جاپان میں سمندری طوفان سے بڑے پیمانے پر تباہی، 14 افراد ہلاک

  • اتوار 13 / اکتوبر / 2019
  • 630

جاپان میں ملکی تاریخ کے سب سے طاقتور طوفان 'ہیگی بس' سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ طوفان سے 14 افراد ہلاک اور 99 زخمی ہوئے جبکہ ایک درجن سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ آٹھ لاکھ لوھ نقل مکانہ پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ہفتے کی صبح آنے والے طوفان کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے۔ اب بھی کئی علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد سیلاب زدہ علاقوں میں سے پھنسی ہوئی ہے۔ شہریوں کو محفوط مقامات پر منتقل کرنے کی امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اتوار کی صبح بتایا کہ دار الحکومت ٹوکیو سمیت کئی شہروں میں سیلابی صورت حال کا سامنا ہے جبکہ ملک کے متعدد شہروں اور علاقوں سے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔  طوفانی بارشوں کے سبب کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹ گئے ہیں۔ دکانیں، فیکٹریاں اور ریل گاڑی کا نظام بند کر دیا گیا ہے جبکہ رگبی ورلڈ کپ کے میچز اور فارمولا ون گرینڈ پری ریس منسوخ کر دی گئی۔

طوفان کے باعث اب تک 1500 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ 2 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں۔ حکومت کی جانب سے احتیاطی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ ساحلی علاقوں کے آٹھ لاکھ مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتنقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔  طوفان سے متعلق پیشگوئی کی جارہی ہے کہ یہ 1958 میں آنے والے طوفان سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور لاپتہ ہوگئے تھے۔

اتوار کی صبح تک طوفان کی شدت میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی تاہم وسطیٰ جاپان کے شہر ناگانو میں دریا پر قائم بند ٹوٹ گیا جس سے پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق رہائشی علاقے میں داخل ہونے والی پانی سطح دوسری منزل تک بلند ہے۔  جاپانی فوج  ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لوگوں کو بچا رہی ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹرز سے مدد لینے کے لیے بالکونیوں یا چھتوں پر کھڑے ہوکر ہوا میں تولیہ لہرائیں تاکہ ہیلی کاپٹرز آپ کی طرف متوجہ ہوسکے۔

طوفان 'ہیگی بس' جاپانی جزیرے ہونشو میں ہفتے کی صبح سات بجے آیا۔ طوفان کے وقت ہواؤں کی رفتار 134 میل فی گھنٹہ تھی۔  ہفتے کی رات تک طوفان نے زیادہ جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں لیکن اتوار کی صبح تک یہ تعداد بڑھ گئی۔  زیادہ تر اموات مٹی کے تودے گرنے اور گاڑیوں و مکانات کے پانی میں بہہ جانے کے سبب ہوئیں۔

جاپان کے محکمہ موسمیات نے پہلے ہی شدید ترین بارش اور طوفان کی پیش گوئی کی تھی۔ محکمے کا کہنا تھا کہ جس شدت کا طوفان ٹوکیو کی جانب بڑھ رہا ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

loading...