کیا فوج ہر صورت حکومت کی حمایت میں ڈٹی رہے گی؟

ملک کی سیاسی صورت حال مسلسل دگرگوں ہورہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان  کی طرف سے اس ماہ کے آخر میں ’آزادی مارچ‘ شروع کرنے کے اعلان کے بعد  سے حکومت کے نمائیندوں اور تحریک انصاف کے حامیوں نے جس بدحواسی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ دعوؤں کے برعکس حکومت کو اس مارچ سے حقیقی اندیشہ اور خطرہ محسوس ہورہا ہے۔

حکومت کی بدحواسی اور پریشانی کا اشارہ  سب سے پہلے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے دیا تھا جنہوں نے   دھمکی نما لہجے میں خبردار کیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر فوج بھی بلوائی جاسکتی ہے۔ صرف بیانات کی حد تک  تحریک شروع  کرنے کے اعلان کے بعد  فوج بلانے اور جمیعت علمائے اسلام کے ہر سطح کے لیڈروں کو گرفتار کرنے کی  گفتگو سے  حکومت دراصل اپنے خوف کا اظہار کررہی ہے۔  لیکن اسے  دھمکیوں  کے غلاف میں چھپانا بھی چاہتی ہے۔  گزشتہ روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے جمیعت علمائے اسلام  کا ایک  ’ہدایت نامہ برائے  دھرنا‘   عام کیا گیا ہے جس میں لواطت کے لئے امیر کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ اس فقرہ کو پڑھنے والا کوئی بھی باشعور شخص اس  سرکولر کے جعلی ہونے کا یقین کرلے گا تاہم تحریک انصاف کے حامی اس بات پر خوشی منا رہے ہیں کہ اب مولانا فضل الرحمان  اور ان کے ساتھیوں کو  ہر موقع پر   اس ’ہدایت نامہ ‘ کی وضاحت کرنا ہوگی اور ان سے مختلف طریقے سے اس بارے میں سوال پوچھے جائیں گے، جس سے ان کی سبکی ہوگی اور عزت خاک میں مل جائے گی۔

ہوسکتا ہے کہ یہ جعلی ہدایت نامہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا گروپ نے  تیار  نہ کیا ہو لیکن اسے پھیلانے میں ان کی سرگرمی و مستعدی   سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس پر طرح طرح کے تبصروں سے  ایک خاص طرح کا ماحول  پیدا کرنے اور  فریق مخالف کو بدحواس کرنے کا لطف لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس طرح حکمران جماعت کے حامی اور کارکن  کم از کم یہ واضح کرنے  میں کامیاب ہورہے ہیں کہ وہ جس نئے پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور جس کی امید دلا کر لوگوں کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا گیا تھا، اس کے اجزائے ترکیبی میں پرانی سیاست کے تمام عناصر کو بدترین  شکل میں برتنے کا چلن عام کیا گیا ہے۔  سیاسی ماحول میں اخلاقی گراوٹ  کا مظاہرہ کرتے ہوئے وضع داری کی روایت  کا جنازہ نکالنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں مولانا فضل الرحمان کے فیصلہ سے  وسیع تر اختلاف موجود ہے۔ ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور نظام کی حفاظت کی خواہش رکھنے والے عناصر،   احتجاج کے اس طریقہ کو نامناسب اور خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اس کے کامیاب یا ناکام ہونے ، دونوں صورتوں میں انہی  غیر جمہوری طاقتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا جو ملک میں جمہوریت کے نام  پر  غیر جمہوری نظام نافذ کرنے کا سبب بنی رہی ہیں۔  مولانا فضل الرحمان کا احتجاج کامیاب ہونے کا کوئی آسان فارمولا موجود نہیں  ہے۔ حکومت کسی قسم کی مفاہمت یا  اپوزیشن کے اعتراضات کو رفع کرنا  ضروری نہیں سمجھتی ۔ اس کا خیال ہے کہ ملک کے ادارے  (جن میں عسکری اداروں کے علاوہ، عدالتی اور احتساب کے ادارے بھی شامل ہیں) اس کے ساتھ ہیں۔ ایسے میں اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں  ہے۔ حالانکہ بات  انتظامی پریشانی کی نہیں بلکہ ملک کے جمہوری نظام میں اختلافی آوازوں کے  لئے گنجائش پیدا کرنے اور مخالفین کو احترام  دینے سے متعلق ہے۔

حکومت اگر جمیعت علمائے اسلام اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مروت اور سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سرکاری ٹیم  معاملات طے کرنے، ان کی شکایات سننے او رانہیں دور کرنے کا وعدہ کرے۔ اور انہیں یہ بتایا جائے کہ اس وقت احتجاج سے صرف تحریک انصاف کی حکومت کو ہی نہیں  نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ معاشی انحطاط کی موجودہ صورت حال میں اس  کا ملکی  معیشت پر بھی منفی اثر مرتب ہوگا جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ملک کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال، بھارت  کی ہٹ دھرمی اور ایل او سی پر تصادم  کی وجہ سے سرحدوں کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں پوری قوم کو یک جان ہونے اور مل کر دشمن اور مسائل کا سامنا کرنا چاہئے۔  تاہم حکومت اس حکمت عملی کو اپنی ہتک سمجھتی ہے اور مولانا کے احتجاج کو سیاسی ناراضگی سمجھنے کی بجائے، کرپشن کو تحفظ دینے کا طریقہ بتا کر  سیاسی ماحول  کی تلخی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

