عمران خان کی سفارت اور مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں کشمیر ہی مظلوم ہے

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  نے ایک ہفتہ تک ’ڈٹے رہنے‘ کے بعد بالآخر یہ اعتراف کرلیا ہے کہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ منایا جائے اور حکومت کے خلاف آزادی مارچ  31 مارچ کو  ہوگا۔ اس روز  مولانا کے بقول  ملک بھر سے لاکھوں  مظاہرین اسلام آباد پر دھاوا بول دیں گے اور حکومت ان کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔

کشمیر کا معاملہ صرف  مولانا فضل الرحمان کے راستے کاپتھر ہی نہیں بنا   بلکہ  وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے دوران بھی کشمیر ہی ایجنڈے پر سر فہرست رہا  ہے۔ گو کہ  یہ دورہ  ، کشمیر کی آزادی یا  مقبوضہ وادی میں   بھارتی حکومت کے جبر و ستم کے لئے  سفارتی کوشش کا حصہ نہیں  تھا بلکہ  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی  ’نگرانی‘ میں وزیر اعظم چینی لیڈروں کو یہ یقین دلانے کے لئے بیجنگ گئے تھے کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں حائل تمام مشکلیں دور کردی جائیں گی  تاکہ  اس منصوبہ  پر دوبارہ معمول کے مطابق کام شروع ہوسکے۔ تحریک انصاف کے لیڈر  اقتدار میں آنے سے پہلے  سی پیک کے خلاف بیان  دیتے رہے تھے ۔ البتہ یہ امید کی جارہی تھی کہ   کوئی بھی پارٹی اسلام آباد میں حکومت قائم کرے، ملک کی معاشی ترقی کے  لئے ’گیم چینجر‘ کہلانے والے اس منصوبہ  میں رکاوٹ نہیں ڈال سکے گی۔ لیکن عمران خان کی کابینہ کے اہم ارکان نے اس بارے میں غلط فہمیاں  پیدا کیں  اور  سی  پیک کے متعدد منصوبوں  پر کام کی رفتار سست کردی گئی۔

عمران خان اگرچہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ چین کا دورہ کرچکے ہیں اور سی پیک کو جاری رکھنے  کے عزم کا  اظہار بھی کرتے رہے ہیں لیکن اس حوالے سے حکومت کے دعوؤں اور عملی اقدامات میں  فرق دیکھنے میں  آرہا تھا اور سی پیک کے حوالے سے سرمایہ کاری میں سست روی نوٹ کی گئی ہے۔  چینی صدر ژی جن پنگ کے  ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ میں  سی پیک کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے تحت  گوادر کی بندرگاہ کو چین کے صوبہ  سنکیانگ سے ملایا جائے گا۔ اس طرح چینی   مصنوعات کو  مشرق وسطی ٰ کے علاوہ یورپی منڈیوں تک پہنچنے میں   سہل اور  مختصر راستہ میسر آجائے گا۔ چین نے پاکستان کے علاوہ  اپنے صوبے سنکیانگ میں بھی  کثیر سرمایہ کاری کی ہے۔ 

سنکیانگ میں آباد  ایغور مسلمانوں  کو آزادی کا مطالبہ کرنے والی  ’مشرقی  ترکستان  اسلامی تحریک‘ کے اثرات سے بچانے  کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس تحریک کو 2002 میں اقوام متحدہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے پاکستان کے تعاون سے    قبائیلی علاقوں  میں اس تحریک کے حامیوں کو ختم کرنے کے لئے  اقدمات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ  سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں پر اپنے عقیدہ پر عملدرآمد  کے  حوالے سے  نت نئی  پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان میں سب سے جابرانہ اقدام  دس لاکھ ایغور مسلمانوں کو ’حراستی مراکز ‘  میں  بند کرنے کا فیصلہ  ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کیمپوں   کو مذہبی آزادی  کے خلاف اقدام قرار دیتی ہیں لیکن چین  انہیں مسلمانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کی تربیت گاہیں  کہتاہے۔ ایک روز پہلے ہی امریکہ  نے ایغور مسلمانوں کے خلاف  چینی حکومت کے استبداد میں تعاون کرنے والی 38 کمپنیوں  پر پابندی عائد کی ہے۔

