ایف اے ٹی ایف اجلاس: پاکستان کے بارے میں اہم فیصلہ ہوگا

  • اتوار 13 / اکتوبر / 2019
  • 560

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا ابتدائی اجلاس 13 سے 18 اکتوبر تک پیرس میں ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ مین ڈالنے کا فیصلہ بھی ہوگا۔

اجلاس مین شرکت کے لئے  وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستانی وفد اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  پیرس میں ہونے والے  اجلاس کے لیے پاکستان نے اپنی دستاویزات پیش کر دی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان سے منی لانڈرنگ سے متعلق مزید سوالات پوچھے گئے تھے۔ پاکستان پیرس اجلاس میں اس حوالے سے جواب پیش کرے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق اپنے جواب میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور تخریب کاروں کی معاونت کرنے والے اکاؤنٹس اور اثاثوں کے بارے میں تفصیلات کی وضاحت کی جائے گی۔ حماد اظہر کے علاوہ وفد میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور وزارت خارجہ کے ڈی جیز بھی شامل ہیں۔ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے ليے 12 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

اسلام آباد میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں منی لانڈرنگ کو روکا جائے۔ منی لانڈرنگ کو روکنے سے دنیا میں اچھا تاثر جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے جلد نکلنا چاہتے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کا گزشتہ اجلاس ستمبر میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے مؤثر انداز میں اپنا کیس پیش کیا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ رواں اجلاس میں ہوگا۔ گزشتہ اجلاس میں پاکستان نے مختلف معاملات پر پیش رفت سے متعلق ذیلی گروپ کو آگاہ کیا تھا جبکہ پاکستان نے اقدامات پر مبنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے بھی پاکستان کی اب تک کی کارکردگی پر اپنی رپورٹ جاری کی تھی جس میں اے پی جی کا کہنا ہےکہ پاکستان نے 40 سفارشات میں سے 36 پر کام کیا ہے، جن میں کچھ پر جزوی اور کچھ پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر بھی پاکستان کے حوالے سے فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔

پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ 18 اکتوبر سے پہلے کر لیا جائے گا۔

loading...