آمریت خود ہم اور ہمارا سماجی رویہ ہوتا ہے :

مرا مزاج لڑکپن سے آمرانہ ہے

کہ میرا دل کسی آمر کا آستانہ ہے

loading...