گو  کہ   یہ امریکی پابندی  چین کے ایغور مسلمانوں کی اخلاقی و انسانی امداد کرنے کی بجائے وسیع تر امریکی سیاسی و معاشی مقاصد پورے کرنے کی کارروائی ہے لیکن اس سے یہ بات تو واضح ہوئی ہے کہ سنکیانگ کے مسلمان مشکل اور غیر انسانی حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ چین کا  لامذہب نظام  ویسے بھی مذہبی آزادی کو قبول نہیں کرتا لیکن سنکیانگ سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ کے حوالے سے بھی بے حد اہم ہو چکا ہے۔ اس لئے چینی حکومت وہاں کسی قسم کی بے چینی یا سیاسی انتشار برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔  اسی مقصد سے  ایک طرف اس علاقے کے مسلمانوں کو طاقت کے زور پر دبایا جارہا ہے تو دوسری طرف وہاں پر کثیر سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔

چین کے لئے  ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ جس قدر اہم  ہوچکا ہے، امریکہ بھی اسے ناکام بنانے  کے لئے اتنا ہی زور لگا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پاکستان  کی طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا التفات اگر ایک طرف   افغانستان میں قیام امن اور وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کے لئے اہم تھا تو اس کے ساتھ ہی سی پیک سے پاکستان کو بیزار کرنا اور  اس منصوبہ کی تکمیل میں  رکاوٹیں کھڑی کرنا بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ  رہا ہے۔ صدر ٹرمپ البتہ بلند بانگ دعوے کرنے اور عمران خان کی توصیف میں رائی کا پہاڑ بنانے کے باوجود  بھارت کے ساتھ معاملات کروانے یا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال  بدلنے میں کوئی فوری، مؤثر اور  قابل ذکر کردار ادا نہیں کرسکے۔   تاہم  امریکہ کے علاوہ  درپردہ  متعدد ممالک اس مسئلہ پر تصادم کو روکنے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کی مفاہمت کے لئے کوشش کرتے رہے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم اگرچہ  سی پیک کو بچانے  کے لئے صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے وزیر اعظم ہاؤس میں ’سی  پیک اتھارٹی‘ کے قیام کا فیصلہ  لے کر چین کے دورے پر پہنچے تھے تو  اس دورہ کا  دوسرا اہم مقصد ملکی معیشت میں چینی سرمایہ کاری کو بحال کروانا  بھی تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں سی پیک منصوبوں  کے لئے  سرمایہ کاری  نہایت سست روی کا شکار ہوئی ہے جس نے ملک میں معاشی احیا کی رفتار کو سست بھی کیا ہے اور بے یقینی میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔ تاہم اس موقع پر کشمیر کا مسئلہ بھی ایجنڈا کا اہم حصہ تھا۔ خاص طور سے   کشمیر میں بھارتی اقدامات  کے بارے میں پاک چین اتفاق رائے کو  دو روز بعد  چینی صدر ژی جن پنگ کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ہونے والی  ملاقات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔  چینی صدر اہم معاشی ، سیاسی اور سیکورٹی کے مسائل پر بھارتی وزیر اعظم سے جمعہ کو بھارت کے شہر چینائی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔  مقبوضہ کشمیر  کے بارے  میں 5 اگست کو کئے گئے بھارتی فیصلہ کے بارے میں چین کو لداخ کے حوالے سے تحفظات ہیں جن کا اظہار بھی سامنے آچکا ہے۔ دوسرے   سی پیک سے جڑے مفادات کی وجہ سے بھی چین کسی حد تک پاکستان کی پریشانی سے بھارتی وزیر اعظم کو مطلع کرنے پر مجبور ہوگا۔

