سکڑتی معیشت اور سماجی و سیاسی بحران

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اس وقت کئی محاذوں پر نبر آزما ہے۔ سیاسی معاملات ہوں، نیب،اینٹی کرپشن، یا معاشی میدان، پی ٹی آئی کی قیادت اپنی انتظامی سیاسی اور معاشی نظریاتی تناظر میں مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہے۔

ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے سیاسی اور معاشی میدان میں صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ۔ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں۔چاروں صوبوں میں جہاں ایک طرف ترقیاتی کاموں کی رفتار سست روی کا شکار ہے وہیں صنعتوں کا برا حال ہے جن میں آٹو، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، کھاد، شوگر، زراعت اور دیگر دوسرے شعبے بحران سے دو چار ہیں۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہو رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے، ہماری ریاست بالخصوص عمران خان کی حکومت نے اشرافیہ کے مفادات کی خاطر نیو لبرل معاشی ایجنڈے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونا شروع کر دیا ہے اور زیادہ انحصار نجی شعبے پر کر رہی ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسی منصوبہ بندی یا روڈ میپ نہیں ہے جس سے وہ عوام کو ریلیف دے سکے۔ وہ بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم اور لنگر خانے قائم کر کے سستی شہرت حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ اس سے پہلے اس نے مرغیوں اور بکریوں کی تقسیم کے ذریعے غربت کو کم کرنے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صرف پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلے دور میں غریب طبقات کیلئے قانون سازی کی تھی۔  عمران خان کی حکومت کے پاس فلاحی ریاست کے حوالے سے کوئی روڈ میپ موجود نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی پنجاب صوبہ میں قائم حکومت بیڈ گورننس سے دو چار ہے۔ صوبے کی انتظامی مشینری اور اس کے درمیان بے اعتمادی کی فضا قائم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت انتخابات سے قبل کیے جانے والے اپنے وعدوں سے خود ہی انحراف کر رہی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ نعرے وعدے اور دعوے حقائق پر مبنی نہیں تھے بلکہ جھوٹے اور گمراہ کن ثابت ہوئے ہیں۔چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک گئی ہوئی رقم واپس نہیں لا سکتے  اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستانیوں کے100ارب ڈالر ملک سے باہر ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے۔ باہر جانے والا پندرہ سے بیس فیصد روپیہ کرپشن کا ہوتا ہے 50%دولت قانونی طریقہ سے بھجوائی گئی ہے۔

 گزشتہ 20برس سے پاکستان سے سالانہ چھ ارب ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے تھے۔ پاکستان کے ہر دولت مند کی جائیدادیں، اکاؤنٹس اور کاروبار بیرون ممالک میں ہے۔  وہاں پر ان کا سرمایہ محفوظ رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں امن عامہ کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں۔مختلف کاروباری طبقات کے نمائندوں اور ماہرین معیشت کے مطابق 1990کے بعد بہت زیادہ دولت  باہر گئی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کی وجہ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہے۔

 مسلم لیگ کی قیادت کرپشن کے الزامات میں جیل میں ہے جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔مسلم لیگی حکومت نے براہ راست ملک کی اکثریتی آبادی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ لہذا اس کو عوامی سٹریٹ پاور کی حمایت حاصل نہیں ہے۔جبکہ کاروباری طبقات نے کبھی بھی کسی احتجاجی عمل میں حصہ نہیں لیا۔ انہیں ہر صورت میں پاکستان میں ہی رہنا اور کاروبار کرنا ہے۔یہی صورتحال تحریک انصاف کے حامیوں کی ہے جو کہ موجودہ مالیاتی اور معاشی نظام کے حامی ہیں۔ وہ بھی کسی احتجاجی تحریک میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سڑکوں پر نہیں آسکتے۔  پی ٹی آئی کے حامی طبقات میں سرمایہ دار اور جاگیر دار شامل ہیں جو کہ پرانی اجارہ داریوں کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔

 مسلم لیگ ن کی حکومت نے کبھی کاروباری طبقات سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ اپنے ووٹ بینک کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔موجودہ حکومت نے جب ٹیکس کی وصولی کیلئے سخت اقدامات کرنے کی کوشش کی ہے تو تاجر برادری کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آئے ہیں۔مثلاً اس نے اپنے گاہکوں سے شناختی کارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے جنہوں نے فرمایا ہے کہ کاروباری حلقے اپوزیشن کے ساتھ تعاون نہ کریں تو ان کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔

تاجروں کا شکوہ ہے کہ حکومت کو اپنی جاری مالیاتی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسا فریم ورک بنانا چاہیے جس میں تمام اسٹیک ہولڈر بالخصوص تاجروں اور صنعتکاروں کو شامل کیا جائے۔  کیونکہ وہ بھی حکومتی اقتصادی پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس وقت سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بلند  شرح سود اور انڈسٹری کیلئے مہنگی بجلی اور گیس کے مسائل ہیں جس کی وجہ سے پیدا واری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں پنجاب کی نسبت صنعتکاروں کو سستی بجلی مل رہی ہے۔ حکومت سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو ریلیف دینے کے بارے میں یقین دلایا ہے جبکہ چیئر مین نیب جاوید اقبال نے صنعت کاروں اور تاجروں کے خلاف کیسوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے معاملات ایف بی آر طے کرے گا جس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ نیب قوانین کا مقصدصرف  حکومت مخالف سیاستدانوں ڈرانا تھا۔

پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں ٹریکل ڈاؤن اکانومی کا تاثر ابھارا گیا تھا جس سے مراد یہ تھا کہ جب ملک کے دولت مند افراد کے  خزانے بھر جائیں گے تو ان کے تجوریاں over flowہونے سے ٹپک ٹپک کر نیچے گرنا شروع ہو جائیں گی۔ جس سے عوام فیض یاب ہوں گے۔مگر یاد رہے سرمایہ داری نظام میں ایسی کوئی گجائش موجود نہیں ہے کہ امیر طبقات اپنے منافع کو غریبوں یا ریاست کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کریں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے ٹریکل ڈاؤن اکانومی کو ایک فریب قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ پہلے سوشلسٹ نظام اور اب سوشل ڈیمو کریسی میں قانون سازی کے ذریعے سرمایہ داروں سے زیادہ ٹیکس وصول کر کے اس کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں فلاحی ریاست کا کوئی تصور موجو د نہیں ہے۔

 ہمارے ہاں مہنگائی سے جہاں قوت خرید میں کمی ہوئی ہے وہاں بچت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف جیسے ادارے حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مانیٹرنگ ڈسپلن قائم کرے۔ شرح سود شرح مہنگائی سے کم ہوتا ہے۔ اس میں اضافے سے قرضوں کے ڈیفالٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔  مہنگائی کی شرح میں اضافہ جہاں ایک طرف قوت خرید کم کر دیتا ہے تو دوسری طرف صنعتی سر گرمیاں شرح سود میں اضافے سے کم ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں قومی پیدا وار کم ہوتی ہے۔ مہنگائی ایسا فیکٹر ہے جس سے معیشت دانوں کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔حکومت اگر یوٹیلٹی بل میں اضافے کا بل عوام پر نہ ڈالے تو مہنگائی کی شرح میں اتنا اضافہ نہ ہو۔

پچھلے ماہ گیس کی قیمتوں میں 115%پیٹرول22%اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12%اضافہ ہوا ہے جس سے مہنگائی تیزی سے بڑھی ہے۔ یاد رہے حکومت تیل اور گیس کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق طے نہیں کر رہی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا ہے۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے موجودہ زبوں حال معیشت میں اس کی پالیسیاں سارے میکرو اکنامک سٹکچر کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کو بہتر اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ ساری معیشت دھڑم سے نیچے آ گرے گی۔

loading...