جوہری مقابلہ کی بجائے امن کی بحالی پر توجہ دی جائے: جنرل زبیر محمود

  • جمعرات 10 / اکتوبر / 2019
  • 230

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور ہمارے علم میں ہے کہ بھارت جوہری معاملات میں خطرناک تبدیلیاں لا رہا ہے جس کے بارے میں مکمل طورپر آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان جوہری تبدیلیوں میں فورسز کی تعیناتی، بیلسٹک میزائل ڈیفنس کی تیاری اور ان کی تنصیب و اینٹی سیٹلائٹ ٹیسٹ شامل ہیں۔  جنرل زبیر محمود حیات نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پاس جواب دینے کے لیے بااعتماد تزویراتی حکمت عملی ہے جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو تمام ممکنہ اپشنز فراہم کرتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ امن کی بحالی پر توجہ دی جائے۔

رسالپور پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل زبیر محمود زبیر حیات نے کہا کہ ’ہندوتوا کی علمبردار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ  نے ناصرف بھارت میں اقلیتوں کے لیے حالات مشکل کردیے ہیں بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم پاکستان اور پورے خطے کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مقبوضہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ اس مسئلہ کو کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتے ہیں اور وادی میں 60 دن سے زائد جاری کرفیو اور مواصلات پر پابندی انسانی شعور کے لیے ناقابل یقین ہے اور انسانی حقوق کی خلاف کھلی وزری ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان، کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ کشمیر ہمارے خون میں دوڑتا ہے۔ پاکستان کشمیر ہے اور کشمیر پاکستان ہے۔ پاکستان نے پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف جانی اور مالی نقصان برداشت کیا۔ اگر امن کے لیے ہماری کاوشوں کو ہماری کمزوری سمجھا گیا تو قوم، ملکی سالمیت اور خود مختار ریاست کے مفاد پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ فوج کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے ہر محاذ پر تیار ہے۔  انہوں نے کہا کہ ’اگر ہاتھ ملایا جائے تو ہاتھ ملائیں گے لیکن آنکھیں دکھائی تو آنکھیں دکھائیں گے‘۔

loading...