سر باجوہ سیٹھوں سے ذرا بچ کے

خبروں میں سنا ہے کہ کوئی پھٹ پڑا، کوئی رو پڑا، کسی نے دہائی دی، کسی نے نیب کی شکایت کی، تو کسی نے اپنی ناقدری کا رونا رویا، کسی نے زندگی کی بےثباتی کی شکایت کی۔

پاکستان کے سب سے بڑے سیٹھوں نے سپہ سالار جنرل باجوہ سے ملاقات میں ’یہ جینا بھی کوئی جینا ہے‘ ٹائپ کا ماحول بنا دیا۔ یہ سپہ سالار کا ہی کمال ہے کہ وہ صبح لائن آف کنٹرول پر پہرہ دے لیتے ہیں، دوپہر کو ایک نئے ڈی ایچ اے کا افتتاح کرتے ہیں اور رات کو پانچ گھنٹے بیٹھ کر پاکستان کے سب سے بڑے سیٹھوں کے دکھی دلوں کا مداوا بھی کرتے ہیں۔ لیکن سر باجوہ سیٹھوں سے ذرا بچ کے۔

آپ کی میٹنگ میں بیٹھے ہوئے ہر سیٹھ کی دولت کا اندازہ لگائیں کوئی ارب پتی، کوئی کھرب پتی، کوئی مہا کھرب پتی مگر ہر کوئی رو رہا ہے، پھٹ رہا ہے، آپ کی تسلی کا خواہاں ہے۔ اس میٹنگ سے باہر ایک قوم ہے جو بلک رہی ہے، بجلی کے بل بھرنے کے لیے تین تین نوکریاں کرنے پر مجبور ہے۔ ڈھائی کروڑ بچہ ہے جو کسی سکول کی شکل نہیں دیکھے گا۔

خبروں میں رپورٹ نہیں ہوا لیکن سر باجوہ نے ہلکی سی ڈانٹ تو پلائی ہو گی کہ اس ملک سے اتنا پیسہ بنایا پھر بھی رو رہے ہو، پھٹ رہے ہو۔ اگر پھٹنا ہی ہے تو ذرا دور جا کر پھٹو۔ میری ٹریننگ فوجی ہے اور میں پھٹنے والی چیزوں سے نمٹنا جانتا ہوں۔

سیاست دانوں سے آپ کا اصل مقابلہ نہیں، ان سیٹھوں سے ہے۔ سیاست دانوں کا بندوبست کچھ آپ نے کر دیا، کچھ سر سے پاؤں تک احتساب کرنے والی نیب نے اور کچھ عوام نے لیکن ان سیٹھوں کو کب تک گلے لگائے رکھنا ہے۔ ہمارے دوسرے سب سے بہادر سپہ سالار راحیل شریف کو 70، 80 ایکڑ زمین ملتی ہے تو شور مچتا ہے۔ آپ نے کبھی سیٹھوں کی جائیدادوں کا حساب کیا ہے۔ ایک سیٹھ کے بارے میں سنا تھا کہ اس کے گھر میں اپنا پیٹرول پمپ ہے۔

ایک دفعہ جانے کا موقع ملا تو گھر اتنا بڑا تھا کہ لگا کہ میری گاڑی میں پیٹرول ختم ہو سکتا ہے۔ ایک اور سیٹھ کے ڈرائیور نے بتایا کہ 18 گھنٹے لینڈ کروزر پر ڈیوٹی کرتا ہوں لیکن کھانے کے وقت دو کے بعد تیسری روٹی مانگوں تو سیٹھ کہتا ہے جاؤ اپنی خرید کر کھاؤ۔ کہیں پر یہ پڑھا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن جو کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح و بہبود کا ادارہ ہے ملک کا دوسرا بڑا بزنس گروپ ہے۔ یہ ان سیٹھوں کی ہی کارستانی ہے کہ دنیا کی ایک نمبر فوج کاروبار کے میدان میں ابھی تک دوسرے نمبر پر ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ میٹنگ میں رونے والے سیٹھ ملک ریاض تھے جنھوں نے کہا کہ انھوں نے سپریم کورٹ سے وعدہ کیا ہے کہ 487 ارب روپے جمع کراؤں گا لیکن پھر بھی نیب نوٹس بھیج رہی ہے۔  کوئی پوچھے کہ اتنا پیسہ آیا کہاں سے۔ سیدھی سی بات ہے پاک بحریہ کا نام چرایا، اب پورے پاکستان میں بیچتے ہیں۔ ہماری بحریہ نے نام واپس لینے کی کتنی کوشش کی لیکن کہیں شنوائی نہ ہوئی یہ پاک فوج کے گھر سے چوری کر کے بھاگنے والا سیٹھ اب پاک فوج سے مقابلہ کرتا ہے اور روتا بھی ہے۔

جہاں ڈی ایچ اے پہنچتی ہے اس سے بڑا پروجیکٹ اس کے سامنے لا کر کھڑا کر دیتا ہے لیکن جہاں تک مجھے علم ہے کوئٹہ میں ڈی ایچ اے بنا کر ہم نے اسے ایک چھوٹی سی شکست فاش دی ہے۔ لیکن سپہ سالار ایک مثبت سوچ کے حامی ہیں اور مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں اس لیے انھوں نے سیٹھوں کے مسائل کے حل کے لیے فوجی افسران کی ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عام طور پر فوجی افسران ریٹائرڈ ہونے کے بعد ان سیٹھوں کے پاس نوکری کی تلاش میں جاتے ہیں۔ اس وقت تک دیر ہو چکی ہوتی ہے اب حاضر سروس افسر سیٹھوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو ظاہر کچھ سیکھیں گے اور سکھائیں گے۔  لیکن دل میں شک سا ہے کہ ہمارے افسر بہادر ہیں لیکن سادہ دل بھی ہیں۔ اگر ہمارا کرنل چار ایم بی اے بھی کر لے تو یہ سمجھ نہیں پائے گا کہ آخر کریم ڈھیڈی کا دھندہ ہے کیا۔

چونکہ سپہ سالار منصف مزاج بھی ہیں تو اب انھیں چاہیے کہ 30، 35 مزدور، محنت کش افراد کو بلا کر ان سے بھی ایک میٹنگ کریں، تھوڑی تسلی دیں۔ غریبوں کی دعاؤں میں زیادہ اثر ہوتا ہے اور یہ دعائیں ایکسٹینشن کے تین سالوں میں کام آئیں گی۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...