اس دوران خبر آئی ہے کہ  وزیر اعظم عمران خان  چین سے واپس آکر سعودی عرب کے دورہ پر جائیں گے جہاں ان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوگی۔  خبر میں  بتایا گیا ہے  یہ ملاقات کشمیر پر پاک بھارت تنازعہ کے   کے حوالے سے  اہم ہوگی۔   عمران خان گزشتہ ماہ اقوام متحدہ جانے سے پہلے دو روز کے لئے سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے۔ ان کا اقوام متحدہ  کا دورہ خالصتاً کشمیر کے معاملہ پر پاکستانی مؤقف کو  دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔ اس لئے اس قیاس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس دورہ کے دوران  بھی پاکستانی وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد سے کشمیر کے معاملہ پر مصالحت  کے لئے کہا ہو۔ اب پاکستانی وزیر اعظم  اگر  چند ہفتے بعد ہی پھر سعودی عرب جاتے ہیں تو کشمیر کا معاملہ  ہی اس دورہ کا بنیادی مقصد ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف امریکہ کا قریب ترین حلیف ہے تو دوسری طرف بھارت میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی وجہ سے شہزادہ محمد بن سلمان کو بھارتی  قیادت پر اثر و رسوخ حاصل ہے۔

اس ساری سرگرمی میں کشمیر کو بنیادی اہمیت ضرور حاصل ہے لیکن یہ سوال ہنوز تشنہ جواب ہے کہ  پاکستان  اس بھاگ دوڑ سے  جنگ سے  ’تحفظ‘ کے علاوہ کیا حاصل کرسکتا ہے؟ یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ  بھارت کی طرف سے پاکستانی قیادت سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ  بھارتی لیڈروں کے بارے میں اپنا تند و تیز لب و لہجہ تبدیل کرلے تو مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں نرم کی جاسکتی ہیں۔ لیکن  یہ  بات اپنی جگہ اہم رہے گی  کہ کیا  مودی حکومت  پاکستان کو اس کا سفارتی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گی۔

ایک طرف وزیر اعظم  عمران خان بھارت کے ساتھ  کسی نہ کسی  ’مفاہمت‘ کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں تاکہ  ان کا کشمیریوں کے سفیر ہونے کا    امیج بھی بحال رہے اور دونوں ملکوں کے درمیان  تصادم کا امکان بھی کم ہوسکے۔   تو دوسری طرف مولانا فضل الرحمان  نے اپنا آزادی مارچ کشمیر یوں کے یوم سیاہ کی وجہ سے  چار روز  کے لئے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اس لحاظ سے اہم ہے کہ مولانا نے گزشتہ ہفتے کے دوران  آزادی مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا  تھا کہ وہ کشمیریوں  کے  ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے  27 اکتوبر کو مارچ شروع کریں گے۔ اور آج کے بیان  میں  بھی کشمیریوں سے  ’اظہار یکجہتی‘ کو  ہی عذر بنا کر  27 اکتوبر کو آزادی مارچ کی بجائے کشمیر کایوم سیاہ  منانے کا اعلان کیا  گیا ہے۔ گویا کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

مولانا فضل الرحمان کو ان کے سیاسی دشمن بھی  ایسا زیرک اور ہوشیار سیاست دان سمجھتے ہیں جو غیر ضروری خطرہ مول نہیں لیتے ۔ انہوں نے  اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی  کی بالواسطہ مخالفت کے باوجود   تن تنہا آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مبصر یہ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس  کی کیا حکمت ہے اور مولانا کو حکومت مخالف تحریک کے لئے درحقیقت کن حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ اب کشمیر کے  سوال پر اس مارچ کو مؤخر کرنے کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ مولانا نے ضرور اس معاملہ پر  بعض طاقت ور حلقوں  سے رابطے میں ہوں گے۔  گویا عمران خان ہو ں یا مولانا فضل الرحمان، پاکستانی حکومت ہو یا کوئی سیاسی پارٹی، ان کی سیاسی چال بازی میں  کشمیر کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔

یہ بات  غیر واضح ہے  کہ   کشمیر کے سوال پر سیاست کرتے ہوئے کس  کا ،کون سا اعلان اور کون سا فیصلہ  اس کی  سیاسی اہمیت میں کمی بیشی کرے گا۔   البتہ  یہ واضح ہورہا ہے کہ  چینی صدر سے مشاورت ،  سعودی ولی عہد سے سفارتی امداد سے لے کر آزادی مارچ  تک کے فیصلوں  میں ایک ہی کی سوچ اور قوت کارفرما ہے۔  اس ساری  سیاسی و سفارتی مشقت میں نہ  کشمیر کی آزادی بنیادی اہمیت رکھتی اور نہ پاکستانی عوام کا حق انتخاب ۔

loading...