شام پر ترک حملہ کے بعد کردوں کی قید میں داعش جنگجوؤں کے بارے میں بے یقینی

  • اتوار 13 / اکتوبر / 2019
  • 670

شمالی شام میں ترکی کے حملوں کا سامنا کرنے والے کردوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے خلاف حملے جاری رہے تو وہ دولتِ اسلامیہ کے قیدیوں کی نگرانی کو ترجیح نہیں دیں گے۔

شدت پسند تنظیم  دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اس وقت کردوں کی نگرانی شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے قبضے میں ہیں۔ ترکی کی عسکری کارروائیاں بدھ کے روز شروع کی گئیں۔ شمال مشرقی شام میں ایس ڈی ایف کے زیرِ اثر علاقوں کو شدید زمینی اور فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف کم از کم 50 عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

ترکی کرد ملیشیا (ایس ڈی ایف) کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اس کے مطابق ان حملوں کا مقصد کردوں کو محفوظ زون سے 30 کلومیٹر دور بھگانا ہے۔ ترکی اس  شامی علاقے میں 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو بسانے کا ارادہ رکھتا ہے۔  سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کے مانیٹرنگ گروپ کے مطابق سنیچر کے روز شمالی شام میں ایک سڑک پر کیے گئے حملے میں نو شہری ہلاک ہو گئے جن میں ایک خاتون کرد سیاستدان بھی شامل تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ شمال مشرقی شام میں کرد انتظامیہ اس تعداد کو کئی گنا زیادہ بتاتی ہے۔  کرد انتظامیہ کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف عسکری کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے شمال مشرقی شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے نے ترکی کو سرحد پار سے حملہ کرنے کی موثر طور پر گرین لائٹ دی تھی۔ کردوں کی زیرِ قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اس خطے میں امریکہ کی اہم اتحادی ہیں۔

سینئر کرد عہدیدار ریدور جلیل کا کہنا تھا کہ شام کی سرحد پر ترکی کے ساتھ لڑائی کے باعث ایس ڈی ایف اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے حراستی مراکز کی نگرانی نہیں کر سکتی۔  ’دولتِ اسلامیہ کے قیدیوں کی نگرانی کرنا اب ہماری ترجیح نہیں ہے۔ جو بھی ان قیدیوں کی حراست کی پرواہ کرتا ہے وہ آکر حل نکالیں، ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔‘ ایس ڈی ایف کی افواج اپنے شہروں اور  لوگوں کی حفاظت کریں گی۔

اس دوران دولتِ اسلامیہ نے شام میں ایک نئی مہم کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد کردوں کی زیر انتظام جیلوں میں اپنے ممبران کی حراست کا بدلہ لینا ہے۔ ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی سات جیلوں میں دولتِ اسلامیہ کے 12000 سے زیادہ ممبران قید ہیں، جن میں کم از کم 4000 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ یہ قیدی جن مقامات پر قید ہیں اگرچہ ان کا انکشاف نہیں کیا گیا لیکن اطلاعات کے مطابق ان میں سے چند ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔

گزشتہ روز راس الاعین کے آس پاس ہونی والی جھڑپوں میں شدت پیدا ہوگئی۔  فریقین کی جانب سے سب سے اہم سرحدی شہر پر قبضے کے متضاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ راس العین پر قبضہ کر چکا ہے لیکن ایس ڈی ایف نے اس کی تردید کی ہے۔ راس العین اور قصبہ طل آبادی ترکی کے دو اہم اہداف میں شامل ہیں۔

ترکی کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرحد سے 30 کلومیٹر دور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سڑکوں اور درجن سے زیادہ دیہاتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایس ڈی ایف کو ترکی اور شام کی سرحد کے قریب 75 میل (120 کلو میٹر) لمبی سرحد پر ترکی کے زمینی اور فضائی حملوں کا سامنا ہے۔

ترکی پر عسکری کارروائیاں روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ حملے جاری رہیں گے۔  فرانس کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ترکی کو ہتھیاروں کی تمام برآمدات معطل کردے گا۔ اس سے قبل جرمنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ نیٹو اتحادی کو اپنے ہتھیاروں کی فروخت میں کمی لا رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی صدر اردوان کو ٹیلیفون پر متنبہ کیا تھا کہ ان کا آپریشن شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کردوں نے صدر ٹرمپ کے امریکی افواج کے انخلا کو وہ اپنے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ  ترکی اور کردوں کے دومیان ثالثی کی خواہش رکھتا ہے۔

پیرس، برلن سمیت متعدد یورپی شہروں میں ہزاروں افراد نے شام میں  ترک حملے کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔

loading...