فوج اور حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی تاجر بےیقینی کا شکار

  • بدھ 09 / اکتوبر / 2019
  • 700

پاکستان میں حکومت کی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں سرمایہ کار طبقے میں بےچینی پائی جاتی ہے تو وہی تاجر برادری بھی سراپا احتجاج ہے۔

پاکستان میں تاجروں کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان انجمن تاجران رواں ہفتے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا رخ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے دفتر کی جانب ہو گا۔  تاجروں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کی غرض سے حال ہی میں کیے جانے والے حکومتی فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔ تاہم حکومت بضد ہے کہ وہ کاروبار کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کی غرض سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے فیصلے سے واپس نہیں ہٹے گی۔

حکومت کا کہنا ہے ایسے اقدامت کا مقصد تاجران کی اس بڑی تعداد کو رجسٹر کرنا ہے جو ٹیکس کے دائرہ کار سے تاحال باہر ہیں تاکہ مجموعی طور پر صنعت کے شعبے پر لاگو ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ایک جانب تاجر اجتجاج کر رہے ہیں تو دوسری جانب ملک کے چند بڑے کارخانہ داروں اور کاروباری افراد کے ایک وفد نے اپنے تحفظات پر پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔  اس کے علاوہ ملک کی بڑی صنعتی اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

آرمی چیف سے ملاقات میں وفاقی وزیر برائے معاشی امور حماد اظہر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی، اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں موجود چند کاروباری شخصیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انہیں حکومتی عہدیداروں کو اپنے مسائل بتانے کا موقع ملا اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے معلومات ملیں۔‘ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں فوج کے سربراہ کی جانب سے کاروباری شخصیات کو حالات میں بہتری کی یقین دہانی کروائی گئی تاہم ایسی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان کا کارخانہ دار اور تاجر بےچین اور بےیقینی کا شکار ہے اور احتجاج کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔

اس صورتحال کے حوالے سے بی بی سی نے تاجران کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران کے علاوہ ان کاروباری شخصیات سے بات کی جو آرمی چیف سے ملاقات میں بھی موجود تھے۔ زبیر طفیل بڑے کارخانہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر ہیں۔  وہ آرمی چیف سے ملاقات کرنے والے وفد کا بھی حصہ تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’کارخانہ داروں کا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صنعت کے تمام شعبوں پر اس کے اثرات پڑ رہے ہیں جن میں کاریں بنانے اور الیکٹرونکس کی مصنوعات بنانے کی صنعتوں کو زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔ زبیر طفیل کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل تک گاڑیاں کئی مہینے پہلے سے آرڈر کی جاتی تھیں اور پھر بھی قیمت سے زیادہ پیسے دے کر خریدی جاتی تھیں۔ ’اب تقریباً دو ماہ سے ایسا ہو گیا ہے کہ گاڑیوں کی پیداوار پچاس فیصد کم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہے اور کچھ ٹیکس کے قوانین سخت ہو گئے ہیں۔ اس طرح کاروں کی مانگ میں کمی ہوئی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ ایسا ہی رہے گا تو صرف کاروں کی صنعت سے حکومت کو 40 ارب کا منافع کم آئے گا۔‘

رواں مالی سال میں ایف بی آر کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق کسی بھی قسم کے کاروباری حضرات کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ہر اس خریدار کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ رکھیں گے جو ان سے پچاس ہزار روپے یا اس سے زائد مالیت کا سامان خریدتا ہے۔ زبیر طفیل کے مطابق اس شرط سے تاجر کے ساتھ ساتھ کارخانہ دار کو بھی مسئلہ ہو رہا ہے۔  ’ہر خریدار شناختی کارڈ نہیں دینا چاہتا۔ اس طرح صنعت کاروں کا مال فیکٹریوں میں جمع ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے انہیں کیش فلو کا مسئلہ ہو رہا ہے۔‘

اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی ملک کی معروف کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا کاروبار کارخانہ داری سے لے کر ٹیلی کام کے شعبے میں خدمات تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ بھی زبیر طفیل سے اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کارخانہ دار کو کوئی مسئلہ تو ہوگا جس کی وجہ سے وہ شور کر رہا ہے۔ ہر خریدار کارڈ دکھانا نہیں چاہتا اور ہو سکتا ہے کارخانہ دار بھی اتنی پیداوار دکھانا نہیں چاہتا جتنی وہ کر رہا ہے۔‘

