ہمارا کیا بنے گا؟

معاملہ کچھ ’درد بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی‘ جیسا بنتا جا رہا ہے۔ عمران خان حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ تاثر ہر روز گہرا ہو رہا ہے کہ یہ حکومت ایک خود ساختہ بحران میں پھنس چکی ہے۔ صنعت کاروں کی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات نے انتہائی سنجیدہ آئینی معاملات اٹھائے ہیں۔

فوجی سربراہ کو ملکی صنعت کاروں کی طرف سے معیشت کو تباہی سے بچانے کی اپیل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں عملی طاقت راولپنڈی منتقل ہو چکی ہے۔ ویسے بھی عمران خان حکومت کی وفاقی کابینہ کی بیشتر وزارتیں پہلے ہی خاکی بیساکھیوں کی مدد سے چل رہی ہیں۔ وزرا یا تو نکمے ہیں اور محض جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے کو زندگی کی بہترین کامیابی سمجھتے ہیں یا پھر وفاقی حکومت سے عملاً جدا ہو کر وزارتیں چلا رہے ہیں۔

وزارت خارجہ اور خزانہ دونوں حکومت کے اندر حکومتیں بن چکی ہیں۔ وزارت اطلاعات، وزارت دفاع کی طرح باہر سے ہانکی جا رہی ہے۔ اسی طرح وہ تمام وزرا جو عمران خان کو مستعار دیے گئے تھے تاکہ وفاق میں حکومت کا ایک عمومی سا خاکہ قائم رہ سکے، کسی وقت بھی کھسک کر اِدھر اُدھر جا سکتے ہیں۔

اگر وزیراعظم عمران خان خارجہ، دفاع اور مالیاتی امور سے محض رسمی طور پر جڑے ہوئے ہیں تو آپ کو یہ سمجھ جانا چاہیے کہ ان کی حیثیت حقیقت میں اسلام آباد کے اُس میئر جیسی ہے جس نے سی ڈی اے سے 11 ہزار ملازمین تو حاصل کر لیے ہیں لیکن خواہ مخواہ کے بیانات دینے کے علاوہ اہم معاملات پر نہ تو ان کا بس چلتا ہے اور نہ ان کو اپنے کام کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ہے۔

چونکہ پاکستان اسلام آباد نہیں ہے لہذا اس کے امور کو چلانے کے لیے ڈھکوسلے بازی سے کام نہیں لیا جا سکتا، بالخصوص اگر تماشہ گری معیشت کو ڈبونے کا باعث بن رہی ہو۔ چونکہ پچھلے دو سال کے سیاسی ہنگامے کے بارے میں بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ اس کی جڑیں ملک کے معاشی مستقبل سے جڑی ہوئی ہیں لہذا معیشت کو چلانے والوں کی پنڈی میں چیخیں درجنوں سیاسی احتجاجوں پر حاوی ہیں۔

عمران خان کی حکومت صرف اپنی ناقص کارکردگی کے ہاتھوں ہی محصور نہیں ہوئی بلکہ بہت سے ایسے مفروضے غلط ثابت ہوئے ہیں جن کو بنیاد بنا کر عمران خان اور ان کی جماعت نے 2018 کے انتخابات سے پہلے اور حکومت میں آنے کے چند ماہ بعد تک من گھڑت امیدوں کی افزائش کی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام مفروضے دیمک خوردہ لکڑی کی طرح ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں۔

اس کی بہترین مثال ایف بی آر کے چیئرمین کی جانب سے جاری شدہ یہ بیان ہے کہ سو ارب کا وہ قیمتی خزانہ جو مبینہ طور پر بدعنوانی کے تھیلوں میں بھر کے سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں منتقل کیا گیا تھا حقیقت میں موجود ہی نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ گزشتہ 20 سالوں میں صرف چھ ارب ڈالر پاکستان سے باہر گئے اور وہ بھی قانونی طریقے سے، کسی دھماکے سے کم نہیں۔

سیاسی تجربہ گاہیں اور افواہوں کے بازار کرپشن کے الزامات کے تیل سے ہی تو چل رہے تھے۔ اب اگر بدعنوانی کا پیسہ ملک سے باہر گیا ہی نہیں یا اگر گیا ہے تو آٹے میں نمک کے برابر، تو ملک کو لوٹنے کی وہ تمام کہانیاں ایک دھوکے سے زیادہ کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ اب دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ عوام کی گردنیں مروڑنے کے باوجود ملک کی معیشت دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔ عوام کی دُہری کمریں مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔ خارجہ محاذ پر مسائل گھمبیر ہیں۔ دفاع کا منظر نامہ خطرناک چیلینجز سے پُر ہے۔ بے چینی اور آہ و زاری عروج پر ہے اور آئینی حدود کو پھلانگنے کی باتیں کھلے عام ہو رہی ہیں۔

