میں بھی چین کی طرح 500 بدعنوان لوگوں کو جیل میں ڈالنا چاہتا ہوں: عمران خان

  • منگل 08 / اکتوبر / 2019
  • 290

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی مثال پر عمل کرسکتے اور پاکستان میں 500 کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال دیتے۔

بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چائنہ کونسل میں پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چین کے 70 ویں قومی دن پر چینی عوام کو مبارک بات دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ چین نے کس طرح جدوجہد کی اور اپنی غلطیوں سے سیکھا اور آج چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سے ایک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے ایک وقت میں پاکستان سے سیکھا تھا لیکن اب وقت ہے کہ پاکستان، چین سے سیکھے۔ ذاتی طور پر مجھے جس چیز نے چین سے متاثر کیا وہ 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا تھا۔ یہ انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے کاروبار کو دولت بنانے کی اجازت دی، انہوں نے اپنے خصوصی اقتصادی زونز، برآمدات پر توجہ دی۔ باہر سے سرمایہ کاری آئی اور دولت بنائی جسے معاشرے کے غریب طبقے پر خرچ کیا گیا۔ ہم بھی پاکستان میں اسی طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چین سے میں نے دوسری چیز جو سیکھی وہ بدعنوانی سے نمٹنا تھا۔ صدر شی جن پنگ کی سب سے بڑی جنگ کرپشن کے خلاف ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں انہوں نے وزارتوں کی سطح کے تقریباً 400 لوگوں کو کرپشن پر سزا دی اور جیلوں میں ڈالا۔ جبکہ میں نے اخبارات میں پڑھا کہ ایک چینی میئر کے گھر سے کئی ٹن سونا برآمد ہوا اور 5 روز میں اس کو سزا دی گئی۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ 'کاش میں صدر شی جن پنگ کی مثال پر عمل کرپاتا اور پاکستان میں500 کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال دیتا'۔ تاہم وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ عمل 'بہت پیچیدہ' ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن سرمایہ کاری کو روک دیتی ہے۔ کرپشن ملک میں آنے والی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب سے ان کی حکومت اقتدار میں آئی انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ لوگ پاکستان میں منافع کمائیں۔ وزیراعظم آفس ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اب ہم نے سی پیک اتھارٹی قائم کی ہے تاکہ سی پیک کے مسائل کو ایک جگہ سے دیکھا جائے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے گوادر فری زون کے فیز ون کی تکمل سمیت مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ وقت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 'یہ پاکستان میں ایک بہترین وقت ہے کیونکہ ہم نے اپنے ملک کو کاروبار کے لیے کھول دیا ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ آئیں اور سرمایہ کاری کریں کیونکہ ہم نے پاکستان میں ذہنیت کو تبدیل کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کاروبار آئے اور رقم بنے۔

وزیراعظم نے بیجنگ میں گریٹ ہال آف پیپل کا بھی دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال چینی ہم منصب نے کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق گریٹ ہال میں آمد کے موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ افتتاحی تقریب میں پاکستان اور چین دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

وزیراعظم عمران خان اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد کے ہمراہ چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے۔ دفتر خارجہ کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ بیجنگ پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال چین کے وزیر ثقافت لیو شوگینگ، پاکستان کے لیے چین کے سفیر یاؤ جنگ اور چین کے لیے پاکستانی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کیا۔

loading...