گو کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کئی لاکھ لوگوں کے ساتھ  اسلام آباد پہنچیں گے اور بعض مبصر ایک لاکھ  کے لگ بھگ اجتماع کی خبر لارہے ہیں  لیکن اگر جمیعت علمائے اسلام  دس سے بیس ہزار کارکن بھی اسلام آباد میں جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی  تو حکومت   اس صورت حال سے نمٹنے میں  کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ ایسی صورت میں    ماضی کی روایت کے مطابق  عسکری اداروں کو حکومت کے حق یا مخالفت میں مداخلت پر مجبور ہونا پڑے گا۔  کسی کمزور سول حکومت کے لئے یہ کہنا آسان ہے کہ امن و امان کی خراب صورت حال میں فوج کو تعینات کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی قیمت  بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔  اس کے  نتیجہ میں حکومت کو مستعفی بھی ہونا پڑ سکتا ہے اور انتہائی صورت میں براہ راست فوجی مداخلت کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں صورتیں حکومت کے علاوہ جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہیں۔

ملک کے بیشتر سیاسی مسائل کی بنیاد یہی  ہے کہ سیاست دان آپس میں مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے، ایک دوسرے کو قبول کرنے اور  مل جل کر آگے بڑھنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تو اپنے رویہ میں اس قدر سختی پیدا کی ہے کہ  اس   نے کشمیر جیسے  معاملہ پر   پیدا  ہونے والی صورت حال سے نمٹنے  لئے بھی قومی اتفاق رائے پیدا  کرنے کی ضرورت محسوس نہیں  کی۔   نہ ہی معاشی  بے چینی، سرمایہ داروں کی پریشانی اور تاجروں کی شکایات    کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر حل کرنے کے کسی منصوبہ کو شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اس کے برعکس  عمران خان نے  قومی ترقیاتی کونسل  قائم کرتے ہوئے اس میں آرمی چیف کو  شامل کیا ۔ اس طرح انہوں نے قوم کو درپیش معاشی، سیاسی، بین الصوبائی امور اور دیگر معاملات  کو پارلیمنٹ یا دیگر جمہوری فورمز پر حل کرنے کی بجائے،   ان امور پر فیصلے کرنے  کے لئے  فوج کو براہ راست شراکت دار بنالیا۔  اب وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں  کہ حکومت فوج کے ساتھ ہر معاملہ میں ’ایک پیج ‘ پر ہے۔ کشمیر پالیسی سے لے کر تاجروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے امور براہ راست فوج کی رہنمائی، ہدایت اور مداخلت سے طے ہورہے ہیں ، اس لئے حکومت کو  پریشان ہونے کی ضرورت نہیں  ہے۔

حکومت اور وزیر اعظم کے اسی رویہ کی وجہ سے ایک پارٹی کی طرف سے سیاسی احتجاج کے اعلان کو سیاسی طریقہ سے نمٹنے  کی بجائے  ، مخالفین کو دھمکیوں سے  مرعوب  کرنے اور طاقت سے دبانے کی بات کی جارہی ہے۔  ایسے میں  یہ بات اہم نہیں رہی کہ  مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ کس حد  تک درست ہے یا وہ پر امن احتجاج کرنے اور حکومت کو سیاسی فیصلے ماننے  پر کس حد تک مجبور کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔  کیوں کہ حکومت نے سیاسی مواصلت اور مصالحت کا دروازہ سختی سے بند کیا ہؤا ہے۔ اب یہ سوال اہم ہے کہ اگر مولانا چند ہزار مستقل مزاج  کارکن لے کر اسلام آباد پہنچنے اور کسی طرح کا دھرنا دینے ، لاک ڈاؤن کرنے اور امور مملکت میں خلل ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تو  اس حکومت کی پشت پر کھڑے طاقت ور اداروں کا رویہ کیا ہوگا۔ کیا فوج خاموشی سے حکومت کو جزو معطل بنتا دیکھتی رہے گی یا  وہ مظاہرین اور حکومت کے درمیان  کوئی راستہ بنانے کی کوشش کرے گی۔

سیاسی تصادم کو اس سطح پر آنے کا موقع دینا کہ اسے حل کرنے کے لئے فوج  کی گڈ ول یا اس کی طاقت پر انحصار کرنا پڑے،  جمہوری عمل کو غیر جمہوری قوتوں کے پاس گروی رکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس  کے نتیجہ میں حکومت  بھی کمزور ہوگی اور  جمہوری عمل  بھی نشانے پر ہو گا۔   اس چیلنج سے نمٹنے کے تمام آپشن اس وقت حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر وہ بدستور تکبر یا خوف کا مظاہرہ کرتی ہے اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا  آغاز کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ملک کو ایک نئے  طویل المدت سیاسی بحران کا سامنا کرنا ہوگا۔   معاشی، سفارتی و عسکری اندیشوں کے  موجودہ ماحول میں سیاسی بحران کو دعوت دینا کسی لحاظ سے دور اندیشی نہیں ہوسکتی۔

loading...