اس تمام زخم خوردہ حالت میں بھی عمران حکومت خود کو اگر غیرمحفوظ نہیں سمجھتی تو اس کی واحد وجہ اس کے چلانے والوں کی یہ مجبوری ہے کہ اتنی تگ و دو کے بعد اس نظام کو بنانے کے بعد تبدیل کرنے کا بوجھ ان کے طاقتور کندھوں پر بھی آئے گا۔ شرمندگی اس کے علاوہ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس حکومت میں نئے پرزے ڈالنے یا ایک نئی ڈبّا فلم بنانے سے بھی سیاسی اور معاشی بحران کے حل کا کوئی واضح امکان بنتا ہوا نظر نہیں آتا۔

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر معاشی اعداد و شمار کا کھیل کھیلنا آسان ہے لیکن حقیقت کو تبدیل کرنا بہت مشکل۔ اگر عمران خان کی حکومت، جو ایک تجرباتی مادے کی پیدائش ہے، بھی ناکام ہے تو پھر مکمل فوجی مداخلت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ مگر پھر یہ مداخلت تمام تر بناوٹی عزم و استقلال کے باوجود ماضی کی مداخلتوں سے صرف زیادہ بھیانک نتائج پیدا کرنے میں ہی مختلف ہوگی۔ باقی سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسا ایوب، ضیا، یحییٰ اور مشرف ادوار میں ہوا۔

ظاہر ہے ماضی کی غلطیوں کو دہرا کر مستقبل میں بہتری کی صورت پیدا نہیں کی جا سکتی ہے۔ عمران خان حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ اور ملکی امور میں فوج کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ 2018 کے انتخابات کے بعد ناگزیر تھا۔ لیکن اس سے کیا ملک کی سمت درست ہوگی؟ اگر ملک کی تینوں بڑی جماعتیں اس نظام کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتیں اور تمام سیاسی قیادت بدعنوانی اور انتظامی نااہلی کے الزامات سے داغدار ہے تو پھر اس ملک کا سیاسی وارث کون ہے؟ کون عوام کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے؟ اور کس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرے؟ عمران حکومت اپنے گھمنڈ اور سیاسی تعصب کی قیمت چکا رہی ہے۔

جس ملک کا وزیراعظم نجی محفلوں میں بیٹھ کر تنقید کرنے والے صحافیوں پر ذاتی حملے کرے اور اس کے تحت چلنے والے انٹیلی جنس ادارے دن رات مخالفین کی جاسوسی پر مامور ہوں، وہ ملک میں بڑھتی ہوئی دوریاں کیسے کم کرسکتا ہے؟ نفرت اور بغض پر بنیاد کیے ہوئے سیاسی تسلط کی طویل العمری کی دعائیں کون مانگے گا؟ لیکن اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ عمرانی تجربے کے بعد ایک اور تجربہ ملک کی کامیابی کی ضمانت بن جائے گا تو اس کو حماقتوں کا بادشاہ قرار دینا بنتا ہے۔

عمران خان کی حکومت کو بنانے اور دھکے سے چلانے کا تجربہ صرف قانونی، آئینی اور اخلاقی طور پر ہی ضعیف نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے بھی ایک خطرناک حماقت ہے کہ اس تمام عمل نے ملک کو ایک سیاسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر عمران خان حکومت ایسے ہی چلتی رہتی ہے جیسے چل رہی ہے تو حالات کے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر اس کو ہٹا کر اس میں سے ہی کوئی نیا فارمولہ بنایا جاتا ہے تو وہ بھی باثمر ثابت نہیں ہوگا۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے سیاسی مصالحت کے دروازے اتنی مضبوطی سے بند کر دیے گئے ہیں کہ ان کو کھلتا دیکھ کر عوام یہ ضرور پوچھیں گے کہ اگر احتساب ایک ڈرامہ تھا تو پھر اس کے مصنف کو کیا ایسی سزا دی جائے کہ انصاف ہو سکے۔ نہ فوجی حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی صنعت کار روزانہ آرمی چیف کے سامنے جا کر انصاف کی زنجیر کو ہلا سکتے ہیں۔ نہ جلاؤ گھیراؤ  کی سیاست کی گنجائش ہے اور نہ ہی احتجاج کے بغیر نظام کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا غصہ ٹھنڈا ہو گا۔ نہ آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے۔ نہ اوپر نہ نیچے۔ سب کچھ ہوا میں معلق ہے۔

بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ عمران کی حکومت کا کیا بنے گا؟ بڑا سوال یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو بناتے ہوئے جو کچھ کیا گیا ہے اس کے بعد اس ملک کا کیا بنے گا؟ یہ کیسے چلے گا؟ ٹویٹس اور سیمیناروں سے؟

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...