امریکہ نے ترکی کو شام میں عسکری کارروائی کی اجازت نہیں دی: مائیک پومپیو

  • جمعرات 10 / اکتوبر / 2019
  • 240

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوجی کارروائی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ ترک فوج نے شام میں کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ترکی اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ترکی کی جانب سے کرد پیش مرگا فورسز پر حملوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’غلط اقدام‘ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی کو سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  خیال رہے کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے لیکن شامی کردوں کا کہنا ہے کہ حملے میں شہری علاقوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔  ترک وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ توپخانے اور فضائی کارروائی کے بعد اب زمینی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

ترکی کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ بند کرے۔  کرد پیش مرگا نے ترک فوج کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کارروائی کے آغاز کے بعد سے ان کی ترک فوج سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی ہے بالکل غلط ہیں۔

ترکی کی جانب سے کارروائی کے آغاز کے بعد بدھ کو ترک طیاروں کی جانب سے شام کے کئی دیہات اور قصبوں پر بمباری اور گولہ باری کی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کرد افواج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

ترک وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ترک فوج اور اس کے شامی اتحادی دریائے فرات کے مشرق کی جانب شامی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔  ترکوں کے حامی ایک گروہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا حملے کا آغاز تل ابیض نامی علاقے سے ہوا جو کرد پیش مرگا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ترک فوج کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ عسکری کارروائی کے دوران ’دہشت گردوں‘ کے 181 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ترک گولہ باری سے کوبانے اور قامشلی کے دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ آپریشن کے آغاز سے قبل  ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترک صدر نے کہا تھا کہ اس مشن کا مقصد ’جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کی راہداریاں بننے سے روکنا اور علاقے میں امن لانا ہے۔  انہوں نے شام کی علاقائی جغرافیائی سالمیت کو محفوظ کرنے اور اس کے مکینوں کو دہشت گردوں سے آزاد کروانے کا عزم ظاہر کیا۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ’ایک نام نہاد محفوظ علاقہ‘ پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے عالمی معیار پر پورا اترے۔ بیلجیئم، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور برطانیہ نے اس سلسلے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی دی ہے۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہو گا جبکہ عرب لیگ نے بھی 12 اکتوبر کو قاہرہ میں اس معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس ستولتن برگ نے کہا ہے کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں لیکن وہ پرامید ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی اقدام متناسب اور نپا تلا ہو۔

loading...