زبیر طفیل کا کہنا تھا کہ برآمدات کے ساتھ منسلک کارخانہ داروں کو زیادہ مسئلہ نہیں تاہم اس سے منسلک تاجروں کے ریفنڈز کی ادائیگی ایف بی آر کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ اور کچھ جگہوں پر ایک سال سے نہیں کی گئی۔ زبیر طفیل کے مطابق آرمی چیف کی موجودگی میں حکومتی اور نجی شعبے کے درمیان ملاقات میں سرمایہ کاروں نے ایک شکایت یہ بھی سامنے رکھی کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب ان کو تنگ کر رہا تھا۔  ’اب طے یہ پایا ہے کہ نیب سرمایہ کاروں کو ٹیکس کے کسی بھی قسم کے معملات پر تنگ نہیں کرے گا۔ یہ کام ایف بی آر کرے گا اور یہ ہے بھی اسی کا کام۔‘

نیب کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی شکایات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’گزشتہ ایک برس کے دوران کرپشن کے خاتمے کے نام پر پانچ پانچ دس دس لاکھ کے کیسوں کے لیے بھی سرمایہ کار کو تنگ کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔‘ سرمایہ کاروں کو نیب کے دفتر بلایا جاتا تھا اور نیب کے پاس لامحدود اختیارات ہیں۔ تو اس سے تنگ آ کر سرمایہ کار اور کاروباری شعبہ ایک ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری ہی نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ سے نوکریوں میں کمی ہو گئی اور دیگر مسائل پیدا ہوئے تھے۔

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اس ملاقات کے بعد چھ اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کا محکمہ ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات کو واپس لے رہا ہے اور آئندہ ٹیکس سے متعلق کسی مقدمے کی تحقیق نہیں کرے گا۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ٹیکس سے متعلقہ مقدمات کو واپس لینے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اب نیب کا ادارہ ٹیکس سے مقدمات کی تحقیق نہں کرے گا اور اگر کوئی کیس نیب کے نوٹس میں آیا تو اسے بورڈ آف ریونیو کو بھیج دیا جائے گا۔

عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق ’پاکستان میں بنیادی طور پر مسئلہ یہ بھی ہے کہ تاجر ہر حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اسے بڑی بڑی چھوٹ دے گی۔‘  تاہم جب پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت آئی تو ’اس کو کئی کام اور مشکل فیصلے ایک ساتھ کرنا پڑے جس کی وجہ سے معیشت میں پیسہ کم ہو گیا اور وہ سست ہو گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کرنا تھی اور اسے آمدن میں خسارے کا بھی سامنا تھا۔ اس کے لیے اسے شرح سود بھی بڑھانا پڑی اور ڈالر بھی مہنگا ہوا۔ اسی طرح بجلی بھی مہنگی ہوئی کیونکہ اس پر دی جانی والی چھوٹ حکومت نہیں اٹھا سکتی تھی۔

عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ شرح سود بڑھانے کی ایک وجہ آئی ایم ایف پروگرام کے شرائط بھی ہیں اور ’وہ جائز شرائط ہیں جو آپ کو کرنا پڑیں گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ارمی چیف سے ملاقات میں حکومت کے نمائندوں نے ہمیں تمام مسائل پر مطمئن کیا۔ ریفنڈ کا انہوں نے کہا ہم دے بھی چکے ہیں اور باقی جلد دے دیں گے۔ اسی طرح باقی معاملات میں انہوں نے ہمارے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔‘ عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ رواں ماہ میں حکومت اور تاجروں کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط پر بھی معاملات طے پا جائیں گے۔

علی جمیل ٹی پی ایل کور کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں وہ بھی عقیل کریم ڈھیڈی اور زبیر طفیل کے ہمراہ ملاقات میں شامل تھے۔  ان کے خیال میں کسی بھی کاروباری شخص کے لیے سب سے بڑا مسئلہ غیر یقینی کی صورتحال ہوتی ہے۔ ’جب ہم بجٹ بنا رہے ہوتے تھے تو ہمیں یہ نہیں یقین ہوتا تھا کہ کیا شرح سود یہی رہے گی یا نہیں، کیا مہنگائی بڑھے گی یا نہیں وغیرہ۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت نے تین چیزیں ایک ساتھ کر دیں جس میں شرح سود بڑھا دی، کرپشن کے خلاف کریک ڈاون اور پھر ریگولرائزیشن کا عمل شروع ہو گیا۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ تبدیلی کا عمل ہے جس میں سے ہر ایک کو گزرنا پڑتا ہے۔‘

ان کے خیال میں حکومت سے ملاقات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ’حکومت جو سمت اختیار کر رہی تھی وہ ہم تک صحیح طریقے تک پہنچ گئی۔ پہلے وہ شاید صحیح طریقے سے پہنچ نہیں رہی تھی۔‘

پرچون اور تھوک کا کام کرنے والے تاجروں کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ پچاس ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر قومی شناختی کارڈ کی شرط ان کے حکومت سے تنازع کی بنیادی وجہ نظر آتی ہے۔  تاجروں کی نمائندہ تنظیم کے ایک دھڑے آل پاکستان انجمن تاجران اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تاجر کو مسئلہ قومی شناختی کارڈ جمع کروانے سے نہیں ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی منطق کو سمجھتے ہیں کہ تاجر کو سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا مگر ان کے مطابق ساتھ ہی اس کو وہ رسیدیں سنبھال کر رکھنی ہوں گی اور ٹیکس ریٹرن بھرنا ہوں گے۔ اجمل بلوچ کے مطابق تاجر برادری کو اس طریقۂ کار سے مسئلہ ہے۔

انجمن تاجران لاہور رجسٹرڈ کے نائب صدر راجہ امجد حسین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کی مطابق پاکستان میں زیادہ تر کاروباری افراد تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور ان کے لیے یہ آسان کام نہیں۔ 'پاکستان میں زیادہ تر کاروبار کرنے والا یا سیٹھ پڑھا لکھا نہیں ہے۔ وہ اپنے باپ دادا کا کاروبار چلا رہا ہے اور اس کے لیے ٹیکس ریٹرن جیسے معاملات گمبھیر ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگوں نے کمپیوٹر تو رکھ لیا ہے مگر اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں۔'

ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل کہتے ہیں کہ تاجر کو مسئلہ یہ ہے کہ حکومت انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا چاہتی ہے اور وہ آنا نہیں چاہتے۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں ایک فِکسڈ ٹیکس دیا جائے یعنی چند ہزار روپے جو کہ حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

آل پاکستان انجمن تاجران اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ نے بتایا کہ ان کا حکومت سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ تاجر کی آمدن یا منافع پر جو بھی مناسب ٹیکس عائد کیا جائے وہ ایک ہی بار سالانہ کی بنیاد پر مقرر کر دیا جائے۔ ’ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں فکسڈ ٹیکس دو۔ ہمارے لیے ایک ٹیکس مقرر کر دو۔ یہ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کا طریقہ اس قدر مشکل ہے کہ ایف بی آر والوں کو خود بھی سمجھ نہ آئے۔ بیچارہ تاجر کیا کرے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ تاجر کو ٹیکس ادا کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ’بس اس کو یہ پتہ ہو کہ مثال کے طور پر اگر اس کا ایک کروڑ منافع ہے تو اس پر اسے ایک ہی مرتبہ اتنا جائز ٹیکس دینا ہے تو وہ جمع کروا دے گا۔‘

اجمل بلوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ 'حکومت اس قسم کے ضابطے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کی شرائط کے نتیجے میں لاگو کر رہی ہے۔' انہوں نے کہا کہ 'آئی ایم ایف کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کس ملک سے معاہدہ کر رہے ہیں۔ یہاں شرح خواندگی کیا ہے۔ یہاں یورپ کی طرح ہر ایک کاروباری شخص کمپیوٹر پر بیٹھ کر ریٹرن نہیں بھر سکتا۔'

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تاجروں کے بنیادی طور پر تین بڑے مسائل ہیں۔  شناختی کارڈ کی شرط کے علاوہ 'حکومت نے چھوٹے تاجر کو ٹیکس کے دائرہ میں لانے کے لیے فکسڈ یعنی مقررہ ٹیکس لانے کا کہا تھا مگر تاحال کیا نہیں۔' انہوں نے کہا کہ ’کاروبار میں افزائش کے لیے ضروری ہے کہ تاجر رجسٹرڈ ہو‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر یک دم کرنے کے بجائے یہ اقدامات ایک ایک کر کے کرتی تو زیادہ بہتر تھا۔

حکومت نے سب کچھ ایک ہی وقت میں کرنا چاہا جس کی وجہ سے کاروباری حلقوں میں بے چینی پھیلی اور کاروبار متاثر ہوئے۔ عرفان اقبال شیخ کا کہنا تھا کہ ساتھ ہی حکومت نے کالے دھن کا راستہ روکنے کے اقدامات کیے، احتساب کے ادارے نیب نے بھی کاروباری افراد سے پوچھ گچھ شروع کی اور کرپشن کے خلاف بھی ساتھ بھی محاذ کھول دیا گیا۔  'ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسا نہ کریں، ضرور کریں مگر ایسے اقدامات اگر باری باری کیے جاتے تو زیادہ بہتر تھا۔'

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...